عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے جمعرات کو اسمبلی میں کہا کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (JDA) کی 16 ہزار کنال سے زائد اراضی اس وقت ناجائز قبضے میں ہے اور ان قبضوں کے خلاف مرحلہ وار اور وقت مقررہ کے مطابق بے دخلی مہم چلائی جا رہی ہے۔بی جے پی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ رینہ کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جے ڈی اے کے زیر انتظام کل اراضی 80,976 کنال اور 10 مرلہ ہے، جس میں سے 16,127 کنال اور 10 مرلہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے۔
عمر عبداللہ نے وضاحت کی کہ ان قبضوں کی نشاندہی فیلڈ عملے کی جانب سے معائنوں اور محکمہ مال کے ریکارڈ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قابضین کے خلاف جموں و کشمیر پبلک پریمیسز (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے باقاعدگی کے ساتھ بے دخلی اور انہدامی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے قبضوں کو روکنے کے لیے فیلڈ معائنے مسلسل جاری رہتے ہیں اور غیر قانونی قابضین کو قانون کے مطابق مرحلہ وار اور مقررہ وقت کے اندر ہٹایا جا رہا ہے۔قابضین کی تفصیلات، جیسے کہ آیا وہ سیاستدان، بیوروکریٹس، نجی افراد یا تنظیمیں ہیں، کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جے ڈی اے اس نوعیت کی درجہ بندی پر مبنی ریکارڈ نہیں رکھتا۔
انہوں نے بتایا کہ قابضین کی فہرستیں محکمہ مال سے حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں زمین کے ٹکڑوں یا مقامات کے حساب سے مرتب کیا جاتا ہے، جبکہ تمام کارروائیاں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔
جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی 16 ہزار کنال سے زائد اراضی پر قبضہ، مرحلہ وار بے دخلی مہم جاری: عمر عبداللہ