عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت میں، نیشنل کانفرنس (این سی) کی حکومت نے بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی میں ایک نجی رکن بل کی پیشی کی حمایت کی، جس کے تحت موجودہ قابضین کو لیز کی تجدید کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔یہ بل این سی کے رکن تنویر صادق کی جانب سے پیش کیا گیا، جس کا مقصد موجودہ لیز ہولڈرز کی لیز میں توسیع کو ممکن بنانا ہے۔جب یہ بل ایوان میں پیشی کے لیے آیا تو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو محکمہ مال کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے واضح کیا کہ وہ اس بل کی مخالفت نہیں کریں گے اور اس کی پیشی کی اجازت دیں گے۔
اس کے بعد اسپیکر نے بل کی پیشی کو ووٹنگ کے لیے رکھا، جہاں این سی اراکین نے (وائس ووٹ) کے ذریعے اس کی حمایت کی، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے خاموشی اختیار کی۔ یوں ایوان نے بل کی پیشی کی اجازت دے دی۔یہ پہلا موقع ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نیشنل کانفرنس نے کسی نجی رکن بل کی پیشی کی مخالفت نہیں کی۔
یہ بل خاص طور پر اس تناظر میں اہمیت رکھتا ہے کہ گلمرگ میں کئی ہوٹل مالکان کی لیز کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ تنویر صادق کا یہ اقدام موجودہ لیز ہولڈرز کو ریلیف دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بل دراصل جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز 2022 کے اثرات کا توڑ کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ان قواعد کے مطابق، زیادہ تر لیزز کی تجدید نہیں کی جائے گی اور انہیں ختم تصور کیا جائے گا، سوائے بعض رہائشی لیزز کے۔قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایسی لیزز کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق دوبارہ نیلام کیا جائے گا، بجائے اس کے کہ انہیں معمولی پریمیم پر تجدید کیا جائے۔
اسمبلی میں اہم پیش رفت،نجی رکن بل کی پیشی پر حکومت کی حمایت