معراج وانی
آج کے اس ترقی یافتہ اور جدید سائنسی دور میں جہاں انسان نے چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھنے شروع کر دیے ہیں، وہیں ایک افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کتابوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ دوری صرف غیر تعلیم یافتہ طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ سماج کے پڑھے لکھے افراد بھی کتابوں کی محفل سے کنارہ کش ہو گئے ہیں۔کتابیں علم کے وہ خزانے ہیں جن کی پکار روزِ اوّل سے یہی رہی ہے:’’ہمیں وقت دو، ہم تمہیں تخت دیں گے۔‘‘وقت تھا کہ کتابیں پڑھنے کا ذوق ہر گھر میں تھا۔ کتابیں ہاتھوں میں ہوتی تھیں، اب صرف الماریوں کی زینت بنی بیٹھی ہیں۔
کتابوں سے دوری کے اسباب :
۱۔ ڈیجیٹل انقلاب اور اسکرین کا غلبہ۔موبائل فون، سوشل میڈیا، یوٹیوب اور شارٹ ویڈیوز نے انسانی توجہ کو تقسیم کر دیا ہے۔ فوری معلومات اور سطحی تفریح نے گہرے مطالعے کا ذوق کمزور کر دیا۔
۲۔ مصروفیات کا بہانہ:آج کا انسان خود کو سب سے زیادہ مصروف سمجھتا ہے، مگر یہی انسان گھنٹوں اسکرولنگ میں گزار دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصروفیت نہیں، ترجیحات بدل گئی ہیں۔
۳۔ تعلیمی نظام میں کتاب دوستی کی کمی :ہمارا تعلیمی نظام رٹّے، نوٹس اور خلاصوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ طالب علم اصل کتاب پڑھنے کے بجائے صرف امتحانی مواد پر توجہ دیتے ہیں۔
۴۔ ماحول اور خاندان میں مطالعے کی روایت کا ختم ہونا:گھر، اسکول، محلہ اور دوست—کہیں بھی کتابوں کا ماحول باقی نہیں رہا۔ جب بچے بڑوں کو کتاب سے دور دیکھتے ہیں، خود بھی رغبت کھو بیٹھتے ہیں۔
۵۔ معاشی دباؤ اور ذہنی تھکن :بہت سے لوگ روزمرہ کی تھکن، معاشی پریشانیوں یا ذہنی انتشار کے باعث مطالعے کے لیے یکسوئی پیدا نہیں کر پاتے۔
کتاب دوستی کے فوائد اور انفرادی زندگی پر مثبت اثرات
(۱) سوچ کی گہرائی اور شخصیت میں نکھار: کتابیں انسان کی سوچ کو وسعت دیتی ہیں۔ مطالعہ شخصیت کو متوازن، شائستہ اور صاحبِ رائے بناتا ہے۔
(۲) ذہنی سکون اور نفسیاتی استحکام:تحقیقات بتاتی ہیں کہ کتاب پڑھنا ذہنی دباؤ کم کرتا ہے، نیند کو بہتر بناتا ہے اور ذہن کو تازہ رکھتا ہے۔
(۳) زبان و بیان میں بہتری:مسلسل مطالعہ زبان کو نکھارتا ہے، الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ کرتا ہے اور تحریر و تقریر دونوں بہتر کرتا ہے۔
(۴) فکری پختگی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ:کتابیں انسان کو تجزیہ اور تفکر کا عادی بناتی ہیں۔ معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی امور پر بہتر رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔(۵) زندگی کے مسائل کے حل میں رہنمائی۔اچھی کتابیں استاد کی طرح رہنمائی کرتی ہیں۔ وہ زندگی کے تجربات، مشاہدات اور حکمتیں قاری تک منتقل کرتی ہیں۔
کتابوں سے محبت دوبارہ کیسے پیدا کی جائے؟
۱۔کتابوں تک آسان رسائی:ہر محلے، اسکول، گاؤں اور قصبے میں چھوٹی لائبریریاں قائم ہوں۔ گھروں میں بھی ایک چھوٹا سا کتب خانہ ضروری ہے۔
۲۔ روزانہ 10منٹ سے آغاز:لوگوں کو ترغیب دی جائے کہ روزانہ صرف دس منٹ مطالعہ سے شروع کریں۔ یہ عادت آہستہ آہستہ گھنٹوں میں بدل جاتی ہے۔
۳۔ موبائل وقت میں کمی اور مطالعہ کے لئے مخصوص وقت: اسکرین ٹائم کم کرنے اور مطالعہ کے لیے مقررہ وقت رکھنے کا رجحان مضبوط کیا جائے۔
۴۔ کتاب دوست محفلیں:بک کلب، ادبی نشستیں، کتاب تعارف کے پروگرام—یہ سب مطالعے کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
۵۔ بچوں کے لیے قصے اور کہانیاں :گھروں میں بچوں کو کہانیاں سنانا دوبارہ رواج میں لایا جائے۔ بچپن کی کتاب دوستی عمر بھر قائم رہتی ہے۔
۶۔ عملی زندگی میں کتابوں کی مثالیں دینا: اگر استاد، والدین اور سماجی رہنما خود مطالعہ کریں تو نوجوان خود بخود ترغیب پاتے ہیں۔
اختتامیہ:کتاب صرف علم کا ذریعہ نہیں، یہ انسان کی روح کی غذا ہے۔ معاشرے کی ترقی، تہذیب کی تعمیر، سوچ کی بلندی اور کردار کی تشکیل ،سب کتابوں کے فیض سے جڑی ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ کتابوں کے پاس لوٹ آئیں۔کتابیں آج بھی ہمیں یہی پکار رہی ہیں:’’ہمیں وقت دو، ہم تمہیں روشنی، شعور اور نئی دنیا دیں گے‘‘
انسانی تاریخ کی طویل اور پرشکوہ شاہراہ پر اگر کوئی شے مسلسل انسان کی ہم سفر رہی ہے تو وہ کتاب ہے،کبھی تختِ حکمرانی کے پیچھے رکھی ہوئی دانش کی چراغ دان، کبھی گوشۂ خانقاہ میں سوزِ دل سے لکھی ہوئی حکمتِ ازلی اور کبھی مکتب و مدرسہ میں معلم کی خاموش میراث۔کتاب کی پکار ہمیشہ یہی رہی:’’ہمیں وقت دو، ہم تمہیں تخت دیں گے۔‘‘مگر المیہ یہ ہے کہ آج کا انسان ،جو خود کو تہذیب و ترقی کا مرکز سمجھتا ہے،اسی کتاب سے دور ہوتا جا رہا ہے جو اس کی فکری اور روحانی اساس تھی۔کل تک کتابیں ہاتھوں میں تھیں، آج صرف الماریوں میں قید ہیں۔ کبھی صفحات کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی تھی، اب اس جگہ اسکرین کی تیز روشنی نے نظریں خیرہ کر دی ہیں۔ یہ صرف ایک سماجی تبدیلی نہیں، یہ ذہن و شعور کی سمت بدل جانے کا اعلان ہے۔