میر شوکت
یہ الفاظ صدیوں سے گونجتے رہے ہیں، مگر کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب یہ آیت روح کے سب سے گہرے حصے میں اتر جاتی ہے، جیسے کوئی غیب سے آ کر دل کے دروازے پر دستک دے گیا ہو۔ آج وہی لمحہ ہے، فضا میں ایک گہری، بے چین اداسی تیر رہی ہے۔ ہوا بھی سوگوار لگتی ہے، درختوں کی شاخیں سر جھکائے کھڑی ہیں اور زمین خود اپنے سینے پر ایک بھاری بوجھ اٹھائے رو رہی ہے۔
ڈاکٹر تبسم ناز۔ ایک نام نہیں، ایک مکمل داستان تھی۔ ایک ایسی داستان جس میں جدوجہد کی آگ تھی، علم کی روشنی تھی، درد کی گہرائیاں تھیں اور سب سے بڑھ کر ایک خاموش، بے لوث خدمت تھی، مگر آج یہ داستان اچانک رک گئی۔ ایک بے رحم سڑک حادثے کے موڑ پر، جہاں تقدیر نے خاموشی سے قلم چلا دیا۔
کہتے ہیں کچھ لمحے وقت سے بھی طاقتور ہوتے ہیں، وہ لمحہ بھی ایسا ہی تھا۔ شاید سورج ویسے ہی طلوع ہوا ہو، پرندے ویسے ہی چہچہا رہے ہوں اور دنیا اپنے معمول کے جال میں اُلجھی ہوئی ہو۔ مگر ایک پل میں سب بدل گیا۔ ایک ٹکر، ایک چیخ اور پھر ایک ایسی خاموشی جو ہمیشہ کے لیے دلوں میں بس جاتی ہے۔ پونچھ کی سرزمین، جہاں مٹی میں سادگی کے ساتھ غیرت بھی رچ بس گئی ہے، وہاں سے ایک معصوم لڑکی نے اپنے خوابوں کا سفر شروع کیا تھا۔ وہ خواب صرف اپنے لئے نہیں تھے، بلکہ پوری قوم کے لیے، طلبہ کے لیے، معاشرے کے لیے تھے۔
وہ پڑھتی رہیں، بڑھتی رہیں، پوسٹ گریجویشن کیا، پی ایچ ڈی مکمل کی۔ یہ محض ڈگریاں نہیں تھیں، یہ ایک مشعل تھی جو انہوں نے اپنے اندر جلا رکھی تھی۔ وہ علم کو صرف حاصل کرنے کی چیز نہیں سمجھتی تھیں بلکہ اسے بانٹنے کی ایک مقدس ذمہ داری سمجھتی تھیں۔ وہ خود ایک روشنی بن کر طلبہ کے تاریک راستوں کو روشن کرتی رہیں۔
مگر زندگی نے ان کے راستے میں کینسر جیسی بھیانک دیوار کھڑی کر دی۔ ایک ایسا لفظ جسے سن کر پہاڑ بھی لرز جاتے ہیں، مگر ڈاکٹر تبسم ناز نہیں لرزیں۔ انہوں نے اسے سینے سے لگایا، اس سے لڑیں، اس کی ہر لہر کا مقابلہ کیا اور آخر کار اسے شکست دے کر واپس لوٹ آئیں۔ یہ صرف جسم کی جنگ نہیں تھی، یہ روح کی جنگ تھی اور وہ اس جنگ میں فاتح بن کر نکلیں۔ ان کی یہ جیت ہر اس شخص کے لیے امید بن گئی جو زندگی کے طوفانوں سے گزر رہا ہو۔
پھر زندگی نے انہیں محمد حامد کی صورت میں ایک سچا ساتھی عطا کیا۔ ایک ایسا شخص جس کی سادگی، شرافت اور بے لوث محبت نے ان کے سفر کو اور بھی حسین بنا دیا۔ یہ رشتہ صرف دو جسموں کا نہیں تھا، دو خوابوں کا، دو ارادوں کا، دو خدمت گزار دلوں کا سنگم تھا۔ دونوں مل کر خلق خدا کی خدمت کے اس راستے پر چل پڑے جہاں تعریف کی گنجائش کم ہوتی ہے اور ذمہ داری کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے۔
ڈاکٹر تبسم ناز صرف ایک استاد نہیں تھیں۔ وہ ایک رہنما تھیں، ایک ماں جیسی شفقت رکھنے والی، ایک بہن جیسی ہمدرد اور ایک ایسی امید کی کرن تھیں جو طلبہ کے دلوں میں روشنی بکھیرتی تھی۔ ان کے پاس آنے والا ہر طالب علم صرف کتابیں نہیں بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ، حوصلہ اور عزم بھی لے کر جاتا تھا۔
اور پھر وہ لمحہ آ گیا۔۔۔ جو سب کچھ بدل کر رکھ گیا۔
حادثہ۔ یہ چھوٹا سا لفظ اپنے اندر کتنی بڑی قیامت چھپائے ہوئے ہے۔ ایک پل، ایک ٹکر اور پھر ہمیشہ کی خاموشی۔ زمین نے ایک اور چراغ کو اپنی آغوش میں سما لیا اور آسمان نے ایک اور ستارہ اپنے سینے سے لگا لیا۔ان کی نماز جنازہ کا وہ منظر کبھی نہیں بھولا جا سکے گا۔ ہزاروں لوگ، ہندو، مسلم، سکھ، سب ایک صف میں ایک دل کے ساتھ کھڑے تھے۔ ہر آنکھ نم تھی، ہر دل بوجھل تھا اور ہر زبان پر ان کے لیے دعا تھی۔ اس لمحے انسانیت نے خود کو پہچانا۔ تمام تقسیموں کو بھلا کر ایک انسان کے احترام میں سر جھکا دیا گیا۔
سوشل میڈیا، جو اکثر بے حسی کا آئینہ سمجھا جاتا ہے، آج درد کی ایک سچی داستان بن چکا ہے۔ ہر طرف تعزیت کے پیغامات، یادوں کی بارش اور دعاؤں کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ میڈیا چینلز، وی لاگرز، صحافیوں اور ہر اس شخص نے جس نے اس دکھ کو اُجاگر کیا، اس درد کو بانٹا، اہل خانہ کی طرف سے ان سب کا شکریہ۔ آپ سب نے اس غم کو اکیلا نہیں ہونے دیا۔ آپ کی آواز نے اس درد کو مزید معنی دیے اور دکھایا کہ اچھے لوگ کبھی اکیلے نہیں ہوتے، اللہ آپ سب کو جزائے خیر دے۔
محمد حامد صاحب اب بھی ہسپتال کی سفید دیواروں کے درمیان، مشینوں کی آوازوں کے بیچ زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے ہیں۔ ہزاروں دعائیں ان کے گرد گھوم رہی ہیں۔ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔اہل خانہ کے لیے یہ غم ناقابل برداشت ہے۔ ایک ایسا دُکھ جسے الفاظ قید نہیں کر سکتے۔ مگر اس غم کے ساتھ ایک فخر بھی ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ہستی کو جانا، جس نے اپنی ساری زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دی۔ڈاکٹر تبسم ناز اب جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر وہ ختم نہیں ہوئیں۔ وہ ہر اس دل میں زندہ ہیں جسے انہوں نے چھوا، ہر اس ذہن میں موجود ہیں جسے انہوں نے روشن کیا، ہر اس طالب علم کی کامیابی میں شامل ہیں جسے انہوں نے ہمت دی، اور ہر اس دعا میں ہیں جو آج ان کے لیے اٹھ رہی ہے۔
کچھ لوگ اس دنیا میں آتے ہیں تو صرف جیتے نہیں، بلکہ زندگی کو ایک گہرا معنی دے جاتے ہیں۔ وہ خود مٹ جاتے ہیں، مگر دوسروں کے لیے روشنی کے راستے چھوڑ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر تبسم ناز بھی انہی selected ہستیوں میں سے تھیں۔وہ ایک چراغ تھیں۔جو بجھ گئیں، مگر اپنی روشنی ہزاروں دلوں میں چھوڑ گئیں۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل دے، ان کی دو معصوم بچیوں کو زندگی کی منزلوں سے لڑنے کی ہمت عطا کرےاور محمد حامد صاحب کو مکمل صحت عطا کرے۔ آمین
اِنّا لِلٰہِ وَ اِنّا اِلیہ ِرَاجعُون۔
[email protected]