آصف حسین الکشمیری
مہذب معاشرہ صرف بلند عمارتوں، جدید سہولتوں اور رنگین بازاروں سے نہیں بنتا بلکہ اس کی اصل شناخت اس کے اخلاقی اصولوں اور متوازن طرزِ زندگی سے ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کے افراد خرچ میں حد سے تجاوز کرنے لگیں اور ضرورت و نمائش کے فرق کو مٹا دیں تو وہ معاشرہ آہستہ آہستہ اخلاقی زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اسی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسراف ایک فیشن اور سادگی ایک کمزوری سمجھی جانے لگی ہے۔
اسلام نے انسانی زندگی کے ہر پہلو میں اعتدال اور میانہ روی کو پسند فرمایا ہے، خصوصاً خرچ کرنے کے معاملے میں۔ قرآن و سنت ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ نہ بخل اختیار کیا جائے اور نہ فضول خرچی، بلکہ دونوں کے درمیان ایک متوازن راستہ اپنایا جائے۔ بدقسمتی سے آج ہم اس توازن کو کھوتے جا رہے ہیں۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ دیارِ کشمیر میں لوگ ایک دوسرے کی نقالی کرتے ہوئے اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرنے لگے ہیں۔ نئے مکانات کی تعمیر کے لیے بینکوں سے بھاری قرض لیا جاتا ہے اور بے دریغ سرمایہ صرف ظاہری شان و شوکت پر لگا دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پوری زندگی قرض کی قسطیں ادا کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔اسی طرح شوقیہ طور پر لاکھوں روپے کے مہنگے موبائل فون خریدے جاتے ہیں، حالانکہ ان کی نہ حقیقی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دیرپا فائدہ۔ بغیر کسی مالی منصوبہ بندی کے کیا گیا یہ خرچ انسان کو وقتی خوشی تو دیتا ہے، مگر انجام کار اچانک مالی عروج سے غربت، کسمپرسی اور ذہنی پریشانی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اسراف کا یہ رجحان فرد کو اندر سے کھوکھلا اور معاشرے کو مجموعی طور پر کمزور بنا دیتا ہے۔
ہماری تقریبات، شادی بیاہ اور دعوتوں میں اسراف اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ کھانے کی ایسی بھرمار ہوتی ہے کہ آدھا ضائع ہو جاتا ہے، مگر اسے برائی سمجھنے کے بجائے شان سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہے بلکہ معاشی بے حسی کی بھی تصویر ہے۔ جب ایک طرف ضائع ہوتا ہوا کھانا ہو اور دوسری طرف فاقہ کش خاندان ہوں تو یہ تضاد ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔اسراف کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان شکرگزاری بھول جاتا ہے۔ نعمتوں کی قدر ختم ہو جائے تو برکت بھی اٹھ جاتی ہے۔ ہم لباس، موبائل، گاڑی اور دیگر اشیاء کو ضرورت کے بجائے فیشن اور نمائش کی نظر کر دیتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر ہمیں سادہ زندگی سے دور اور مصنوعی زندگی کے قریب لے جاتا ہے، جہاں سکون کم اور اضطراب زیادہ ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود دل مطمئن نہیں ہوتا۔
اعتدالِ خرچ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی جائز خواہشات کو ختم کر دے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ خواہش کو عقل اور دین کے تابع رکھا جائے۔ ضروریات پوری کی جائیں، مگر فضول خواہشات کے پیچھے اپنی معاشی طاقت اور ذہنی سکون قربان نہ کیا جائے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں دولت کا استعمال خدمتِ انسانیت کے لیے ہو، نہ کہ تفاخر اور برتری جتانے کے لیے۔اگر ہم اپنے گھروں سے اعتدال کی بنیاد رکھیں تو پورا معاشرہ سنور سکتا ہے۔ بچوں کو یہ شعور دیا جائے کہ سادگی کوئی کمزوری نہیں بلکہ وقار کی علامت ہے۔ تقریبات میں دکھاوے کے بجائے مقصد کو اہمیت دی جائے۔ دعوتوں میں اس قدر انتظام ہو کہ ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ یہی چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑی سماجی اصلاح کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج نوجوان نسل فیشن اور نمود و نمائش کی دوڑ میں اندھی تقلید کا شکار ہو چکی ہے۔ مغرب اور اغیار کی اندھی نقالی نے ہمیں اپنے اصل تشخص سے دور کر دیا ہے۔ نوجوان برانڈز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، غیر ضروری اشیاء کو وقار کی علامت سمجھ رہے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی محض دکھاوے کی نذر کر رہے ہیں۔ اس روش نے نہ صرف ہمارے پیسے کو برباد کیا ہے بلکہ ہمارے اقدار کو بھی کمزور کر دیا ہے۔یہاں علماء کرام، ائمہ خطباء، میڈیا اور تعلیمی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے پلیٹ فارم سے لوگوں کو اسراف کے نقصانات اور اعتدالِ خرچ کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ جمعہ کے خطبات، دروس، ٹی وی پروگراموں اور اسکول کے نصاب میں اس موضوع کو سنجیدگی سے شامل کیا جائے تاکہ ایک اجتماعی شعور پیدا ہو سکے۔ اگر یہ ادارے اپنا کردار ادا کریں تو معاشرہ فکری بیداری کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود سے سوال کریں۔کیا ہمارا خرچ واقعی ہماری ضرورت کے مطابق ہے یا ہم محض دوسروں کی نقل کر رہے ہیں؟کیا ہماری خوشی اسراف کے بغیر ممکن نہیں؟کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے مالی ذمہ داری کا کوئی نمونہ چھوڑ رہے ہیں؟اگر ہم نے ان سوالات کا ایماندارانہ جواب تلاش کر لیا تو یقیناً ہمیں اپنے طرزِ زندگی پر نظرِ ثانی کرنی پڑے گی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ حقیقی خوشی مہنگی اشیاء میں نہیں بلکہ سکونِ قلب میں ہے اور سکونِ قلب قناعت، شکر اور اعتدال سے حاصل ہوتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اعتدالِ خرچ صرف ایک معاشی اصول نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی قدر ہے۔ یہ ہمیں ذمہ داری، قناعت اور شعور کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم نے اسراف کے سیلاب کو نہ روکا تو یہ صرف ہماری معیشت کو نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ ضرورت اور خواہش کے درمیان ایک حسین توازن قائم رکھے۔ یہی اعتدالِ خرچ ہے اور یہی کامیاب زندگی کا راز۔ اگر ہم اجتماعی طور پر ہوش کے ناخن لیں، اپنے رویوں کو بدلیں اور سادگی کو شعار بنائیں تو ہم نہ صرف اپنی ذات کو بلکہ اپنے پورے معاشرے کو ایک بہتر سمت دے سکتے ہیں۔
رابطہ۔ 9797888975