عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غازی پور علاقے سے لشکرِ طیبہ کے ایک مبینہ کارکن کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شخص کی شناخت شبیر احمد لون کے طور پر ہوئی ہے، جو وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے کا رہائشی ہے۔اسپیشل سیل کے ایڈیشنل سی پی پرمود کشواہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ شبیر کو گزشتہ رات غازی پور سے حال ہی میں بے نقاب کیے گئے لشکرِ طیبہ ماڈیول کے میٹرو پوسٹر کیس میں گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس ماڈیول میں اس سے قبل آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور شبیر کے قبضے سے 2300 بنگلہ دیشی ٹکہ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق شبیر ایک تربیت یافتہ شدت پسند ہے جو بطور سلیپر سیل ممبر کام کر رہا تھا اور مختلف مقامات پر ملک مخالف پوسٹر چسپاں کرتا تھا۔
کشواہ نے مزید بتایا کہ شبیر دو ہینڈلرز کے رابطے میں تھا اور اس کی ٹیم نے کئی مقامات کی ریکی کر کے تصاویر اور ویڈیوز پاکستان بھیجی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ’’ہارڈ کور‘‘شدت پسند ہے جس نے مغربی بنگال میں ایک لانچ پیڈ قائم کیا تھا اور نئی بھرتیاں کرنے کے لیے دہلی بھی آیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ ماڈیول لشکر سے ہدایات لینے والا تھا اور اس کا ہدف تجارتی علاقے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی میں ضم ہونے کے لیے اس نے بنگلہ دیش میں دوسری شادی بھی کی۔ گرفتار آٹھ افراد میں سے سات بنگلہ دیشی جبکہ ایک بھارتی شہری ہے۔
افسر نے مزید بتایا کہ شبیر کا دہلی دھماکہ کیس سے تاحال کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس حراست حاصل کرنے کے بعد مزید پوچھ گچھ میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ اس کے قبضے سے 5000 پاکستانی کرنسی اور 3000 بھارتی روپے بھی برآمد ہوئے ہیں۔
شبیر احمد لون عرف راجہ کشمیری ولد محمد اکبر لون کو اس سے قبل 2007 میں بھی اسپیشل سیل نے گرفتار کیا تھا، جب اس کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ، بشمول اے کے-47 اور گرینیڈز، برآمد ہوا تھا۔ایک اہلکار کے مطابق وہ 2018 تک تہاڑ جیل میں قید رہا۔ 2007 میں گرفتاری کے وقت اس کے جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے نائب ذکی الرحمٰن لکھوی سے براہِ راست روابط تھے۔
لشکرِ طیبہ کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں گاندربل کا رہائشی دہلی میں گرفتار