عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ہفتہ کے روز سینئر سیاسی رہنما فاروق عبداللہ پر ہوئے حملے کو ایک سنگین اور غیر معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔جموں میں ایوان سے خطاب کرتے ہوئےراتھر نے کہا کہ یہ واقعہ ’’جمہوریت کی روح‘‘پر حملہ ہے اور اس کے ذمہ داروں کو سخت پیغام جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فاروق عبداللہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اور انہوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اسپیکر نے کہا کہ ایوان کے اراکین نے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایک آواز میں بات کی، جو عوام کے جذبات کی عکاسی ہے۔انہوں نے کہااراکین نے انفرادی طور پر نہیں بلکہ عوام کے نمائندوں کے طور پر بات کی، جو ایک منصفانہ اور قابلِ اعتبار تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ملزم کی وائرل ویڈیو پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ وہ غیر معمولی طور پر پُرسکون نظر آیا، اس میں کسی قسم کی ندامت نہیں تھی اور وہ پراعتماد انداز میں بات کر رہا تھا، جو جرم کی سنگینی سے مطابقت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ جس انداز میں ملزم کو ہینڈل کیا گیا وہ اس نوعیت کے سنگین معاملات میں طے شدہ پولیس طریقہ کار سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔راتھر نے کہاعوام جواب چاہتے ہیں۔ کئی سوالات اٹھے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں۔ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے منصفانہ تحقیقات ضروری ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے فوری طور پر فاروق عبداللہ سے رابطہ کیا اور مناسب تحقیقات کی یقین دہانی کرائی، جس سے رہنما اور عوام دونوں کو اطمینان ملا ہے۔اسپیکر نے کہا کہ ایوان کو امید ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو ایسی سزا دی جائے گی جو آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا سبب بنے۔انہوں نے مزید کہاایوان چاہتا ہے کہ انصاف اس انداز میں فراہم کیا جائے جس سے عوام مطمئن ہوں اور ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حملہ معمولی واقعہ نہیں، منصفانہ تحقیقات ضروری: اسپیکر راتھر