سید مصطفیٰ احمد
انسان کا سماجی وجود ہے۔ وہ تنہائی میں سکھ نہیں پا سکتا ہے۔ عزیز و اقارب کی موجودگی میں وہ محفوظ اور مطمئن رہتا ہے، البتہ جب رشتے زہریلے ہو جاتے ہیں تو انسان ہر طرح کے تعلق سے کٹ جانے کا سوچنے لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھلے پھولے رشتے زہریلے کیوں بنتے ہیں اور ہم اس رجحان کو کیسے روک سکتے ہیں؟
ابتداء ہی سے لالچ اور حسد نے میٹھے رشتوں کو تاراج کیا ہے۔ جب انسان رشتہ داروں کو ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے تو رشتے کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں: ’’یہ رشتہ مجھے کیا دے گا؟‘‘ — نہ کہ ’’میں اس رشتے کو کیا دے سکتا ہوں؟‘‘ یہ سودے بازی کا مزاج رشتوں کو بازار بنا دیتا ہے۔لالچ صرف دولت تک محدود نہیں۔ کچھ لوگ تعریف کے لالچی ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی قدر کرے، ان کی طرف جھکے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ رشتوں سے بدگمان ہو جاتے ہیں۔ کہیں لالچ اختیار کی صورت میں بھی نمودار ہوتی ہے: ہر بات پر اپنی رائے منوانے کا اصرار، ہر مجلس میں اپنی برتری ثابت کرنے کی کشمکش۔
حسد خاموش قاتل ہے، بھائی بھائی کی ترقی برداشت نہیں کر پاتا، بہن بہن کی خوشی دیکھ کر جلنے لگتی ہے، آج سوشل میڈیا نے حسد کو ہوا دی ہے، کسی رشتہ دار کی خوشحال تصویر دیکھ کر ہم مبارکباد دینے کی بجائے منہ پھول لیتے ہیں۔ ہم موازنے میں لگ جاتے ہیں اور پھر وہ موازنہ رشتے کی بنیادیں کھوکھلا دیتا ہے۔
غلط فہمیاں اور تیسرے فریق کا زہر :
آج کل رشتوں میں کوئی کسی سے خوش نہیں، ہر کوئی دوسرے کے خلاف شکوے جمع کرتا ہے۔ معمولی سی غلط فہمی، ایک بے محل جملہ، کال کا نہ اٹھانا، کسی تقریب میں نظر اندازی سالوں پرانی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ لوگ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی بجائے اسے ہوا دیتے ہیں۔ وہ رشتہ داروں کے سامنے اپنا درد بیان کرتے ہیں، تیسرے فریق کو بیچ میں لاتے ہیں اور زہر پھیلاتے ہیں۔جب کوئی جھگڑا ہوتا ہے تو اصل معاملہ دب جاتا ہے۔ لوگ طرف داری کرنے لگتے ہیں،سُنی سُنائی باتیں دہراتے ہیں اور اپنا غصہ بھی شامل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو افراد کے درمیان کھائی پورے خاندان میں پھیل جاتی ہے۔ پھر کسی میں یہ ہمت نہیں ہوتی کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرے۔
وہ دور جو گزر گیا :ایک زمانہ تھا جب رشتوں میں ہمدردی، محبت اور بلا غرض مدد عام تھی۔ کوئی رشتہ دار مصیبت میں ہوتا تو سب دوڑ پڑتے۔ کوئی حساب نہیں ہوتا تھا کہ فلاں نے پچھلی بار کتنا دیا۔ صرف یہ ہوتا تھا کہ آج اسے ضرورت ہے، ہم اس کے لیے ہیں۔ مالی امداد ہو یا محض ایک حوصلہ افزا جملہ، سب اسے اپنا فرض سمجھتے تھے۔وہ کلچر اب معدوم ہو چکا۔ گیبریل اوکارا کا قول آج کے سماج پر پورا اترتاہے۔ لوگ چاہے عام ہوں یا رشتہ دار، سب ذاتی مفاد کے لیے ملتے ہیں۔ نتیجتاً لوگ بے یار و مددگار ہو گئے ہیں۔ نام کے رشتوں کا انبار ہے، لیکن جب مصیبت آتی ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ دروازے بند ہیں، دلوں میں جلن ہے اور معمولی ملاقات بھی گراں گزرتی ہے۔
تنہائی کا المیہ :جب رشتے سکون دینے کی بجائے دل کی تہہ تک ٹھیس پہنچائیں تو انسان رشتوں سے ہی بیزار ہو جاتا ہے۔ وہ دیواریں کھڑی کر لیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ تنہائی ہی بہتر ہے۔ لیکن یہ تنہائی بھی ایک قید ہے۔ انسان بغیر گہرے تعلقات کے درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں کٹ چکی ہوں۔ آج بوڑھے والدین خالی کمروں میں بیٹھے حیران ہیں کہ بچے کیوں نہیں آتے۔ نوجوان خاندانی تقریبات میں اجنبیوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔ ہجوم میں تنہائی اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب کوئی اس پر حیران نہیں ہوتا۔
ہمیں بھی بدلنا ہو گا :ضرورتِ وقت یہ ہے کہ ہم اپنی روش بدلیں۔ انتظار نہ کریں کہ دوسرا پہل کرے۔ اگر ہم نے آج نہیں کیا تو کل ہجوم میں بھی تنہا رہ جائیں گے۔
کچھ عملی قدم:(۱) براہ راست بات کریں:اگر کسی رشتہ دار سے ناراضی ہے تو اسے تنہائی میں بتائیں۔ گھر گھر شکایت نہ پھیلائیں۔ زیادہ تر غلط فہمیاں سامنے بیٹھ کر بات کرنے سے ختم ہو جاتی ہیں۔ (۲) اچھا گمان رکھیں:جب کوئی مبہم بات کہے تو اس کی بہترین ممکنہ تفسیر کریں۔ یہ ایک عادت سالوں کی دوری روک سکتی ہے۔ (۳) اپنے ذہن کو زہر آلود نہ کریں:ماضی کی تلخیوں کو بار بار نہ دہرائیں۔ ہر بار جب آپ کوئی پرانی تکلیف یاد کرتے ہیں، آپ زخم کو تازہ کرتے ہیں۔ اس فائل کو بند کریں۔ (۴) پہل کریں: انتظار میں بیٹھے رہنے سے کوئی رشتہ نہیں بچتا۔ ایک پیغام بھیجیں، کال کریں، چائے پر بلائیں۔ یہ چھوٹا سا قدم جمود توڑ دیتا ہے۔ (۵) انسان کو عمل سے الگ کریں: آپ کسی کے کسی فعل سے ناراض ہو سکتے ہیں مگر پورے انسان کو مسترد نہ کریں۔ اس سے حد بندی تو ممکن ہوتی ہے، دروازہ بند نہیں ہوتا۔(۶) کسی معتبر ثالث کو شامل کریں: اگر کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے تو کسی بڑے یا عقلمند سے مدد لیں جو طرف داری نہ کرے بلکہ صلح کرائے۔ (۷) شکر گزاری کی عادت ڈالیں: جان بوجھ کر اپنے رشتہ داروں کی اچھائیوں کو یاد کریں۔ شکر گزاری ذہن کو منفی سے مثبت طرف لے جاتی ہے۔
روحانی اور نسلی پہلو :رشتے صرف سماجی معاہدے نہیں ہیں۔ ان کا روحانی پہلو بھی ہے۔ جو رشتہ جوڑے رکھتا ہے، اسے اللہ کی رحمت حاصل ہوتی ہے۔ جو توڑتا ہے، وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہماری آنے والی نسلیں دیکھ رہی ہیں کہ ہم اپنے والدین، بہن بھائیوں، اور رشتہ داروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ اگر وہ ہمیں تلخی اور کٹاؤ سکھائیں گے تو وہ بھی وہی راہ اختیار کریں گے۔ اگر وہ ہمیں معافی اور پہل کرتے دیکھیں گے تو وہ بھی بہادر بنیں گے۔
آخری پیغام :رشتوں کا زہریلا پن کوئی لاعلاج مرض نہیں۔ یہ ہماری عادتوں کا مجموعہ ہے:موازنہ، خاموشی، حساب کتاب، اور انا کی عادتیں۔ ہم نئی عادتیں چن سکتے ہیں۔ ہم بولنا چن سکتے ہیں، پہل کرنا چن سکتے ہیں، دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا چن سکتے ہیں۔ آج ہی پہل کریں، کوئی اچھا جملہ کہیں اور آج ہی معاف کریں۔
[email protected]