سید مصطفیٰ احمد
موجودہ وقت کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ خوف کیا ہے؟ مختلف طریقوں سے ہم نے اس کا جائزہ لیا ہے، لیکن کوئی بھی اس کی جڑ تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ ہر شخص اپنے ذہن کی وسعت، تجربے اور عمل کے لحاظ سے خوف کی مختلف تاویل پیش کرتا ہے۔ امیر کی تاویل الگ ہے اور غریب کی تاویل الگ۔ پرانے زمانے کے لوگ خوف کی مختلف جہتوں سے روشناس تھے، لیکن آج کے انسان کی خوف کی تعریف مختلف ہے۔ اب سوال پھر سے وہی اٹک جاتا ہے کہ خوف کیا ہے؟ کیا یہ کوئی مخلوق ہے؟ یا پھر یہ ہمارے اپنے ذہن کی پیدا کردہ وہ کائنات ہے، جس کے جال میں ہم خود پھنس گئے ہیں؟
ہم خوف کے اس وسیع سمندر میں تیرتے ہی چلے جاتے ہیں اور اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سمندر کا پانی ہماری ہی سوچ کا کڑوا پھل ہے۔ اس خوف کی منحوس تہہ نے ہماری زندگی کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ ہم نے اسے زندگی کا لازمہ سمجھ لیا ہے اور اس سے باہر نکلنے کا ہمیں کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ بالفاظ دیگر، ہماری زندگیوں میں خوف کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اب بس خوف ہی خوف ہے اور باقی کچھ بھی نہیں۔ خوف کا زہر فضاؤں میں گھلا ہوا ہے، اب کہاں جا کر سانس لی جائے؟
صبح جب ہماری آنکھ کھلتی ہے تو ہماری ملاقات سب سے پہلے خوف سے ہوتی ہے اور دن ڈھلتے ہی خوف کے ہزاروں رنگ ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ دفتر جانے والا شخص اس خوف سے جاتا ہے کہ کہیں اس کی نوکری نہ چلی جائے۔ طالب علم امتحان میں ناکامی کے خوف سے کانپتا ہے اور پھر خوف کے ڈر سے خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ماں باپ اولاد کے مستقبل کے خوف میں اپنا حال قربان کر دیتے ہیں اور کبھی بھی زندگی کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اس کے علاوہ بوڑھے والدین اس خوف میں زندگی کی شام گزارتے ہیں کہ کہیں بچے انہیں تنہا نہ چھوڑ دیں، کہیں وہ ان کی محنت کو بھول کر ان کے ساتھ ناانصافی نہ کریں، یا کہیں وہ بڑھاپے میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہ ہو جائیں۔اس خوف کی وجہ سے وہ اور بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔یہ خوف مختلف روپ دھارتا ہے۔ کبھی یہ اپنا چہرہ بدلتا ہے، کبھی انداز۔ کبھی یہ ہمیں معاشی بحران کی صورت میں ڈراتا ہے تو کبھی سماجی بیزاری کے روپ میں سامنے آتا ہے۔ کبھی یہ محبوب کے روٹھنے کا خوف بن جاتا ہے تو کبھی وقت کے ہاتھوں اپنی اہمیت کھو دینے کا۔ یہ خوف اس قدر گہرا ہے کہ یہ ہماری خوشیوں میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔ جب ہم ہنستے ہیں تو ہم ساتھ ہی یہ سوچ کر ڈرتے ہیں کہ یہ خوشی کب تک رہے گی۔ جب ہم محبت کرتے ہیں تو جدائی کا خوف اس محبت کی ساری مٹھاس ختم کر دیتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں اس کے اتنے چہرے ہیں کہ انہیں گننا بھی مشکل ہے۔ یہ خوف ہر انسان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے اور ہمارے پیروں سے چل کر راستے کاٹتا ہے۔ کبھی یہ ہماری آنکھیں بوجھل کر دیتا ہے اور جب دن ڈھل جاتا ہے تو یہ ہماری روحوں کی اندرونی پرتوں میں اتر کر ایسے زخم دیتا ہے جو کبھی نہیں بھرتے۔
اوشو خوف کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ خوف ہی ہے جو ہمیں بھیڑ کا حصہ بننے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم اپنی انفرادیت کھو دیتے ہیں، کیونکہ مختلف نظر آنے کا خوف ہمیں اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔ جب ایک بڑی بھیڑ ایک ہی طریقے پر جی رہی ہو، لیکن اچانک کوئی شخص اس بھیڑ سے ہٹ کر چلنے کی کوشش کرے، تو اس پر خود یہ خوف لاحق ہوگا کہ کہیں میں غلط تو نہیں ہوں۔ خوف کی وجہ سے ہم وہ نہیں کر پاتے جو ہمارا دل کہتا ہے اور اس طرح ہم خود ساختہ قید میں جیتے ہیں، جس کا دروازہ کھلا ہے مگر ہم نے خوف کی بیڑیاں خود پہن رکھی ہیں۔ جب خوف ہی ہمارا اٹھنا بیٹھنا بن گیا ہے، تو پھر خوف کی زنجیروں سے ہمیں کون آزاد کر سکتا ہے؟ جب خوف کی منحوس پرتیں ہمارے ریشے ریشے میں رچ بس گئی ہیں، تو پھر ان سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری شاید یہی ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا اور مستقبل کا تصور خوف کے بغیر ممکن نہیں۔ آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟ یہ سوال ہمیں بے چین کر دیتا ہے۔ ہم اس کل کے خوف میں آج کو مار دیتے ہیں اور حال کی خوبصورتی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ خوف سے بھاگنا ہی واحد راستہ ہے، مگر شاید اس خوف کا سامنا کرنا ہی واحد سچائی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس خوف سے نکل سکتے ہیں؟ کیا کوئی ایسا راستہ ہے، جس پر چل کر ہم خوف کی پرچھائیوں سے نکل کر دائمی خوشی اور سکون سے مالامال ہو سکتے ہیں؟ شاید ہاں، شاید نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اگر ہم اس خوف کو پہچان لیں، اس کے منبع کو جان لیں، تو پھر شاید اس سے آزاد ہونے کے مواقع موجود ہیں۔ خوف ایک اندھیرا ہے اور اندھیرے کا واحد علاج روشنی ہے۔ روشنی علم کی شکل میں، یقین کی شکل میں اور اعتماد ہے۔ جب ہمیں خود پر بھروسہ ہو گا اور اپنی صلاحیتوں پر یقین ہو گا، تو صد فیصد یہ ممکن ہے کہ ہم خوف سے دور بھاگنے لگے۔ یہ اس لیے کہ خوف کی کوئی الگ پہچان نہیں ہے۔ یہ بے بنیاد معیاروں کا مجموعہ ہے۔ اس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ جو شخص خوف کو جان لیتا ہے، اسی دن سے خوف اس کی زندگی ختم ہو جاتا ہے۔
لیکن اس وقت تو ایسا لگتا ہے جیسے خوف ہی ہمارا سایہ ہے۔ دھوپ ہو یا چھاؤں، یہ ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے ہو سکتا ہے یہ سایہ(خوف) ہمیں یہ سکھانے کے لیے ہے کہ روشنی کہاں ہے، کیونکہ کبھی کبھار اللہ تک جانے کا راستہ بت خانے سے ہو کر جاتا ہے۔ جب ہم اس سائے سے تنگ آ کر خود روشنی کی طرف بڑھیں گے، تو یہ خوف پیچھے رہ جائے گا اور تب ہمیں پتہ چل سکے گا کہ جس خوف کو ہم کبھی نہ ختم ہونے والی چیز سمجھتے تھے، وہ دراصل ہمارے اذہان کی ہی پیداوار تھی۔ہم نے خود خوف کا جال بھنا تھا جس کے ہر اٹکے ہوئے دھاگے نے ہمارے زندگیوں کو ایسا باندھ دیا تھا کہ جس سے رہائی نہ ممکن ہو۔
جب تک خوف کی جڑیں کمزور نہیں ہو جاتیں، تب تک ہمیں اس خوف کے ساتھ جینا سیکھ لینا چاہیے۔ خوف سے نجات حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ہمیں اسے دوست نہ بنائیں، مگر دشمن بھی نہ سمجھیں۔ اسے ایک سبق سمجھیں کہ زندگی خوف سے بڑھ کر ہے اور زندگی کا ہر لمحہ انمول ہے۔ کیا پتہ، اسی خوف کی وجہ سے ہم پھر سے زندگی جینا شروع کریں؟ خوف کو سمجھنا، اس کے پار جانا اور اس سے سبق لینے ہی میں ہماری عافیت ہے۔ اس کے برعکس، اس خوف میں دھنس جانا اور اپنی زندگی کا نقصان کرنا سب سے بڑی حماقت ہے۔
[email protected]