جرس ِہمالہ
میر شوکت
ہولی کے رنگ ابھی پوری طرح سوکھے بھی نہ تھے کہ عید کی نمازوں نے فضا میں ایک اور طرح کی روشنی گھول دی۔ سڑکوں پر گُلال کے ذرے ابھی تک چمک رہے تھے۔سرخ، گلابی، پیلے اور نیلے رنگ کی چھینٹیں دیواروں پر نقش و نگار بنا رہی تھیں، جیسے کوئی فنکار نے آسمان کی تخلیق کو زمین پر اُتار دیا ہو۔ ہوا میں ابھی تک رنگوں کی مستی تھی، پھولوں کی خوشبو کے ساتھ مٹی کی سوندھی مہک گھل رہی تھی۔ اچانک، کھلے میدان اور سڑکوں پر جائے نمازوں کی سفید قطاریں بچھ گئیں۔ لوگ وضو کرتے ہوئے پانی کی ٹھنڈی چھینٹیں اُڑا رہے تھے، تکبیر کی گونج فضا کو چیر رہی تھی۔اللہ اکبر! ایک طرف بچوں کے قہقہے، رنگ برنگی پھواروں کی چھڑکاؤں کی آوازیں، دوسری طرف دعاؤں کی سرگوشیاں، امام کی آواز میں قرآن کی تلاوت۔ بظاہر یہ دو الگ الگ مناظر تھے، مگر درحقیقت یہ ایک ہی کہانی کے دو رخ تھے۔وہ کہانی جو اس سرزمین نے صدیوں سے اپنے دامن میں سنبھال رکھی ہے، گنگا اور جمنا کی طرح ایک دوسرے میں گھل مل کر بہنے والی تہذیب کی وہ لازوال روایت۔
یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ مارچ ۲۰۲۶ کی زندہ حقیقت ہے۔ ہولی چار مارچ کو پورے ملک میں رنگوں کی بارش ہوئی۔ لوگ ایک دوسرے پر گلاب، ہلدی اور نیل کی چھینٹیں اڑاتے، ناچتے گاتے اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیتے نظر آئے۔ صدر دروپدی مرمو نے بھی اسے اتحاد کی علامت قرار دیا۔ پھر چاند کی نظر آنے میں تاخیر کی وجہ سے عید الفطر اکیس مارچ کو منائی گئی۔ لوگوں نے کھلے میدانوں اور سڑکوں پر نماز ادا کی، ایک دوسرے کو گلے لگایا، امن و خوشحالی کی دعائیں مانگیں۔ جے پور، راجستھان میں تو دل دہلا دینے والا منظر دیکھنے میں آیا۔ عیدگاہ کے باہر’’ہندو مسلم ایکتا سمیتی‘‘ کے تحت ہندو بھائی جمع تھے۔ جیسے ہی مسلمان نمازی صف باندھ کر کھڑے ہوئے، ان پر گلاب کی پنکھڑیوں کی بارش ہوئی۔ ہوا میں پھولوں کی خوشبو اڑ رہی تھی، لوگ مسکراتے ہوئے گلے مل رہے تھے، ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ یہ صرف ایک منظر نہیں تھا،یہ گنگا جمنی تہذیب کی زندہ تصویر تھی، جہاں رنگوں کی مستی اور نماز کی خشوع ایک دوسرے میں گھل مل گئے۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہےاور وہ اکثر بلند آواز میں چیختا ہے۔ کہیں ایک معمولی تنازع نے جان لے لی، کہیں عدالتوں کے دروازے اس خوف سے کھٹکھٹائے گئے کہ نفرت پھر سے آگ نہ بن جائے۔ تاریخ کے اوراق ابھی پرانے نہیں ہوئے۔2020 کی دہلی کی وہ آگ ابھی بھی یادوں میں دہکتی ہے، جب محلے جل رہے تھے مگر انہی محلوں میں کچھ دروازے ایک دوسرے کے لیے کھلے رہے، کچھ ہاتھ مذہب نہیں بلکہ انسان کو تھامے ہوئے تھے۔ بُرائی چیختی ہے، اس لیے سنائی دیتی ہے، آگ لگاتی ہے، اس لیے نظر آتی ہے؛ خبر بنتی ہے، اس لیے پھیلتی ہے۔ مگر اچھائی؟ وہ اکثر خاموش رہتی ہے۔کسی گلی کے نکڑ پر، کسی گاؤں کی روایت میں، کسی انجان ہاتھ کے لمس میں۔
چھوٹے سے گاؤں میں لوگ عید پر نئے کپڑے نہ سہی، مگر پڑوسیوں کو پھل اور مٹھائی ضرور بانٹتے ہیں۔ ہوا میں مٹھائی کی مہک، پھلوں کی تازگی اور ایک دوسرے کی مسکراہٹیں۔ شہروں میں نوجوان اپنے مذہب سے ہٹ کر دوسرے کے دروازے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ این جی اوز عید کو یتیم بچوں کے ساتھ مناتی ہیں، جن کا مذہب مختلف ہو مگر بھوک ایک جیسی۔ یہ وہ ہندوستان ہے جو شور نہیں کرتا،بس زندہ رہتا ہے۔ یہ ایک عجیب نفسیاتی حقیقت ہے کہ منفی واقعات ذہن پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ نفرت کی ایک چنگاری محبت کے ہزار چراغوں کو دھندلا دیتی ہے، کیونکہ آگ کی فطرت پھیلنا ہے اور روشنی کی فطرت خاموش رہنا۔ اسی لیے ایک فساد پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، مگر ہزاروں لوگوں کا روزمرہ کا امن خبر نہیں بنتا۔
مگر اس ملک کی اکثریت روزمرہ زندگی میں نفرت نہیں، بقائے باہمی کو ترجیح دیتی ہے۔ بازاروں میں سودا کرتے وقت، کھیتوں میں محنت کرتے ہوئے، سکولوں میں پڑھتے ہوئے لوگ ایک دوسرے کے مذہب سے زیادہ مشترکہ زندگی کو اہمیت دیتے ہیں۔ تہوار یہاں صرف مذہبی نہیں، سماجی بھی ہوتے ہیںاور یہی ان کی اصل طاقت ہے۔ ہولی نفسیاتی طور پر فاصلے مٹانے کا ذریعہ ہے۔رنگ جب چہرے پر لگتا ہے تو شناخت دھندلا جاتی ہے اور انسان صرف انسان رہ جاتا ہے۔ عید، جو رمضان کی ریاضت کے بعد آتی ہے، دوسروں کے درد کا احساس سکھاتی ہے،اس میں زکوٰۃ ہے، فطرہ ہے، گلے ملنا ہے، معاف کرنا ہے۔ جب یہ دونوں تہوار قریب قریب آئے،جیسے اس سال مارچ میں ہوا،تو یہ محض اتفاق نہیں، ایک علامت بن جاتا ہے۔
یہ ہم آہنگی گہری جڑیں رکھتی ہے، جو صدیوں پرانی ہے۔ مغلیہ دور میں اکبر اعظم کے دربار کا منظر ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ آگرہ کا قلعہ جہاں پھولوں سے سجی چھتوں کے نیچے ہندو اور مسلم درباری جمع تھے۔ اکبر خود رنگوں سے لتھڑے ہوئے، ہاتھ میں گلاب کی پتیاں لیے، ہندو راجاؤں کے ساتھ رنگ کھیل رہے تھے۔ ہوا میں گلاب کی پتیاں اُڑ رہی تھیں، ڈھول کی تھاپ، گیتوں کی لہریں۔ انہوں نے ہولی کو’’عیدِ گُلابی‘‘ یا’’آبِ پاشی‘‘ کا نام دیا۔ دربار میں سواںگ، ناچ گانے اور آتش بازیوں کا اہتمام کیا جاتا۔ یہ منظر گنگا جمنی تہذیب کی زندہ مثال تھا،جہاں بادشاہ ہندو روایات کو اپنا کر مسلمانوں کے ساتھ مل کر جشن مناتا تھا۔
لکھنؤ کی گلیوں کا منظر اور بھی دل کش ہے۔ نواب واجد علی شاہ کے زمانے میں ہولی ریاست کا تہوار بن چکی تھی۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے سواںگ، ناچ گانے اور آتش بازیوں کا اہتمام۔ نواب خود’’کرشن کنہیا‘‘ کہلاتے، رام لیلیٰ کے ڈرامے لکھتے، ہنومان مندر کی مرمت کراتے۔ دوسری طرف ہندو محرم میں تعزیہ داری کرتے،’’پہلے آپ‘‘ کی روایت کو فروغ دیتے۔ لکھنؤ کی گلیوں میں شیعہ، سنی اور ہندو ایک ساتھ مجالس میں بیٹھتے، ماتم کرتے، رنگ کھیلتے۔ یہ وہ تہذیب تھی جہاں دیوالی کو جشنِ چراغاں کہا جاتا، ہولی کو گلابی عید۔ آج بھی ہریانہ، مدھیہ پردیش اور لکھنؤ میں ہولی عید میلن کے پروگرام ہوتے ہیں،لوگ رنگ کھیلتے، روزہ افطار کرتے، بھائی چارے کا اعلان کرتے۔
اس تہذیب کی روح کبیر داس کی شاعری میں زندہ ہے۔ کبیر جو چودہویں صدی کے آخر میں بنارس کے ایک چھوٹے سے گھر میں پیدا ہوئے، ہندو اور مسلم دونوں روایات کے سنگم تھے۔ ان کی سادہ بولی میں دوہے آج بھی گنگا جمنی کی مثال ہیں۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں عید کی نماز کے بعد لوگ جمع ہوتے ہیں، کوئی بوڑھا کبیر کا دوہا پڑھتا ہے:’’بُرا جو دیکھن میں چلا، بُرا نہ ملیا کوئے۔جو دل کھوجا آپنا، مجھ سے بُرا نہ کوئے۔‘‘یعنی میںبُرائی تلاش کرنے نکلا تو کوئی برا نہ ملا، جب اپنے دل کو ٹٹولا تو مجھ سے بُرا کوئی نہ پایا۔ یہ دوہا سن کر لوگ مسکراتے ہیں، ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔ دوسرا دوہا، جو عید کی خوشی میں خاص طور پر گونجتا ہے:’’پوتھی پڑھ پڑھ جگ مُوا، پنڈت بھیا نہ کوئے۔ڈھائی آکھر پریم کے، پڑھے سو پنڈت ہوئے۔‘‘
کتابیں پڑھ پڑھ کر دنیا مر گئی، کوئی پنڈت نہ بنا۔محبت کے ڈھائی اکھر پڑھ لے تو وہی پنڈت ہے۔ کبیر کی یہ بات عید کی زکوٰۃ اور ہولی کی محبت کو ایک کر دیتی ہے۔
ایک اور دوہا، جو تاریخ کے فسادات کے وقت یاد آتا ہے:’’چلتی چکی دیکھ کر، دیا کبیرا روئے۔دوئی پاٹن کے بیچ میں، ثابت بچا نہ کوئے۔‘‘چلتی چکی دیکھ کر کبیر رو پڑے۔دو پٹوں کے بیچ میں کوئی بھی ثابت نہ بچا۔ یہ دنیا کی فانی ہونے کی یاد دہانی ہے، جہاں نفرت کی چکی سب کو پیس ڈالتی ہے۔ مگر کبیر کہتے ہیں:’’دکھ میں سمرن سب کرے، سکھ میں کرے نہ کوئے۔جو سکھ میں سمرن کرے، دکھ کاہے کو ہوئے۔‘‘یہ دوہے آج بھی اس ملک کی اکثریت کی زبان بنے ہوئے ہیں۔
نفرت کا کاروبار بھی ہے، مگر محبت کی معیشت زیادہ مضبوط ہے۔ نفرت کو اشتہار چاہیے، محبت کو نہیں۔ نفرت کو ہجوم چاہیے، محبت کو صرف دو دل کافی ہوتے ہیں۔ نفرت کا شور وقتی ہے، محبت کی خاموشی دائمی۔ آج اگر سڑک پر رنگ بھی بکھرے اور اسی سڑک پر نماز بھی ادا ہوئی۔جیسے جے پور میں پھولوں کی بارش ہوئی،تو یہ محض منظر نہیں، ایک بیانیہ ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو بتاتا ہے کہ اس ملک کی اصل روح نہ ٹی وی اسکرینوں پر، نہ سیاسی نعروں میں، بلکہ ان عام لوگوں میں سانس لیتی ہے جو صبح اپنے پڑوسی کو سلام کرتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔
یہ سچ ہے کہ برائی موجود ہے اور کبھی کبھی بہت بلند آواز میں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اچھائی کی جڑیں اس سے کہیں گہری ہیں۔ وہ مٹی میں پیوست ہیں، روایتوں میں بسی ہوئی ہیں، اور روزمرہ کے معمولات میں سانس لے رہی ہیں۔ اگر ایک جملے میں کہا جائے تو شاید یوں: یہ ملک نفرت سے نہیں برداشت سے چل رہا ہےاور وہ برداشت جو اعلان نہیں کرتی، بس نبھاتی ہےاور شاید یہی اس سرزمین کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہاں محبت کو ثابت کرنے کے لیے چیخنا نہیں پڑتا، وہ خاموشی سے بھی جیت جاتی ہے۔
[email protected]