فکر انگیز
ماجد مجید
بنیادی طور پر انسان کو مزاج اور رویے کے اعتبار سے دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا جو مجلس پسند ہوں اور تنہائی سے گھبراتے ہوں ،بلکہ ہر وقت سیر سپاٹے کرنے، لوگوں سے ملنے جلنے اور خوش گپیوں میں خوش رہتے ہوں، انہیں (بیروں بین extroverts ) کہا جاتا ہے ۔ان کے برعکس دوسرا گروہ تنہائی پسند ،غور و فکر کرنے والے ،اپنے خیالوں میں مگن رہنے اور محفلوں سے حتی المقدور اجتناب کرنے والے لوگ (دروں بین introverts) کہلاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک تیسری کیفیت ان دو رویوں کے خوبصورت توازن سے پیدا ہوتی ہے ۔ایسے لوگ جن کی شخصیات میں مذکورہ دونوں رویے توازن کے ساتھ موجود ہوں، وہ (دو بین ambiverts ) کہلاتے ہیں۔لیکن ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ ایک شخص میں دونوں رویے توازن کے ساتھ موجود ہوں۔اس لئے دو بین ambiverts قسم کے لوگ عملاً بہت ہی کم ہوتے ہیں اور عمومی طور پر دنیا میں مزاج کے اعتبار سے مندرجہ بالا دو اقسام کے لوگ ہی پائے جاتے ہیں۔ دروں بین introverts قسم کے لوگ غور و فکر کی عادت کے باعث فطرت کے حقائق کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔کائنات کے بارے میں سوچ بچار کے نتیجے میں قدرت اُن سے ہم کلام ہوتی ہے اور اس سلسلے میں اہم حقائق اُن پر منکشف ہوتے ہیں، ایسے لوگ اپنی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کی رہنمائی میں اللہ کو بھی پہچان لیتے ہیں، آخرت کی ضرورت اور حقیقت کو بھی سمجھ کر جان لیتے ہیں کہ بندگی صرف اللہ ہی کی کرنی چاہیے۔البتہ بیروں بین extroverts قسم کے لوگ جبکہ خود کو کھیل کود ،سیر سپاٹے، میل ملاقات وغیرہ میں مصروف رکھتے ہیں، اس لئے ان کا طبعی میلان غور و فکر کی طرف نہیں ہوتا۔ایسے لوگ کسی الہامی دعوت کو سمجھنے میں ہمیشہ دیر کرتے ہیں، اگر کبھی کسی ایسے معاملے کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں تو اکثر جذباتی انداز میں ہوتے ہیں۔ وہ کسی نظریے یا دعوت کو قبول کرتے وقت عام طور پر زیادہ متحرک اور فعال ثابت ہوتے ہیں اور یوں مسابقت میں بظاہر دروں بین introverts سے آگے نکل جاتے ہیں۔ انسانی مزاج کا یہ فرق انبیاء کرام کی شخصیات میں بھی پایا جاتا ہے، کچھ انبیاء کا مزاج صدیقین سے مناسبت رکھتا ہے اور کچھ شہداء سے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزاج جلالی تھا کہ مصر میں ایک آدمی کو مکا مارا تو اس کی جان ہی نکل گئی انسانی مزاج کے اعتبار سے اکثر انبیاء کی شخصیات صدیقیت کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے،جبکہ اکثر انبیاء کی شخصیات شہداء جیسی ہیں ہر رسول کو اپنی قوم کی طرف شاہد بنا کر بھیجا گیا کار رسالت یعنی دعوت و تبلیغ اور اتمام حجت میں عمل کا پہلو غالب ہے، جبکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری انسانیت کے لیے گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا اور خبر دار کرنے والا بھیجا گیا ہے۔
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر)