عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے عوام نے امریکہ-اسرائیل-ایران کشیدگی کے درمیان ایران کے متاثرہ شہریوں کے لیے بڑے پیمانے پر عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کی ہے، جس میں نقدی، زیورات اور اپنی جمع پونجی تک کا تعاون دیا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں ایران کے سفارت خانے نے اس انسانی تعاون کے لیے کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ “ہم کشمیر کے نیک دل لوگوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ ہمدردی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی۔”
سفارت خانے کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک خاتون کو اپنے آنجہانی شوہر کی یاد میں سنبھال کر رکھا گیا سونا عطیہ کرتے ہوئے اور بچوں کو اپنی گُلک سونپتے ہوئے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آئی کئی ویڈیوز اور تصاویر میں، خاص طور پر شیعہ اکثریتی علاقوں سے لوگ نقد رقم، زیورات اور تانبے کے برتن تک عطیہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما اور ترجمانِ اعلیٰ تنویر صادق نے اس اقدام کو انسانیت کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاؤوں سے لے کر شہروں تک لوگوں کا آگے آنا اجتماعی حساسیت اور ہمدردی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ “عطیہ دیں، لیکن اس کی نمائش نہ کریں۔”
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکنِ اسمبلی منتظر مہدی نے امدادی کوششوں کے لیے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ایران کے عوام کا ساتھ دینا ضروری ہے۔
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے رہنما اور آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر عمران انصاری نے کہا کہ خاص طور پر شیعہ برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے اور اسے اخلاقی و مذہبی فریضہ سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عطیات جمع کرنے میں شامل کچھ افراد کو مختلف ایجنسیوں کی جانب سے معلومات طلب کرنے کے لیے فون آ رہے ہیں، جس پر انہوں نے حکام سے حساسیت اور سمجھداری برتنے کی اپیل کی۔
مسٹر انصاری نے کہا کہ یہ عطیہ مکمل طور پر انسانی اور مذہبی مقصد کے لیے دیا جا رہا ہے اور اس میں لوگوں کے گہرے جذبات وابستہ ہیں، اس لیے غیر ضروری دباؤ سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ مہم جنگ سے متاثرہ لوگوں کے تئیں کشمیری عوام کی یکجہتی اور ہمدردی کی علامت بن کر ابھری ہے۔
ایران کی حمایت میں کشمیریوں کا انسانی ہمدردی کا جذبہ، ریلیف کے لیے بڑے پیمانے پر عطیات کی مہم