عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک اہم پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا ہے، جس میں یونین ٹیریٹری کے انتظامی ڈھانچے کی جامع تنظیمِ نو کے لیے قانونی فریم ورک وضع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔”جموں و کشمیر ٹیریٹوریل ایڈمنسٹریٹو ری آرگنائزیشن بل، 2026″ کے عنوان سے پیش کیے گئے اس مسودۂ قانون میں نئے انتظامی ڈویژنز کے قیام کی سفارش کی گئی ہے، جن میں چناب ڈویژن (ہیڈکوارٹر ڈوڈہ) اور پیر پنجال ڈویژن (ہیڈکوارٹر راجوری) شامل ہیں، جو موجودہ جموں اور کشمیر ڈویژنز کے علاوہ ہوں گے۔بل کے مطابق کشمیر ڈویژن میں متعدد نئے اضلاع کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جن میں ترال-اونتی پورہ ہِل ڈسٹرکٹ، اشمقام ہِل ڈسٹرکٹ، بیروہ، سوپور، ہندواڑہ، گریز، ٹنگڈار -کرناہ ہِل ڈسٹرکٹ اور نورآباد ہِل ڈسٹرکٹ شامل ہیں۔اسی طرح جموں ڈویژن میں نوشہرہ، بھدرواہ، بنی ہال، ٹھاٹھری، اکھنور، بلاور، کوٹرنکہ اور مینڈھر کو نئے اضلاع کے طور پر قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں سے کئی علاقوں کو ہِل ڈسٹرکٹس کے طور پر تجویز کیا گیا ہے تاکہ دشوار گزار خطوں میں بہتر اور مؤثر حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بل میں حکومت کو یہ اختیار دینے کی بھی تجویز شامل ہے کہ وہ سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے اضلاع کو جموں، کشمیر، چناب یا پیر پنجال ڈویژوں میں شامل کرے، جس کے لیے جغرافیائی تسلسل، انتظامی سہولت، سماجی و ثقافتی ہم آہنگی اور متوازن علاقائی ترقی جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا۔مجوزہ قانون سازی کا مقصد وسیع جغرافیائی پھیلاؤ، مشکل زمینی حالات اور علاقائی عدم توازن کے باعث درپیش انتظامی چیلنجز کا حل تلاش کرنا ہے، تاکہ نچلی سطح پر حکمرانی کو مضبوط بنایا جا سکے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔یہ بل جاری بجٹ اجلاس کے دوران غور کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ میں پیش کیا گیا ہے، جس کا اگلا مرحلہ 27 مارچ سے شروع ہوگا۔ اجلاس کے پہلے مرحلے کے دوران وزیر اعلیٰ نے 6 فروری کو بجٹ پیش کیا تھا جبکہ ایوان نے تفصیلی مباحث کے بعد مختلف محکموں کے مطالباتِ زر منظور کیے تھے۔
کاروباری شیڈول کے مطابق 30 مارچ اور یکم اپریل کو پرائیویٹ ممبرز بلز جبکہ 31 مارچ اور 2 اپریل کو پرائیویٹ ممبرز قراردادوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اجلاس 4 اپریل کو اختتام پذیر ہوگا۔
وحید پرہ کا جموں وکشمیر میں نئے ڈویژنوں اور اضلاع کے قیام کے لیے بل پیش