عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں سے تقریباً 130 کلومیٹر دور واقع خوبصورت اور دلکش مقام سناسر کو جلد ہی اپنا پہلا 9 ہول گالف کورس ملنے والا ہے، جس کے اس سال کے وسط (جون-جولائی) تک شروع ہونے کی توقع ہے۔
جموں و کشمیر حکومت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے عالمی معیار کی گالف انفراسٹرکچر تیار کر رہی ہے تاکہ گالف ٹورزم کو بڑھایا جا سکے۔ پٹنی ٹاپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر وریندر منیال نے بتایا کہ گھنے مخروطی درختوں اور پہاڑی سلسلوں سے گھرا سناسر گالف کورس جموں خطے کی سیاحت کے لیے ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ 300 کنال زمین پر پھیلا 9 ہول گالف کورس ہوگا، جس کی تعمیر پر تقریباً 16 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد خوبصورت سرسبز میدانوں میں مزید سیاحوں کو متوجہ کرنا اور کھیلوں کی بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔
وریندر منیال کے مطابق گالف کورس جلد مکمل ہونے کی امید ہے اور ممکنہ طور پر اس سال کے وسط میں اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سناسر ایک دلکش سیاحتی مقام ہے جہاں ہر سال ملکی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں اور یہ نیا گالف کورس سیاحت کو مزید فروغ دے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پٹنی ٹاپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اس علاقے کی مجموعی ترقی کے لیے دیگر منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ سناسر میں موجود ٹیولپ گارڈن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر سال اپریل میں سینکڑوں سیاح کھلتے ہوئے ٹیولپس دیکھنے آتے ہیں اور اس سال دو لاکھ سے زائد پھول سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کریں گے۔ یہ باغ 35 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 25 اقسام کے ٹیولپس موجود ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلے سے کئی معروف گالف کورس موجود ہیں، جن میں جموں تاوی گالف کورس، رائل اسپرنگز گالف کورس (سری نگر)، پہلگام گالف کورس اور گلمرگ گالف کلب شامل ہیں، جو کھلاڑیوں کو بہترین تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے سناسر میں پہلا 9 ہول گالف کورس اس سال کے وسط تک تیار ہونے کا امکان