مقصوداحمدضیائی
دور ِحاضر میں اغیار کی طرف سے طرح طرح کی دل آزار پالیسیوں کی وجہ سے امت کے اندر مایوسی پائی جاتی ہے، ہر وہ شخص کہ جو قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے بخوبی جانتا ہے ،کسی مومن کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حالات کے تھپیڑوں سے متاثر ہوکر ایک لمحہ کے لیے بھی مایوسی کا شکار ہو، درحقیقت انہی نشیب و فراز سے انسانی زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ تاریخ انسانی کے مطالعہ سے واضح ہوجاتاہے کہ جن حالات و مسائل سے آج کی دنیا کو واسطہ پڑا ہے، اس سے کہیں زیادہ اُمت مسلمہ مصائب و مشکلات کی شکار رہی ہے بلکہ پوری اسلامی تاریخ ایک اعتبار سے بحرانوں کی تاریخ رہی ہے۔ ہر دور کے اہل حق کو یاد رکھنا ہوگا کہ انہیں جب بھی دین اسلام جیسی لازوال اور انمول نعمت مقدر ہوگی تو انہیں قانون فطرت کے مطابق اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ حضرات انبیاء کرام ؑ کے ساتھ رہا ہے کہ محسنین اُمت پر غم کے پہاڑ توڑے گئے ، مگر نہ ظالم ظلم سے باز آیا اور نہ ہی انبیاء کرام کی مقدس جماعت اپنے مشن سے باز رہی اور نہ ہی مایوسی اُن کے قریب سے بھی گذری۔ قدرت نے محسن انسانیت محمد رسول اللہؐ کو بھی اپنے نظام کے مطابق شدید آلام و مصائب سے گذارا، اُن حقائق کی روشنی میں آج کے مسلمانوں کو بھی اپنے آپ کو ڈھالنا ہوگا اور موازنہ کرنا ہوگا، اگر خالق کائنات نے اسلام جیسی بیش بہا قیمتی نعمت سے نوازا ہے تو پھر مسلمانوں کو اس کی قیمت بھی چکانا پڑے گی۔ لہٰذا پیش آمدہ حالات میں صبرواستقامت کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے ساتھ وابستگی اختیار کرکے معرفت الٰہی حاصل کرنی ہوگی ۔بے شک راہ ِحق ہمیشہ خار دار ہوتی ہے اور انہی خار دار راہوں پر چل کر انسان منزل مقصود تک پہنچتا ہے ،موجودہ حالات میں اہل ایمان کو احکام خداوندی اور فرامین رسولؐ کی روشنی میں ہی سمجھنا ہوگا ۔ اللہ کو ربّ ، اسلام کو دین ِحق اور محمد رسول اللہ ؐ کو نبی آخرالزماں ماننے کے لوازم میں سے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام اس کی قضاء و قدر اور اچھی بُری تقدیر پر راضی رہیں۔ جب ہم سیرتِ رسولؐ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ اس وقت بھی راضی برضا تھے جب میدان جنگ میں نکلنا پڑا، آپ ؐ کے خلاف دشمن ِ اسلام لاؤ لشکر ، کیل کانٹوں اور عشرت کے سامانوں اور استکبار کے ساتھ صف آراء تھی۔ جب آپؐ کے پیارے چچا اور پیاری بیوی سیدہ خدیجتہ الکبریٰؓ دونوں وفات پا رہے تھے ، عام الحزن آگیا ۔ آپؐ کی تکذیب اور ایذا رسانی میں شدت آگئی ، اُس وقت بھی راضی تھے۔ جب آپؐ کی عزت کو چوٹ پہنچائی گئی ،آپؐ کو ساحر کذاب ، کاہن ، مجنوں اور شاعر کہا گیا، آپؐ نے کوئی شکوہ نہ کیا۔ جب مکہ سے آپؐ کو نکال دیا گیا، جہاں آپؐ کا لڑکپن اور آپ ؐکی نوجوانی گذری تھی، ہجرت کے وقت آپؐ مڑ مڑ کر اُس کی طرف دیکھتے اور فرما رہے تھے ،’’ اے مکہ ! تو زمین میں سب سے زیادہ مجھے پسند ہے ،تیرے رہنے والے مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں نہ نکلتا۔‘‘ جب آپؐ طائف گئے، انہیں دعوت دین دی تو انہوں نے بُرا جواب دیا، پتھر پھینکے ،آپؐ کے پیروں سے خون بہنے لگا لیکن آپ ؐراضی برضا رہے ۔مکہ چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا، آپؐ کا پیچھا کیا گیا ،راستے بند کئےگئے ، میدان احدؔ میں آپ ؐزخمی ہوئے ،آپؐ کے دندان مبارک شہید ہوئے ، پیارے چچا کا قتل ہوا، بہت سے صحابہ شہید ہوئے اور لشکرِ اسلام بظاہر شکست سے دوچار ہوا، لیکن آپؐ کی شجاعت قابل دید تھی ،فرمایا کہ ’’ لوگو ! صفیں باندھو! آؤ خدا تعالیٰ کی حمدوثنا کریں۔‘‘منافقین یہود اور مشرکین سب نے آپؐ کے خلاف گٹھ جوڑ کیا ،لیکن نبی اکرمؐ چٹان کی طرح اپنے موقف پر جمے رہے ،اس کا بدلہ تھا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا،’’ تیرا رب عنقریب ہی تجھ کو وہ دے گا، جس سے تم راضی ہوجاؤگے۔ ‘‘ جاننا چاہیے کہ کبھی کبھی اللہ پاک نعمتوں سے اور بعض کو مصائب میں مبتلا کرکے آزماتا ہے۔ ’’ اولاد اور مال و دولت بدنصیبی کا سبب بھی بن سکتے ہیں جیساکہ فرمان خداوندی کا مفہوم ہے کہ آپ کے اموال و اولاد دھوکہ میں نہ ڈالیں۔ ربّ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے ذریعہ دنیوی زندگی میں ان کو عذاب دیا جائے۔ ‘‘ کتنی ہی مصیبتیں فائدہ مند ہوتی ہیں ۔ ابن الاثیرؒ نے اپنی شاہکار کتابیں ’جامع الاصول‘اور ’ النہایہ ‘ اسی وجہ سے لکھیں کہ وہ چلنے پھرنے سے معذور تھے ۔امام سرخسیؒ نے اپنی کتاب’ المبسوط ‘کی پندرہ جلدیں اس وقت لکھیں جب اُن کو کنویں میں بند کر دیا گیا تھا۔ ابن القیمؒ نے’ زادالمعاد‘ بند کمرے میں لکھی ،علامہ قرطبیؒ نے ’ مسلم ‘ کی شرح کشتی کے اوپر لکھی ،ابن تیمیہؒ کے تمام ’ فتاویٰ ‘ اسیری کی حالت میں لکھے گئے۔ محدثین نے ہزاروں لاکھوں احادیث اکھٹی کیں کیوں کہ وہ فقیر اور اجنبی تھے۔ ابوالعلاء المعریؒ نے اندھا ہونے کے باوجود اپنی کتاب اور دواوین لکھے، طٰہٰ حسین بھی نابینا تھے، اِسی حال میں انہوں نے مشہور کتابیں اور ڈائری لکھی، غرض کہ کتنے ہی بلند عہدوں والے اپنے منصب سے معزول کر دیئے گئے تو انہوں نے علم کے میدان میں امت کی وہ خدمت کی جو عہدے پر رہ کر نہیں کرسکے۔ مصائب و آلام سے کون سا دور خالی رہا ہے ، مشقتیں اور شدائد دل کو مضبوط کرتے ہیں، گناہوں کو دھوتے اور غرور کا خاتمہ کرتے ہیں ،شدائد سے غفلت دور ہوتی ہے، حق تعالیٰ کی اطاعت اور خدائے واحد کے سامنے خود سپردگی کا جذبہ بڑھتا ہے۔ حزن و قلق نفسیاتی امراض کی جڑ ہیں ،یہ عصبی آلام کا سرچشمہ ہیں اور اضطراب وسوسوں اور زوال کی نشانی ہے۔ فرصت معصیت کا دروازہ ہے ،خالی اور بیکار رہ کر رنج و بلا کے شکار نہ بنیں، نماز پڑھیں ، قرآن مجید کی تلاوت کریں ، تسبیح پڑھیں ،مطالعہ کریں ، غور و فکر کریں ، لکھیں اور دعائیں کریں، ارشاد خداوندی ہے ’’ مجھے پکارو میں تمہاری سُنوں گا۔ ‘‘
الحاصل مستقبل اسلام کا ہے ۔دین اسلام حق و صداقت کا علمبردار ہے، انصاف کا طرفدار ہے ، اقتدار پر براجمان ہوکر پھٹی پرانی چٹائی پر بیٹھ کر انصاف کی عدالت کی مثال تو صرف اسلام ہی نے پیش کی ہے ، جس کی ایک اہم ترین مثال فاروق اعظمؓ کا دور خلافت ہے۔ آپ کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں اور ہر پہلو دوسرے سے زیادہ اہم روشن اور قابل رشک ہے۔ خوف خدا ، فکر آخرت ،حب الٰہی و حب رسولؐ اتباع سنت جرأت، حمیت ِدینی ، غیرتِ اسلامی ،غریب پروری، انسانیت نوازی ،قوت فیصلہ ، نظم و ضبط، اجتہاد اور استنباط مسائل جیسے سینکڑوں عنوانات ہیںجو سیرت فاروقیؓ کے صفحات پر جگمگا رہے ہیں اور تاریخ کا دامن حضرت عمرؓ جیسی جامع الصفات ہستی کی مثال پیش کرنے سے یقینا ًخالی ہے ۔ سیدنا فاروق اعظمؓ کی زندگی کا اہم ترین باب ، آپ کا انداز حکمرانی ہے مشہور مفسر اور مستند مورخ حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’ البدیہ والنہایہ ‘ میں حضرت عمرؓ کے انداز حکمرانی کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش فرمایا ہے۔ فاروق اعظمؓ فرماتے تھے کہ ’’ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا تو اس کے لیے بھی میں جوابدہ ہوں۔‘‘ آج ملت جن حالات سے دوچار ہوتی ہے تو بچوں جوانوں بوڑھوں مردوں اور عورتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، کچرے اور ذلتیں اُن پر ڈال دی جاتی ہیں، نجانے کیا کیا تماشے ہوتے ہیں۔ ایسے ایسے انسانیت سوز مظالم ڈھائے جاتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے، ایسے حکمرانوں پر بات کرنا بھی منہ کو خراب کرنا ہے، ربّ تعالیٰ ایسے لوگوں کی متعصبانہ اور خود غرضانہ سیاست چالوں سے انسانیت کو محفوظ رکھے۔ اللہ عزوجل ایسے مداریوں چالبازوں اور دھوکہ بازوں اور کذابین سے امت کی حفاظت فرمائے، مومنین اور مخلصین کو اقتدار اعلی نصیب کرے غرض کہ شاگردان محمد رسولؐ کی یہ امتیازی پہچان ہے کہ انہوں نے اپنے کردار و عمل سے انسانیت کا معیار قائم کر دیا جو کہا اورسُنا، اس پر عمل کرکے دکھایا ،وہ جھوٹی نمود و نمائش سے کوسوں دور اپنے استاذ کامل کے فقر و غنا اور سادگی کے عملی ترجمان تھے، وہ نفس کے محکوم نہ تھے بلکہ نفس ان کا محکوم تھا۔چنانچہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے جو مساوات کا درس دیتا ہے، بطور خاص اغیار کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی جان و مال کی حفاظت کی وصیت اسلام کا وہ عالی وصف ہے، جس نے چہار دانگ عالم میں اس کی کرنوں کو پہنچایا ہے۔ درحقیقت اہل اسلام سے خطا ہوگئی ہے، اہل اسلام نے نہ خود اسلام کے رہنما اصولوں سے مطلوب طور پر استفادہ کیا ہے اور نہ ہی بے قرار اور محتاج انسانیت کو اس گنج گراں مایہ سے روشناس کرایا ہے، ورنہ قدرت نے قرآن و حدیث ، کلمہ توحید ، نماز ، روزہ ، زکوٰة ، حج اور اخلاق وغیرہ ایسی قیمتی اور عظیم الشان نعمتیں عطا کی ہیں کہ جن سے پیار کئے بغیر دنیا رہ نہیں سکتی۔ سچ یہ ہے کہ اہل ایمان سے خطا ہوگئی ہے ،ہمارا کردار و عمل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ وقت چھٹائی کا وقت ہے ، ہمیں اس وقت باب اسلام پر کھڑے ہوکر رکاوٹ بننے کے بجائے ایک مثالی داعی کا کردار ادا کرنا ہے۔
���������������������������������