فکرو فہم
مسعود محبوب خان
اسلام نے جس پہلی وحی کے ذریعے انسانیت کو شعور، علم اور فہم کی راہ دکھائی، اس کا پہلا ہی لفظ ’’اِقراء‘‘ تھا۔ یہ محض پڑھنے کا حکم نہ تھا بلکہ انسانی تاریخ کی سمت متعین کرنے والا ایک ہمہ گیر اعلان تھا کہ علم ہی انسان کی اصل پہچان، اس کی عزّت اور اس کی خلافتِ ارضی کی بنیاد ہے۔ قرآنِ مجید بار بار عقل کو جھنجھوڑتا، فکر کو بیدار کرتا اور علم کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیتا ہے۔ رسولِ اکرمؐ نے علم کو ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دے کر یہ واضح کر دیا کہ دین اسلام جہالت کے اندھیروں کا نہیں بلکہ کتاب و حکمت کے اجالوں کا دین ہے۔ کتاب، درحقیقت، اسی قرآنی فکر کی عملی علامت ہے۔ یہ وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے علم نسل در نسل منتقل ہوتا، تجربہ محفوظ رہتا اور انسانی شعور ارتقاء پاتا ہے۔ اسلامی تہذیب کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ جب مسلمان کتاب سے وابستہ رہے تو وہ علم، تحقیق اور تہذیب کے امام بنے اور جب کتاب سے رشتہ کمزور پڑا تو فکری زوال، اخلاقی انتشار اور اجتماعی کمزوری نے انہیں آ گھیرا۔ اس لیے کتاب سے تعلق محض ایک ثقافتی یا تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ دینی، فکری اور تہذیبی فریضہ ہے۔
کتاب انسان کو نہ صرف علم عطاء کرتی ہے بلکہ اسے تفکر فی الخلق، تدبر فی القرآن اور محاسبۂ نفس کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ جبکہ علمی اعتبار سے کتاب تحقیق، تنقید، استدلال اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو فرد کو پختہ، معاشرے کو متوازن اور قوم کو باوقار بناتے ہیں۔ کتاب انسان کو سطحیت سے نکال کر گہرائی، تعصب سے نکال کر بصیرت اور انتشار سے نکال کر فکری استحکام کی طرف لے جاتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون اسی دینی و علمی پس منظر میں کتاب کی معنویت، اس کے تہذیبی کردار اور انسانی و اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ تحریر محض کتاب کی تعریف نہیں بلکہ ایک فکری دعوت ہے، اس رشتے کی تجدید کی دعوت جو کبھی ہماری شناخت، ہماری قوت اور ہماری قیادت کا سرچشمہ تھا۔ اگر ہم نے کتاب سے اپنا تعلق پھر سے مضبوط کر لیا تو نہ صرف ہماری فکری سمت درست ہو سکتی ہے بلکہ ایک صحت مند، پُرامن اور باوقار معاشرے کی تشکیل بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہی اس مضمون کا مقصد اور یہی اس کی روح ہے۔
کتاب محض کاغذ پر سیاہی کے چند نقش نہیں بلکہ تہذیبوں کی حافظہ، قوموں کی فکری وراثت اور انسان کے شعور کی معراج ہے۔ یہی وہ خاموش استاد ہے جو نہ وقت کی قید مانتا ہے اور نہ حالات کی سختی سے گھبراتا ہے۔ کتاب انسان کو تہذیب و ثقافت کے لطیف رموز، دینی بصیرت کی گہرائی، معاشی فہم کی باریکی اور سائنسی علوم کی وسعت سے آشنا کرتی ہے۔ وہ فکر کے افق کو کشادہ کرتی، سوال اٹھانے کا سلیقہ سکھاتی اور جواب تک پہنچنے کی جستجو کو مہمیز دیتی ہے۔ اسی لیے کتاب انسان کی بہترین دوست کہلانے کی حق دار ہے کہ کتابوں سے رشتہ رکھنے والا شخص کبھی تنہاء نہیں ہوتا؛ ہجوم میں بھی اس کے ساتھ ایک دنیا آباد رہتی ہے۔
کتاب کی رفاقت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مفاد، موسم اور مزاج کی تبدیلی سے بے نیاز رہتی ہے۔ جب وقت کی گرد دوستوں کو جدا کر دیتی ہے اور حالات کے نشیب و فراز عزیزوں کو دور لے جاتے ہیں، تب بھی کتاب خاموشی سے انسان کے پاس بیٹھی رہتی ہے، اس کا ہاتھ تھامے رکھتی ہے اور اسے ٹوٹنے نہیں دیتی۔ وہ غم کے لمحوں میں تسلی بنتی ہے، تنہائی میں ہم نشین اور اضطراب میں رہنما ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ عصرِ حاضر میں ٹی وی، انٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسانی توجہ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور لمحہ بہ لمحہ بدلتے مناظر نے ذہنوں کو منتشر کر دیا ہے، مگر اس شور و غوغا کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ کتاب آج بھی یکسوئی، گہرائی اور فکری استحکام کی علامت ہے۔ اس کا مطالعہ سطحی معلومات کے انبار کے بجائے سوچنے، سمجھنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی تربیت دیتا ہے، وہ صلاحیت جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ بچّوں کو مطالعے کی طرف مائل کرنا والدین اور اساتذہ دونوں کے لیے ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔ حالانکہ نفسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مطالعہ بچّوں کی ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ اچھی کتابیں نہ صرف ذہنی دباؤ، بے چینی اور احساسِ تنہائی سے بچاتی ہیں بلکہ تخیل کو وسعت دیتی، جذبات کو توازن عطاء کرتی اور شخصیت کو نکھارتی ہیں۔ کتاب بچّوں کو فضول اور نقصان دہ مشاغل سے دور رکھ کر انہیں تعمیری سوچ، اخلاقی قدروں اور مثبت طرزِ فکر کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ انہیں لفظوں سے محبت، خیال سے رفاقت اور علم سے وابستگی سکھاتی ہے۔ درحقیقت کتاب سے دوستی کا مطلب ایک روشن مستقبل سے دوستی ہے؛ ایسا مستقبل جو شعور، تہذیب اور انسان دوستی کی بنیادوں پر استوار ہو۔ اسی لیے قوموں کی زندگی میں کتاب کا چراغ جلتا رہے تو زوال کی تاریکی کبھی مستقل نہیں ہو سکتی۔
آج کا نوجوان جب مطالعے سے پہلو تہی اختیار کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے ماضی کی جڑوں سے کٹتا اور مستقبل کی سمت سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو نسل اپنی فکری تاریخ سے ناواقف ہو، اس کے خواب بھی کھوکھلے اور منصوبے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کتاب محض دل بہلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی بہترین دوست، خاموش رفیق اور علم و آگہی کا ایسا خزانہ ہے جو جتنا لٹایا جائے اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کتاب انسان کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے کا سلیقہ، سوال اٹھانے کی جرأت اور سچ تک پہنچنے کی لگن عطا کرتی ہے۔اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ مطالعے کا شوق تو دل میں موجود ہے، مگر کتاب اب عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے۔ یہ شکایت اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کتاب اور انسان کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جس نے انسان کے علم و ہنر کو جِلا بخشی، اس کی ذہنی استعداد کو وسعت دی اور اسے خود آگاہی کے نور سے منور کیا۔ کتاب نے انسان کو اپنے باطن سے مکالمہ کرنے اور اپنے گرد و پیش کے حالات و واقعات کو سمجھنے کا شعور عطاء کیا۔ کتاب سے دوستی کا مطلب محض الفاظ پڑھنا نہیں بلکہ شعور کی نئی منزلوں، فکر کے نئے زاویوں اور بصیرت کے تازہ دریچوں سے آشنا ہونا ہے۔(جاری)
رابطہ۔ 09422724040
[email protected]