میر شوکت
وہ صبح وادیٔ کشمیر کی تھی، مگر عام صبحوں جیسی نہیں تھی۔ پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں پر جب سورج کی پہلی کرن اتری تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے خاموشی سے برف کی سفید چادر پر سنہری روشنی کی باریک لکیر کھینچ دی ہو۔ دور دور تک پھیلے پہاڑ خاموش کھڑے تھے، ان کی چوٹیوں پر برف ایسے چمک رہی تھی جیسے وقت نے انہیں صدیوں سے سنبھال کر رکھا ہو۔ دریائے جہلم اپنی پرانی راہ پر دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا۔ اس کے پانی میں صبح کی روشنی ٹوٹ کر بکھر رہی تھی اور ہلکی لہریں ایسے لرز رہی تھیں جیسے کوئی پرانی یاد پانی کے دل میں جاگ رہی ہو۔ چنار کے سرخ پتے ہوا میں ہلکے ہلکے جھوم رہے تھے اور جب کوئی پتا ٹوٹ کر زمین پر گرتا تو یوں لگتا جیسے خزاں کسی پرانے قصے کی ایک سطر آہستہ سے زمین پر رکھ گئی ہو۔ادھر جموں میں توی کسی مست نازنین کی طرح خاموشی سے بہہ رہی تھی۔مگر اس خاموشی کے اندر ایک بے نام سی بے چینی تھی۔ جموں کشمیر UT جیسے سانس روکے کسی خبر کی منتظر تھی۔ گاؤں کی گلیوں میں لوگ معمول کے کام تو کر رہے تھے مگر دل کہیں اور لگا ہوا تھا۔ چائے کی دکانوں پر بیٹھے بزرگ، سکول جاتے لڑکے، کارخانوں کی طرف جاتے مزدور۔سب کے چہروں پر ایک انجانی سی توقع تھی۔ یہ انتظار کسی موسم کا نہیں تھا۔ یہ انتظار ایک خواب کا تھا جو برسوں سے اس ریاست کے دل میں پل رہا تھا۔
اسی انتظار کے بیچ ایک دن خبر آئی کہ جموں و کشمیر کی کرکٹ ٹیم نے پہلی بار Ranji Trophy جیت لی ہے۔یہ خبر جب جموں کشمیر میں پھیلی تو کچھ لمحوں کے لیے جیسے وقت رک گیا۔ لوگوں کو یقین نہیں آیا۔ پھر آہستہ آہستہ خوشی کی ایک لہر پھیلنے لگی، جیسے بہار کی پہلی ہوا کسی باغ میں داخل ہو جائے۔
رنجی ٹرافی ہندوستان کی سب سے قدیم اور باوقار فرسٹ کلاس کرکٹ چیمپئن شپ ہے جس کی بنیاد 1934 میں رکھی گئی تھی۔ اس کی تاریخ بڑے شہروں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ممبئی، دہلی، کرناٹک، تمل ناڈو۔ بڑے میدان، بڑی ٹیمیں اور بڑے وسائل۔ ان کے درمیان پہاڑوں کی ایک خاموش وادی بھی تھی جس کی ٹیم ہر سال اس مقابلے میں شامل تو ہوتی تھی مگر فتح کا تاج اس کے سر سے دور ہی رہتا تھا۔جموں و کشمیر کی ٹیم نے دہائیوں تک کوشش کی۔ وسائل کم تھے، سہولتیں محدود تھیں اور کبھی حالات ایسے ہوتے تھے کہ کھیل سے زیادہ زندگی کی فکر دل میں جاگ اٹھتی تھی۔ مگر اس سب کے باوجود وادی کے نوجوانوں نے کرکٹ کھیلنا نہیں چھوڑا۔وہ گلیوں میں کھیلتے تھے، کھیتوں کے کنارے کھیلتے تھے، کبھی برف کے میدانوں میں بھی کھیل لیتے تھے۔ سردیوں میں جب زمین برف سے ڈھک جاتی تو وہ برف کو ہٹا کر پچ بناتے۔ گیند کبھی برف پر پھسلتی، کبھی کسی پتھر سے ٹکرا جاتی، مگر کھیل جاری رہتا۔ ان کے پاس بڑے اسٹیڈیم نہیں تھے مگر خواب بڑے تھے۔اتنے بڑے جتنے جموںو کشمیر کے آسمان۔آخر ایک دن وہ خواب حقیقت بن گیا۔
جب اعلان ہوا کہ جموں و کشمیر نے پہلی بار رنجی ٹرافی جیت لی ہے تو یوں ٹی میں ایک لمحے کے لیے عجیب سا سکوت پھیل گیا، جیسے لوگوں کو یقین نہ آیا ہو۔ پھر خوشی کی ایک لہر گاؤں سے شہر تک دوڑ گئی۔ کہیں لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، کہیں نوجوانوں نے سڑکوں پر نعرے لگائے، اور کہیں بوڑھے خاموش بیٹھے مسکراتے رہے جیسے وہ برسوں پرانا خواب پورا ہوتا دیکھ رہے ہوں۔مگر اس کہانی کی جڑیں صرف میدان تک محدود نہیں تھیں۔یہ جڑیں وادی کی مٹی میں تھیں۔
دریائے جہلم کے کناروں پر، کھیتوں کے پاس اور گاؤں کی حدوں پر ایک خاص قسم کے درخت اُگتے ہیں۔ ان کے تنے سیدھے ہوتے ہیں، شاخیں نرم اور پتے باریک۔ ہوا چلتی ہے تو یہ درخت آہستہ آہستہ جھومتے ہیں جیسے کوئی پرانا گیت سن رہے ہوں۔ یہ دراصل Kashmir Willow کے درخت ہیں۔ جنہیں غالباً واٹر لارنس نے وادی کو تحفے میں دیے تھے۔ان درختوں کی لکڑی عجیب توازن رکھتی ہے۔ نہ بہت سخت، نہ بہت نرم۔ اس کے اندر باریک ریشے ہوتے ہیں جو اسے مضبوط بھی بناتے ہیں اور لچکدار بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس لکڑی سے بیٹ بنایا جاتا ہے تو وہ گیند کے وار کو سہہ بھی لیتا ہے اور شاٹ کو طاقت بھی دیتا ہے۔اسی لکڑی سے کشمیر کی مشہور ولو بیٹ صنعت وجود میں آئی۔جنوبی کشمیر کے کئی گاؤں،بیجبہاڑہ، سنگم، چارسو اور اننت ناگ اس صنعت کے مرکز بن چکے ہیں۔ صبح سویرے جب ان راستوں سے گزریں تو ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ کہیں لکڑی کے لمبے تنے ایک دوسرے پر رکھے ہوتے ہیں، کہیں آری کی آواز گونجتی ہے، کہیں نوجوان لکڑی کو تراش کر بیٹ کی شکل دے رہے ہوتے ہیں۔ تازہ لکڑی کی مہک ہوا میں پھیل جاتی ہے اور کارخانوں کی یہ خاموش محنت کسی ان دیکھی موسیقی کی طرح محسوس ہوتی ہے۔یہ لوگ شاید خود کبھی بڑے میدانوں میں نہ کھیلیں مگر ان کے ہاتھوں سے بنے بیٹ دنیا کے کئی میدانوں میں کھیلتے ہیں۔
بیٹ بنانے کا عمل بھی صبر مانگتا ہے۔ پہلے درخت کاٹا جاتا ہے، پھر اس کے تنے کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لکڑی کے بلاکس بنائے جاتے ہیں اور انہیں مہینوں تک دھوپ میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ خشک ہو جائیں۔ اس کے بعد انہیں تراشا جاتا ہے، ہموار کیا جاتا ہے اور آخرکار بیٹ کی شکل دی جاتی ہے۔ پھر اس میں ہینڈل لگایا جاتا ہے، اسے پالش کیا جاتا ہے اور وہ کسی دکان تک پہنچ جاتا ہے۔وہاں سے وہ بیٹ کسی نوجوان کے ہاتھ میں آتا ہے اور ایک دن میدان میں اترتا ہے۔اسی لمحے ایک درخت، ایک کاریگر اور ایک کھلاڑی۔تینوں ایک ہی کہانی میں جڑ جاتے ہیں۔
اسی صنعت کے بارے میں صحافی Majid Jahangir نے BBC News Hindi کی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ کشمیر کی ولو بیٹ صنعت صرف کھیل کا سامان بنانے کا کاروبار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کا سہارا ہے۔ اننت ناگ اور بیجبہارہ کے علاقوں میں سینکڑوں چھوٹے کارخانے موجود ہیں جہاں ہر سال لاکھوں بیٹ تیار ہوتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتے ہیں، اگرچہ ولو کے درختوں کی کمی اور بدلتے بازار نے اس صنعت کو نئے چیلنجوں سے بھی دوچار کر دیا ہے۔جموں و کشمیر کی رنجی ٹرافی کی جیت دراصل اسی کہانی کی تکمیل تھی۔یہ ان ولو کے درختوں کی جیت تھی جو برسوں تک دریا کے کنارے خاموش کھڑے رہتے ہیں۔یہ ان کاریگروں کی جیت تھی جو لکڑی کے ایک سادہ ٹکڑے کو خواب میں بدل دیتے ہیںاور یہ ان نوجوانوں کی جیت تھی جو انہی بیٹوں کے سہارے اپنے خوابوں کو میدان تک لے جاتے ہیں۔شام ڈھلتی ہے تو سورج پہاڑوں کے پیچھے غروب ہو جاتا ہے۔ وِلو کے درختوں کے سائے لمبے ہو کر زمین پر پھیل جاتے ہیں۔ ہوا آہستہ آہستہ پتوں کو ہلاتی ہے اور وادی میں ایک نرم سا سکوت اتر آتا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے درخت خاموشی سے مسکرا رہے ہوں۔شاید اس لیے کہ وہ جانتے ہیں۔کبھی کبھی تاریخ کسی سٹیڈیم میں نہیں لکھی جاتی،وہ دراصل کسی دریا کے کنارے کھڑے ایک خاموش درخت کی جڑوں میں لکھی جاتی ہےاور پھر ایک دن وہی درخت ایک پوری وادی کو جیت کی خوشی دے دیتا ہے۔
[email protected]