ڈاکٹر شگفتہ خالدی
کشمیر میں غیر سرکاری خیراتی ادارے ایک نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں اور ان کا مقصد یتیم، بے سہارا اور محتاج لوگوں کی زندگی آسان بنانا ہے۔ اس خطے میں جہاں حکومت کی موجودگی محدود ہے یا بعض اوقات عوام کی ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں وہاں یہ غیر سرکاری ادارے ایک امید کی کرن کے طور پر سامنے آتے ہیں۔.یہ ادارے یتیم بچوں، بے سہارا بزرگوں اور محتاج خاندانوں کو خوراک، کپڑے، طبی سہولیات اور تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض ادارے شادی کے انتظامات اور دیگر سماجی خدمات بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ کسی کی زندگی میں خوشی اور سکون آئے۔ دو وقت کی روٹی اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ، یہ ادارے بچوں کو تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔
یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کشمیر کے عوام بھی ان اداروں کے کام میں بھرپور مدد کرتے ہیں۔ لوگ دل و جان سے عطیات دیتے ہیں، رضا کارانہ خدمات انجام دیتے ہیں اور ہر ممکن تعاون فراہم کرتے ہیں تاکہ یہ ادارے اپنی خدمات جاری رکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے یہ ادارے عوام کی مدد سے یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی زندگی کی گاڑی کو چلانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
تاہم، کچھ غیر سرکاری ادارے ایسے بھی ہیں جو بدقسمتی سے عوام کو لوٹنے یا ان کی بھلائی کے بجائے خود فائدہ اٹھانے میں ملوث ہیں۔ یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی ادارے کی شفافیت یا نگرانی کمزور ہو۔ عوام کو چاہیے کہ وہ عطیات دینے سے پہلے اداروں کی ساکھ اور کام کا جائزہ لیں تاکہ مدد صحیح جگہ پہنچے اور حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچ سکے۔
کشمیر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشرتی مسائل کو دیکھتے ہوئے، ان غیر سرکاری اداروں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ ادارے نہ صرف یتیم بچوں اور بے سہارا افراد کی مدد کرتے ہیں بلکہ معاشرتی مسائل جیسے بڑھتی ہوئی غربت، بھوک اور بے روزگاری سے نمٹنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ گلی محلوں اور دور دراز علاقوں میں جہاں حکومت کی خدمات محدود ہیں، وہاں یہ ادارے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ان غیر سرکاری اداروں سے سبق سیکھے۔ یہ ادارے عوام کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں اور ان کی ضروریات کے مطابق خدمات فراہم کرتے ہیں۔ حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایسے اداروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے، ان کے ساتھ تعاون کرے اور اپنے اقدامات میں شفافیت اور عوامی خدمت کو ترجیح دے۔اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ خاص طور پر بھیک مانگنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قدغن لگانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر پیشہ ور بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے بحالی مراکز قائم کرے، روزگار کے مواقع فراہم کرے اور ایسے قوانین نافذ کرے جو پیشہ ور بھیک مانگنے کے رجحان کو کم کریں۔ اس سلسلے میں غیر سرکاری ادارے بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں تاکہ حقیقی ضرورت مندوں کی مدد ہو اور معاشرے میں نظم و ضبط برقرار رہے۔غیر سرکاری ادارے نہ صرف یتیموں اور محتاجوں کی زندگی آسان بناتے ہیں بلکہ معاشرت میں انسانی ہمدردی، تعاون اور بھائی چارے کا درس بھی دیتے ہیں۔ کشمیر میں یہ ادارے ایک روشن مثال ہیں کہ کیسے محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود انسان دوسروں کی خدمت میں مصروف رہ سکتا ہے۔ ان اداروں کی محنت اور عوام کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوتا۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ کشمیر میں غیر سرکاری ادارے حکومت کے لیے ایک سبق ہیں کہ عوام کی خدمت میں شفافیت اور استقامت کتنی اہم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان اداروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے، بدعنوان عناصر پر قابو پائے، بھیک مانگنے والوں کے مسئلے کا مؤثر حل نکالے اور عوام کی ضروریات کو ترجیح دے۔ اس طرح نہ صرف یتیم اور بے سہارا لوگ فائدہ اٹھائیں گے بلکہ پورے معاشرے میں خوشحالی، نظم و ضبط اور انصاف قائم ہو گا۔
[email protected]>