عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین ستیش شرما نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں ایندھن اور ضروری اشیائے خوردونوش کا تقریباً 21 دن کا ذخیرہ دستیاب ہے جبکہ عوام کو کسی بھی قسم کی قلت سے بچانے کے لیے مٹی کے تیل (کیروسین) کی سپلائی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
وزیر نے یہ بات وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی جانب سے ٹیولپ شو کی افتتاحی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سپلائی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ “اس وقت ہمارے پاس تقریباً 21 دن کے لیے ایندھن کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ کچھ لوگوں کے بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، اور جو بھی قصوروار پایا گیا چاہے وہ پیٹرول پمپ ہو یا گیس ایجنسی اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔”
وزیر نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر پہلے کیروسین فری خطہ بن چکا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے مٹی کے تیل کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ضروری اشیاء کی دستیابی برقرار رہے اور عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ستیش شرما نے کہا، “ہم عوام کے خادم ہیں۔ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔”
صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ امن کا قیام اولین ترجیح ہونی چاہیے اور امید ظاہر کی کہ موجودہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “نفرت کو ہمیشہ محبت نے شکست دی ہے اور ہمیں امید ہے کہ حالات جلد بہتر ہوں گے۔”
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی قیادت میں حکومت خطے میں ترقی اور سیاحت کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ کشمیر کو “ہندوستان کا سوئٹزرلینڈ” قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال خاص طور پر ٹیولپ گارڈن کے کھلنے کے بعد سیاحوں کی ریکارڈ آمد کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آنے والے سیاحوں کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خطے میں خوشحالی اور ترقی کو فروغ ملے۔
جموں و کشمیر میں 21 دن کا ایندھن ذخیرہ موجود، قلت سے بچنے کے لیے مٹی کے تیل کی سپلائی دوبارہ شروع: وزیر ستیش شرما