عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز ایران کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی کے سابق اراکینِ اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ایران کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کشمیر کے عوام کی جانب سے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کیلئے پُرامن احتجاج کرنے کو بھی سراہا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایران کے عوام اور مسلم اُمہ کیلئے دعا کریں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران اور کشمیر کے درمیان تاریخی اور ثقافتی روابط موجود ہیں اور اسلام بھی ایران کے ذریعے کشمیر پہنچا، جو دونوں خطوں کے درمیان گہرے روحانی اور تہذیبی رشتوں کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کو ایران کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ تنازعات اور جنگیں عالمی معیشت اور عالمی استحکام کو متاثر کرتی ہیں۔
پی ڈی پی صدر نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکی زیر قیادت انتظامیہ سے اپیل کی کہ احتجاج میں حصہ لینے والے افراد کی گرفتاری کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور جو لوگ اب بھی جیلوں میں بند ہیں انہیں رہا کیا جائے۔انہوں نے سماجی کارکن سونم وانگچک کی نظر بندی ختم کئے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مثبت ہے، تاہم ایسا قدم شروع میں ہی نہیں اٹھایا جانا چاہیے تھا کیونکہ وانگچک ماحولیاتی تحفظ کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے شبیر احمد شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے ان کی رہائی کیلئے قانونی جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ لوگ عدالتوں سے رجوع کر کے راحت حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بہت سے معاشی طور پر کمزور قیدی ایسے ہیں جو قانونی جنگ لڑنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور انہیں بھی انصاف ملنا چاہیے۔
ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، کشمیری عوام ایرانی عوام اور مسلم اُمہ کیلئے دعا کریں: محبوبہ مفتی