محمد ایوب گنائی
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک زمانہ ہے جس میں انسان اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے، اپنی روح کو پاک کرتا ہے اور اپنی زندگی کے انداز کو بہتر بنانے کا عزم کرتا ہے۔ اس مہینے کی عبادات میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صبر، ضبطِ نفس اور تقویٰ کا عملی درس دیتی ہے۔ روزے کے اس سفر میں دو لمحات نہایت اہم اور روح پرور ہوتے ہیں: سحری اور افطار۔ یہ دونوں صرف کھانے پینے کے اوقات نہیں بلکہ ایمان، شکر اور بندگی کی خوبصورت علامتیں ہیں۔
سحری کی ساعتیں اپنے اندر ایک خاص سکون اور نورانیت رکھتی ہیں۔ رات کی خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور فجر سے پہلے کا وہ پُرسکون ماحول انسان کے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جب ایک روزہ دار نیند کی مٹھاس کو چھوڑ کر اللہ کی رضا کے لیے بیدار ہوتا ہے تو یہ عمل خود ایک عبادت بن جاتا ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کو بابرکت قرار دیا ہے۔ اس وقت اٹھنا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ بندہ اپنے رب کے حکم کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے۔
سحری کی برکت صرف جسمانی طاقت تک محدود نہیں بلکہ اس کے روحانی پہلو بھی بہت گہرے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب دعا مانگنے والا اپنے رب کے حضور جھک کر دل کی بات کہہ سکتا ہے۔ اس وقت کی گئی دعا میں ایک خاص اثر ہوتا ہے، کیونکہ رات کے آخری پہر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص اس وقت چند لمحے تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار یا دعا میں گزار لے تو اس کا دل ایک عجیب سکون سے بھر جاتا ہے۔کشمیر کی وادی میں سحری کا منظر بھی ایک خاص دلکشی رکھتا ہے۔ سرد فضا میں جب مساجد سے اذانِ فجر کی صدا بلند ہوتی ہے اور گھروں میں سحری کے دسترخوان سجتے ہیں تو پورا ماحول ایک روحانی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے۔ کہیں چائے کی بھاپ اٹھ رہی ہوتی ہے، کہیں روٹی اور سالن کی خوشبو پھیل رہی ہوتی ہے، اور کہیں لوگ خاموشی سے قرآن کی تلاوت میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ سب مناظر رمضان کی برکتوں کو مزید محسوس کراتے ہیں۔دوسری طرف افطار کا وقت صبر کے امتحان کے بعد راحت اور شکر کا لمحہ ہوتا ہے۔ پورا دن بھوک اور پیاس کے ساتھ گزارنے کے بعد جب سورج غروب ہوتا ہے اور مؤذن کی آواز گونجتی ہے تو روزہ دار کے دل میں ایک خاص خوشی پیدا ہوتی ہے۔ یہ خوشی صرف کھانے پینے کی نہیں بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ اس نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک دن کا روزہ مکمل کیا۔
افطار ہمیں شکرگزاری کا سبق بھی دیتا ہے۔ عام دنوں میں شاید ہم پانی کے ایک گھونٹ یا ایک کھجور کی قدر محسوس نہیں کرتے، لیکن روزے کے بعد یہی چیزیں ہمیں بہت قیمتی لگتی ہیں۔ اس لمحے انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں جن کا ہم اکثر شعور ہی نہیں رکھتے۔
افطار کا ایک اور خوبصورت پہلو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا جذبہ ہے۔ رمضان میں لوگ اپنے گھروں کے دروازے مہمانوں کے لیے کھول دیتے ہیں، مساجد میں اجتماعی افطار کا اہتمام ہوتا ہے اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ اسلام میں کسی روزہ دار کو افطار کروانے کا بہت بڑا اجر بتایا گیا ہے۔ اس طرح رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں رہتا بلکہ محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کا عملی مظاہرہ بن جاتا ہے۔
یہ مہینہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو روزانہ بھوک اور تنگی کا سامنا کرتے ہیں۔ روزہ رکھ کر انسان ان کی تکلیف کو کچھ حد تک محسوس کرتا ہے اور اس کے دل میں ان کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا رجحان بھی بڑھ جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سحری اور افطار دونوں انسان کی روحانی تربیت کا حصہ ہیں۔ سحری ہمیں نظم و ضبط، عبادت اور برکت کا احساس دلاتی ہے، جبکہ افطار ہمیں صبر، شکر اور قناعت کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم ان دونوں لمحات کو صرف کھانے پینے تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کے روحانی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں تو رمضان ہماری زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔
رمضان کا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے دل کو پاک کرے، اپنے کردار کو بہتر بنائے اور اللہ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے۔ جب سحری کی خاموش ساعتوں میں بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور افطار کے وقت اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک نئی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ یہی روشنی دراصل رمضان کی اصل روح ہے، اور یہی سحری کی برکت اور افطار کی حقیقی نعمت ہے۔
[email protected]
��������������������������