فہم و فراست
جی کیو کامران
بے مثال قدرتی خوبصورتی اور دلفریب آب وہواؤں کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھنے والا سیاحتی مقام گلمرگ اب بھارت کے سرمائی کھیلوں کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے حال ہی میں کھیلو انڈیا سرمائی کھیل 2026 کے چھٹے ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے میزبانی نے اس برف پوش وادی کو ایک متحرک کھیل کے میدان میں تبدیل کیا ۔
’’23 سے 26 فروری 2026 تک منعقدہ سرمائی کھیلوں کے اس اہم مرحلے میں مختلف ریاستوں اور مرکزِ زیرِ انتظام علاقوں سے تقریباً ایک ہزار کھلاڑیوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔ ان کھیلوں کا آفیشل مسکوٹ (Mascot) ‘شین۔ای۔شے (شان) ہے، جو کہ ایک برفانی چیتا ہے۔ یہ مسکوٹ نہ صرف سرمائی کھیلوں کے جذبے، لچک اور پھرتی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ہمالیائی جنگلی حیات کے تحفظ کا پیغام بھی دیتا ہے۔ جموں وکشمیر’ونٹر گیمز‘ کے زیرِ اہتمام، اسپورٹس کونسل اور مرکزی وزارت برائے امورِ نوجوان و کھیل کے تعاون سے منعقدہ اس تقریب میں الپائن اسکیئنگ (جس میں سب سے زیادہ شرکت رہی)، نورڈک اسکیئنگ، سنو بورڈنگ اور اسکی ماؤنٹینیئرنگ کے سنسنی خیز مقابلے منعقد ہوئے۔ ایک دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کو اب تک ‘کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کے تمام ایڈیشنز کی خصوصی میزبانی کا شرف حاصل رہا ہے۔ان کھیلوں کا باقاعدہ افتتاح لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گلمرگ کے مرکزی مقام پر کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ اب محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک ‘حقیقی قومی تہواربن چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گلمرگ میں یہ کھیل نہ صرف کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں بلکہ امن، مساوات اور بھائی چارے کے نظریات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر الثقافتی ملک میں یہ کھیل ایک مشترکہ ورثے اور عالمگیر زبان کی حیثیت رکھتے ہیں۔تقریب کی رونق میں اضافہ کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ، جو خود بھی اسکیئنگ کے بے حد شوقین ہیں، نے خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی انتھک کوششوں کا مقصد گلمرگ کو ایک عالمی معیار کے بین الاقوامی اسکیئنگ مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس اسٹریٹجک وژن سے بڑے پیمانے پر معاشی فوائد حاصل ہوں گے، جن سے وادی میں کھیل اور سیاحت سے جڑے تمام شعبے مستفید ہوں گے۔اس افتتاحی تقریب میں وزیر برائے امورِ نوجوان و کھیل ستیش شرما، سیکریٹری اسپورٹس کونسل نزہت گل، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (SAI) کے نمائندگان، نامور کھلاڑی اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ کھیلوں کے شائقین کی ایک بڑی تعداد نے شدید سردی کے باوجود میدان میں موجود رہ کر ملک کے بہترین ایتھلیٹس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔
’’برفانی ڈھلانوں پر اپنی مکمل بالادستی برقرار رکھتے ہوئے، بھارتی فوج نے ‘کھیلو انڈیا ونٹر گیمز 2026’ میں ٹیم چیمپئن شپ کا کامیابی سے دفاع کیا۔ یہ بھارتی فوج کی مسلسل تیسری بڑی فتح ہے، اس سے قبل فوج نے 2024 اور 2025 کے ایڈیشنز میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ آرمی نے مجموعی طور پر 23 تمغے جس میں 9 سونے، 6 چاندی کے اور 8 کانسی کے تمغے شامل ہیں جیت کر چیمپئن شپ اپنے نام کی، جبکہ ہماچل پردیش 14تمغوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔گلمرگ کے عالمی شہرت یافتہ ‘کونگ ڈوری اور تاریخی ‘گالف کورس کے میدانوں میں کھلاڑیوں نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ انڈین آرمی نے بالخصوص ‘نورڈک کراس کنٹری مقابلوں میں اپنی دھاک بٹھا دی،15 کلومیٹر کی کٹھن دوڑ میں آرمی کے کھلاڑیوں نے پہلی تینوں پوزیشنز پر قبضہ کر کے ‘کلین سویپ کیا۔ اس ریس میں محمد علی پہلے، پدما نامگیل دوسرے اور سنی سنگھ تیسرے پائیدان پر رہے۔ آرمی کے مینک پنوار دوہرے طلائی تمغے (Double Gold) جیت کر ان کھیلوں کے ‘سلالم مین (Slalom Man) قرار پائے۔سنو بورڈنگ کے ‘جائنٹ سلالم مقابلے میں جموں و کشمیر کے زبیر احمد لون نے انڈین آرمی کے وویک رانا کو معمولی فرق سے شکست دے کر جموں و کشمیر کے لیے اس ایڈیشن کا پہلا گولڈ میڈل جیتا اور مقامی شائقین کے دل جیت لیے۔ کرناٹک کی تجربہ کار کھلاڑی بھوانی تھیکاڈا ننجنڈا، جو اب تک کے تمام چھ ایڈیشنز کا حصہ رہی ہیں، نے خواتین کے ‘نورڈک سپرنٹ میں اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں ہماچل پردیش کی پریتی ٹھاکراور سی آر پی ایف کی کاجل کماری رائےشامل رہیں، جنہوں نے دوہرے طلائی تمغے اپنے نام کئے۔2026 کے یہ سرمائی کھیل دو مرحلوں پر مشتمل تھے؛ پہلا مرحلہ لداخ کی بلندیوں پر (20 سے 26 جنوری) جبکہ دوسرا اور فیصلہ کن مرحلہ گلمرگ (23 سے 26 فروری) میں منعقد ہوا۔ جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل اور اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے زیرِ اہتمام یہ رنگا رنگ میلہ گلمرگ گالف کورس میں ایک پُروقار اختتامی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کے چھٹے ایڈیشن کی اختتامی تقریب خطے کے لیے ایک جامع روڈ میپ کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جہاں مرکزی اور علاقائی قیادت نے جموں و کشمیر میں کھیلوں کے معیار کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے باہمی تعاون کا عزم کیا۔ گلمرگ میں منعقدہ اس اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے امورِ نوجوان و کھیل، ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے گلمرگ کو دنیا کے صفِ اول کے ‘ونٹر اسپورٹس ہب کے طور پر متعارف کرانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ ایک تاریخی اعلان کے دوران انہوں نے کہا کہ مستقبل میں گلمرگ میں ان کھیلوں کو 15 روزہ مربوط اسپورٹس فیسٹیول کی شکل دی جائے گی، جس کا مقصد کھیلوں کے مقابلوں کو سیاحت، ثقافت اور ‘فٹ انڈیا کارنیول کے امتزاج سے جوڑ کر مقامی معیشت کو پائیدار بنیادیں فراہم کرنا ہے۔گلمرگ کی ترقی کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدلتے ہوئے موسمیاتی تناظر کے پیش نظر خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب سرمائی کھیلوں کے تسلسل کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ ’’گلمرگ میں اب مصنوعی برف بنانے کے نظام (Artificial Snow Generation) کی تنصیب وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔‘‘ ان کے بقول، کھیلوں کے وقار اور سیاحتی کیلنڈر کو غیر یقینی موسم کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے انفراسٹرکچر کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ناگزیر ہے۔
بے شک، سرمائی کھیلوں کی یہ توسیع مقامی معیشت کے لیے خوش آئند ہے، مگر گلمرگ کو عالمی مرکز بنانے کے خواب کی تعبیر میں ماحولیاتی حساسیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی معیار کی ڈھلانیں (Slopes) تیار کرنا سکے کا صرف ایک رخ ہے، جبکہ اس حسین وادی کے نازک ماحولیاتی توازن کا تحفظ اصل ترجیح ہونی چاہیے۔ گلمرگ کو قومی سرمائی کھیلوں کا ‘تاج برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو ‘پائیدار ترقی (Sustainable Development) کے ماڈل پر عمل کرنا ہوگا، جس میں سیاحوں کی آمد کی گنجائش کا معقول انتظام،سنگل یوز پلاسٹک پر مکمل پابندی اور صفائی کے قوانین کا سختی سے نفاذ شامل ہیں نیز برقی گاڑیوں کا فروغ کاربن کے اخراج کو روکنے اور وادی کے قدرتی ماحول کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔سیاحت اور کھیلوں کے بنیادی محور کی حیثیت سے یہ مقام ایک انمول اثاثہ ہے۔ سخت ماحولیاتی قوانین کے ذریعے اس کا تحفظ ہی مقامی روزگار اور کھیلوں کی ترقی پزیر معیشت کے مستحکم مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں اس حسن کی حفاظت کرنی ہوگی جو پوری دنیا کو ہماری دہلیز تک کھینچ لاتا ہے۔