فکر انگیز
آصف حسین کشمیری
تحریر لکھنا محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فن، شعور اور ذمہ داری کا امتزاج ہے۔ ایک اچھی تحریر قاری کے ذہن و دل پر اثر ڈالتی ہے، اس کی سوچ کو متحرک کرتی ہے اور انسانی علمی و فکری صلاحیتوں کو اُجاگر کرتی ہے۔ تحریر لکھنے والا شخص صرف الفاظ کے کھیل تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک مشعلِ راہ بن کر قاری کے دلوں میں روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تحریر کا عمل سطحی نہیں ہوتا۔ لکھنے والا جب قلم اٹھاتا ہے تو دراصل وہ اپنے باطن، اپنے علم، اپنے تجربات اور اپنے شعور کو کاغذ پر منتقل کرتا ہے۔ اگر اس کے اندر فکری پختگی نہ ہو تو الفاظ تو جمع ہو جاتے ہیں، مگر اثر پیدا نہیں ہوتا۔ تحریر کی اصل طاقت اس کے اندر چھپے شعور میں ہوتی ہے اور یہی شعور اسے عام لکھائی سے ممتاز کرتا ہے۔
تحریر کی بنیاد علم اور مطالعہ پر استوار ہوتی ہے۔ مطالعہ ہی وہ زینہ ہے جو لکھنے والے کو فکری بلندی عطا کرتا ہے۔ کتابیں انسان کے ذہن میں سوال بھی پیدا کرتی ہیں اور ان کے جواب تلاش کرنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہیں۔ بغیر مطالعے کے تحریر محض ذاتی رائے بن کر رہ جاتی ہے، جس میں وزن اور وسعت پیدا نہیں ہو پاتی۔
تحریر کے شعور کو گہرا کرنے کے لیے یہ لازم ہے کہ لکھنے والا صرف جدید مضامین یا وقتی تحریروں تک خود کو محدود نہ رکھے بلکہ ان اکابر اہلِ قلم کی کتابوں سے رشتہ جوڑے، جنہوں نے فکر، دین، تہذیب اور زبان ،سب کو ایک ساتھ برتا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر وسعتِ فکر، تاریخی شعور اور خطیبانہ جلال کا نمونہ ہے۔ ابوالحسن علی ندویؒ کی تحریروں میں دردِ امت، فکری توازن اور اخلاقی گہرائی ملتی ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ہاں ترتیبِ فکر، مضبوط استدلال اور نظام سازی کا سلیقہ نمایاں ہے۔ وحید الدین خان کی نثر قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تحریریں زبان کی سادگی میں معنوی وزن پیدا کرتی ہیں جبکہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی تصانیف زبان، عقیدت اور علمی وسعت کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتی ہیں۔اسی طرح شاعری کا مطالعہ تحریر کو روح عطا کرتا ہے۔ میر کا درد، غالب کی فکری پیچیدگی، اقبال کی خودی اور پیغام، فیض کی انسان دوستی، جوش کی للکار اور جدید شعرا کا فکری کرب یہ سب لکھنے والے کے احساس کو تربیت دیتے ہیں۔ جو لکھنے والا شاعری نہیں پڑھتا، اس کی نثر اکثر خشک ہو جاتی ہے اور جو صرف شاعری پڑھ کر نثر لکھنا چاہے، وہ توازن کھو دیتا ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ نثر میں شعری احساس ہو اور شاعری میں فکری ضبط۔ یہی مطالعہ آہستہ آہستہ لکھنے والے کو یہ سکھاتا ہے کہ کہاں خاموش رہنا ہے، کہاں جملہ روکنا ہے اور کہاں لفظ کو وزن دینا ہےاور یہی وہ مقام ہے جہاں تحریر محض لکھائی نہیں رہتی بلکہ اثر بن جاتی ہے۔
تحریر کا دوسرا بڑا ستون اسلوب ہے۔ اسلوب لکھنے والے کی شناخت ہوتا ہے۔ یہ نہ نقل سے پیدا ہوتا ہے اور نہ جلد بازی میں۔ اسلوب وقت مانگتا ہے، صبر چاہتا ہے اور بار بار خود کو پڑھنے اور پرکھنے کا حوصلہ طلب کرتا ہے۔ اچھا اسلوب وہ ہے جو سادہ بھی ہو اور گہرا بھی، رواں بھی ہو اور باوقار بھی۔ بناوٹ تحریر کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ سادگی میں سنجیدگی تحریر کو معتبر بنا دیتی ہے۔ ایک اچھا لکھنے والا جملوں کو یوں ترتیب دیتا ہے کہ ایک خیال دوسرے خیال کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھے۔ یہی تسلسل تحریر کو بہاؤ دیتا ہے اور قاری کو آخر تک باندھے رکھتا ہے۔ تحریر کے ساتھ ذمہ داری جڑی ہوئی ہے۔ قلم ایک امانت ہے۔ لکھنے والا جو بات لکھتا ہے، وہ کسی نہ کسی ذہن پر اثر ڈالتی ہے۔ اس لیے غیر ذمہ دار تحریر، آدھا سچ یا محض سنسنی پیدا کرنے والا انداز تحریر کے وقار کو مجروح کر دیتا ہے۔ ذمہ دار قلم وہ ہے جو اختلاف بھی تہذیب کے ساتھ کرے اور تنقید بھی شائستگی کے دائرے میں رہ کر۔تحریر میں تنقیدی سوچ اختیار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ تنقیدی سوچ سے مراد منفی رویہ نہیں بلکہ ہر بات کو دلیل، عقل اور علم کی روشنی میں پرکھنا ہے۔ جو لکھنے والا سوال کرنا جانتا ہے، وہی بہتر جواب دے سکتا ہے۔ یہی سوچ تحریر کو فکری وزن عطا کرتی ہے۔ محض پڑھ لینا کافی نہیں، لکھنا بھی پڑتا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں سے خاص طور پر یہ کہا جانا چاہیے کہ وہ لکھنے کی عادت ڈالیں۔ ابتدا میں تحریر کمزور ہو سکتی ہے، مگر یہی کمزوری آگے چل کر طاقت بن جاتی ہے۔ لکھے بغیر لکھاری نہیں بنا جا سکتا۔آخر میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ تحریر کا اصل حسن اخلاص میں ہے۔ جب قلم دل کی سچائی کے ساتھ چلتا ہے تو اس کے الفاظ خود راستہ بنا لیتے ہیں، ایسی تحریر نہ شور مچاتی ہے اور نہ خود کو منوانے کی کوشش کرتی ہے بلکہ خاموشی سے دل میں اتر جاتی ہے۔آج کے نوجوانوں پر لازم آتا ہے کہ وہ مطالعے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں، ادیبوں، شعرا اور مفکرین کے مشن کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کریں اور تحریر کو محض شوق نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر اپنائیں۔
رابطہ۔ 9797888975
[email protected]
����������������