معلومات
کیتھرین لیتھم
آج سے ساڑھے چار ارب سال قبل دو قدیم سیارے آپس میں ٹکرائے اور مل کر اُس سیارے کو جنم دیا، جس پر آپ اور ہم رہتے ہیں۔ان دو سیاروں پروٹو ارتھ اور تھییا کے اس ملاپ کے دوران ایک چٹان الگ ہو کر ہمارا چاند بن گئی۔کائنات کی اس اتھاہ گہرائی اور تاریکی میں ہمارا قریب ترین ساتھی ہمارے وجود سے بہت قریبی طور پر منسلک ہے اور ہماری زندگی کے ردھم چاند کی گردش کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔چاند ہماری زمین پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے، سائنسدان اس گتھی کو آج تک مکمل طور پر سلجھا نہیں پائے ہیں۔ چیلنج یہ ہےکہ ہمارے اس ساتھی کا ہماری زمین پر واقعتاً کیا اثر ہوتا ہے۔زمین پر چاند کا جو اثر سب سے واضح انداز میں دیکھا جا سکتا ہے، وہ جوار بھاٹا ہے یعنی سمندری لہروں کا چڑھنا اور اُترنا۔زمین دن میں ایک مرتبہ اپنے ہی محور پر گھومتی ہے اور اس دوران چاند کی کششِ ثقل زمین کے قریب ترین حصے پر موجود سمندر کے پانی کو اپنی جانب کھینچتی ہے، جس سے زمین کی سطح پر ایک طرح کا اُبھار پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح زمین کے گھومنے کے باعث پیدا ہونے والی قوّت سینٹری فیوگل فورس جو کسی چیز کو مرکز سے دور دھکیلتی ہے، سمندر کے پانی کو دوسری جانب سے بھی اُٹھاتی ہے، چنانچہ یہ اُبھار زمین کے دوسری طرف بھی پیدا ہوتا ہے۔زمین ان دونوں اُبھاروں کے درمیان گھومتی ہے جس کے باعث دن میں دو مرتبہ ہائی ٹائید یا جوار یعنی اونچی لہریں اور دو مرتبہ لو ٹائیڈ یا بھاٹا یعنی کم سطح کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔جب چاند کا مدار زمین کے خطِ استوا سے دور جانے لگتا ہے تو جوار بھاٹا کی شدت میں کمی آنے لگتی ہے اور جب یہ ایکویئٹر سے ہم آہنگ ہونے لگتا ہے تو جوار بھاٹا کی شدت بڑھ جاتی ہے۔اب امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سطحِ سمندر بڑھنے کے اثرات اس لونر نوڈل سائیکل کے ساتھ مل کر سنہ 2030 تک جوار بھاٹا کے باعث آنے والے سیلابوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ کر سکتے ہیں۔ناسا کی سطحِ سمندر میں تبدیلی پر نظر رکھنے والی سائنسی ٹیم کے سربراہ بینجمن ہیملنگٹن جائزہ لے رہے ہیں کہ سطحِ سمندر کیسے قدرتی اور انسانی عوامل پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا ساحلی علاقوں کی آبادیوں پر کیا اثر ہو گا۔‘بینجمن کہتے ہیں کہ سیلابوں سے ساحلی پٹیوں کی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچے گا اور چاند کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔ہر اگلی دہائی کے ساتھ سیلابوں کی شدت میں چار گنا تک اضافہ ہو سکتا ہےاورہم دنیا بھر میں بلند لہروں کے باعث پیدا ہونے والے سیلابوں کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوتا دیکھیں گے اورساحلی علاقوں میں پائی جانے والی جنگلی حیات کے وجود کے لیے یہ ایک خطرہ بن سکتا ہے۔نمکین دلدلوں میں بڑے ممالیہ سبزی خور نہیں ہوتے مگر اُن کی جگہ جھینگے، کیکڑے، گھونگھے، ٹڈے اور دیگر کیڑے موجود ہوتے ہیں اور یہ سب جاندار سمندری پرندوں اور مچھلیوں کے لیے خوراک کا بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔سمندر کی سطح میں اضافہ اور لونر نوڈل سائیکل کا عروج مل کر نمکین دلدلوں کو ڈبو سکتے ہیںاور جب نمکین دلدلوں میں رہنے والے یہ جاندار مر جائیں گے تو ان پر منحصر سمندری پرندے، مچھلیاں اور دیگر انواع کو بھی نقصان پہنچے گا۔ان میں انسان بھی شامل ہیں کیونکہ نمکین دلدلیں عالمی معیشت میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں طرح طرح کی سمندری حیات پائی جاتی ہیں جو ماہی گیری میں پکڑی جانے والی تمام انواع کا 75 فیصد ہوتی ہیں۔جب چاند کے اس چکر اور سمندری سطح میں اضافے کے باعث سیلابوں میں اضافہ ہو گا تو میٹھے دلدلی علاقے بھی زبردست تبدیلی سے گزر سکتے ہیں۔کرسٹین ہوفینسپرگر ناردرن کینٹکی یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنسدان ہیں اور وہ میٹھے دلدلی علاقوں میں سیم و تھور کے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ تازہ پانی کی ساحلی دلدلیں ایک پورے دن کے دوران لہروں کی زیادہ تبدیلیوں سے گزرتی ہیں اور ان میں نمکین دلدلوں کے مقابلے میں زیادہ حیات پائی جاتی ہیں۔‘اُن کے مطابق ان میں سے کئی انواع اپنے کام میں سپیشلسٹ ہیں۔ پودے خوراک کی اس کڑی میں سب سے اوپر ہوتے ہیں اور جب وہ خود کو تازہ پانی کے پودوں سے بدل کر نمکین پانی برداشت کرنے والے پودوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں تو ان پر منحصر جاندار مثلاً پرندے، خشکی پر پائے جانے والے کیڑے وغیرہ بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ تازہ پانی کی انواع کھارے پن میں اضافے اور تازہ پانی میں رہنے کے لیے بہاؤ میں مزید اوپر جانے سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔میٹھی ساحلی دلدلوں میں کھارا پن سطحِ سمندر میں اضافے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا اور سیلاب جتنے زیادہ آئیں گے، میٹھی دلدلیں کھارے پن کی اتنی ہی زیادہ زد میں آئیں گی۔جوار بھاٹا کے بغیر دنیا کا موسمی نظام بہت مختلف ہوتا۔ جوار بھاٹا کی وجہ سے ہی سمندری بہاؤ چلتا ہے جو گرم اور ٹھنڈا پانی پوری دنیا میں گھماتا ہے۔گرم سمندری بہاؤ گرم اور مرطوب موسم لاتا ہے جبکہ ٹھنڈا سمندری بہاؤ ٹھنڈا اور خشک موسم لاتا ہے۔لونر نوڈل سائیکل کے باعث زمین پر موسم پیدا کرنے والا ایک بہت ہی اہم عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔عام طور پر خطِ استوا پر تیز ہوائیں گرم، سطحی پانی کو مغرب کی جانب دھکیلتی ہیں جس سے یہ بر اعظم جنوبی امریکہ سے انڈونیشیا کی جانب جاتا ہے اور اس کی جگہ ٹھنڈا، گہرا پانی اوپر کی جانب اٹھتا ہے۔ایل نینیو کے دوران یہ ٹریڈ ونڈز یا تجارتی ہوائیں معمول سے زیادہ تیز ہوتی ہیں اور گرم پانی کو ایشیا کی جانب زیادہ سے زیادہ دھکیلتی ہیں۔وہ ٹھنڈا پانی جو بر اعظم شمالی اور جنوبی امریکہ کے ساحلوں پر موجود ہوتا ہے وہ تیزی سے شمال کی جانب جانے لگتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زمین کے جنوبی حصوں میں سردیاں نسبتاً گرم ہونے لگتی ہیں جبکہ شمال میں معمول سے زیادہ ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ایل نینیو اور لا نینیا کے عوامل مجموعی طور پر اُس موسمی سائیکل کا حصہ ہیں جسے ایل نینیو سدرن اوسیلیشن (ای این ایس او) کہا جاتا ہے۔ سدرن اوسیلیشن کا مطلب خطِ استوا پر بحرالکاہل میں سطحِ سمندر پر ہوا کے دباؤ میں تبدیلی ہے۔اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ایل نینیو اور لا نینیا کا ایک دوسرے میں تبدیل ہونے پر چاند کی کششِ ثقل سے پیدا ہونے والی ایک زیر سطحی سمندری لہر بھی اثرانداز ہوتی ہو۔اسی طرح یونیورسٹی آف ٹوکیو کے محققین کے مطابق چاند کے 18.6 سال کے لونر نوڈل سائیکل کو دیکھ کر ایل نینیو کے بارے میں پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔برطانیہ کے نیشنل اوشینوگرافی سینٹر کے سائنسدان فل ووڈورتھ کے مطابق ’لونر نوڈل سائیکل کا واقعتاً سطحِ سمندر کے درجہ حرارت پر اثر ہوتا ہے۔‘ووڈورتھ کہتے ہیں کہ چاند کی کششِ ثقل جوار بھاٹا کے ساتھ ساتھ سطحِ سمندر کی بالائی تہوں کے آپس میں ملنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔اُن کے مطابق ایسا خاص طور پر شمالی بحرالکاہل میں ہوتا ہے۔(بی بی سی)