طبی آگہی
ڈاکٹر زبیر سلیم
حال ہی میں مجھے ایک بزرگ مرد کے گھر جانا پڑا جسے میں نے اس کی طبی حالت کی وجہ سے رمضان میں روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔جب میں دوبارہ اس سے ملا تو اس کا بلڈ پریشر قابو میں تھا اور دوائیں بھی مؤثر انداز میں کام کر رہی تھیں، لیکن ایک اور چیز واضح طور پر بے چینی کا باعث تھی۔انہوں نے آہستگی سے کہا’’ڈاکٹر صاحب، مجھے برا لگتا ہے۔ گھر میں سب روزہ رکھ رہے ہیں۔ صرف میں ہی ہوں جو روزہ نہیں رکھ رہا‘‘۔
طبی لحاظ سے اس کی حالت واضح تھی۔ اسے شدید کورونری آرٹری بیماری (دل کی شریانوں کی بیماری)، طویل عرصے سے ذیابیطس اور دائمی گردوں کی بیماری لاحق تھی۔ ایسے مریض کے لئے طویل وقت تک روزہ رکھنا خطرناک حد تک کم بلڈ شوگر (ہائپوگلیسیمیا)، پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)، الیکٹرولائٹ کے عدم توازن یا حتیٰ کہ دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے۔ طبی نقطۂ نظر سے اسے روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دینا دراصل اس کی حفاظت کے لئے تھا۔
لیکن اس دن اصل مسئلہ جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی تھا۔
طب میں اس احساس کو اکثر بیماری سے متعلق احساسِ گناہ یا صحت سے متعلق احساسِ گناہ کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی شخص کو لگتا ہے کہ وہ صحت کی وجہ سے کسی مذہبی فریضے کی ادائیگی میں ناکام ہو رہا ہے۔ مذہبی تناظر میں یہ کیفیت اس چیز سے بھی ملتی جلتی ہو سکتی ہے جسے ماہرینِ نفسیات روحانی اضطراب کہتے ہیں، یعنی وہ حالت جب بیماری کسی شخص کو اس کی پسندیدہ روحانی عبادات انجام دینے سے روک دے۔
بہت سے بزرگوں کے لئے رمضان صرف روزوں کا مہینہ نہیں ہوتا۔ یہ ان کی شناخت، روزمرہ معمول اور دہائیوں پر محیط ایمان کے تسلسل کا حصہ ہوتا ہے۔ جو شخص چالیس یا پچاس سال سے مسلسل روزے رکھتا آیا ہو، اس کے لئے یہ قبول کرنا آسان نہیں ہوتا کہ اب اس کا جسم اسے برداشت نہیں کر سکتا۔
یہ اندرونی کشمکش اکثر کھل کر بیان نہیں کی جاتی۔ گھر والے زیادہ تر طبی ہدایات پر توجہ دیتے ہیں،ڈاکٹر نے منع کیا ہے،لیکن جذباتی پہلو نظر انداز رہ جاتا ہے۔ بزرگ مریض کو یوں محسوس ہو سکتا ہے کہ وہ گھر میں ہونے والی ایک اجتماعی عبادت سے الگ ہو گیا ہے۔
امراضِ بڑھاپا (جیریاٹرک میڈیسن) میں ہم اکثر ایسے مریضوں میں اسی طرح کے جذبات دیکھتے ہیں جو بیماری کی وجہ سے اپنی خود مختاری کھو دیتے ہیں۔ جسم بدل جاتا ہے، لیکن انسان کی شناخت اتنی تیزی سے نہیں بدلتی۔ ایک بزرگ جو ہمیشہ روزے رکھتا رہا ہو، وہ اب بھی خود کو قابل سمجھتا ہے، چاہے اس کا جسم کچھ اور ہی کیوں نہ کہہ رہا ہو۔
عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے کئی نظام بدل جاتے ہیں جو روزہ رکھنے کی صلاحیت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔
پہلا مسئلہ پیاس کا احساس ہے۔ عمر کے ساتھ پیاس کا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ بزرگ افراد کو اکثر اس وقت بھی پیاس محسوس نہیں ہوتی جب جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ طویل روزوں کے دوران یہ پانی کی کمی اور الیکٹرولائٹ کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
دوسرا مسئلہ میٹابولزم (جسمانی توانائی کے نظام) کا غیر مستحکم ہونا ہے۔ ذیابیطس کے مریض جو انسولین یا شوگر کم کرنے والی دوائیں لیتے ہیں، طویل روزے کے دوران خطرناک حد تک کم بلڈ شوگر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چکر آنا، پسینہ آنا، ذہنی الجھن یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
تیسرا مسئلہ دل کی بیماریاں ہیں۔ بہت سے بزرگ افراد کو دل کے امراض ہوتے ہیں جیسے دل کی کمزوری، کورونری آرٹری بیماری یا دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی۔ اگر دوائیں وقت پر نہ لی جائیں یا جسم میں پانی کا توازن بگڑ جائے تو یہ بیماریاں بگڑ سکتی ہیں۔
گردوں کی بیماری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دائمی گردوں کی بیماری (CKD) کے مریضوں کو جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹ کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے افراد میں روزہ رکھنے سے گردوں کی کارکردگی مزید خراب ہو سکتی ہے۔
یہ محض نظریاتی خطرات نہیں ہیں بلکہ وہ طبی حقیقتیں ہیں جنہیں ڈاکٹر روزانہ اپنی پریکٹس میں دیکھتے ہیں۔
اس کے باوجود روزہ نہ رکھنے کا نفسیاتی بوجھ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ بعض مریض اداسی، چڑچڑاپن، خاندانی کھانوں سے دوری یا رمضان کے دوران سماجی تقریبات میں کم شرکت جیسے رویے ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تو طبی ہدایات کے باوجود چھپ کر روزہ رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، جو سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لئےطبی وضاحت اور جذباتی تسلی دونوں ضروری ہیں۔
ایک اہم قدم یہ ہے کہ مریضوں کو سمجھایا جائے کہ روزے سے استثنا عبادت میں ناکامی نہیں ہے۔ اسلامی فقہ میں بیمار افراد کو واضح طور پر روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ زندگی اور صحت کی حفاظت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
نفسیاتی نقطۂ نظر سے اگر اس صورتحال کو نئے انداز میں سمجھایا جائے تو مدد ملتی ہے۔ روزہ نہ رکھ سکنے کو نقصان کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے عبادت کی شکل میں تبدیلی سمجھا جا سکتا ہے۔
رمضان صرف روزوں کا نام نہیں ہے۔ یہ نماز، صدقہ، غور و فکر اور ہمدردی کا مہینہ بھی ہے۔ جو بزرگ روزہ نہیں رکھ سکتے وہ ان عبادات میں بھرپور حصہ لے سکتے ہیں۔
بہت سے بزرگ متبادل عبادات میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت، طویل دعائیں، اور جہاں طبی طور پر ممکن ہو تراویح کی نماز میں شرکت انہیں روحانی تعلق برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
صدقہ و خیرات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنا، روزہ داروں کے لئے افطار کا انتظام کرنا یا کمیونٹی کی فلاح میں حصہ لینا رمضان کی روح میں شامل رہنے کا احساس پیدا کرتا ہے۔
خاندان کا کردار بھی بہت اہم ہے۔
جذباتی شمولیت طبی حفاظت جتنی ہی ضروری ہے۔ اگر بزرگوں کو افطار کے وقت خاندان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دی جائے، اگر وہ روزہ دار نہ ہو،تو انہیں علیحدگی کا احساس نہیں ہوتا۔
صحت کے ماہرین کو بھی اپنے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ ’’آپ روزہ نہیں رکھ سکتے‘‘ مریض کے لئے سخت محسوس ہو سکتا ہے۔ جب ڈاکٹر جسمانی وجوہات کی وضاحت کریں اور جذباتی مشکل کو تسلیم کریں تو مریض کے لئے اس مشورے کو قبول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
بزرگوں کی طب میں علاج صرف بلڈ پریشر یا شوگر کو قابو میں رکھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ اس جذباتی ماحول کو سمجھنے کا بھی نام ہے جس میں بیماری موجود ہوتی ہے۔
جس بزرگ سے میں اس دن ملا تھا، اس نے ہماری گفتگو غور سے سنی۔ بات کے آخر میں اس کے چہرے کے تاثرات نرم پڑ گئے۔انہوں نے کہا’’ڈاکٹر صاحب، شاید اللہ میری نیت جانتا ہے‘‘۔اور شاید یہی سب سے اہم بات ہے۔
رمضان کا مقصد کمزور جسموں کو توڑنا نہیں بلکہ روح کو بلند کرنا ہے۔ بعض اوقات سب سے مخلص عبادت برداشت نہیں بلکہ حکمت ہوتی ہے،یعنی جسم کی حدود کو پہچاننا اور شکرگزاری کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرنا۔