زندگی کے پھول کھلنے سے پہلے
ہو گئے پژمرده ملنے سے پہلے
ہو کنول کا پھول،پاکیزه، سراپا
ہم تھے دلدل تیرے ملنے سے پہلے
دل پہ چھایا اندھیروں کا پہرا
خواب تھے سب بند کھلنے سے پہلے
عمر بھر کانٹوں سے رشتہ رہا میرا
پھول سمجھے نہ تھے کھلنےسے پہلے
کیا جلاتا دل کا خاموش صحرار
راکھ تھا سب کچھ گو جلنےسے پہلے
نیند آنکھوں میں ابھی باقی تھی اور
صبح آ پہنچی تھی کُھلنے سے پہلے
دل میں دیواریں ہی دیواریں تھیں اور
راستے گم تھے جو ملنے سے پہلے
کون پوچھے گا ترا حال یاورؔ
مر چکا ہے شوق جینے سے پہلے
یاور حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ، کپوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
دل میں تیری یاد کا اک نور کا کاشانہ ہے
جسم مٹتا جا رہا ہے، روح کا پیمانہ ہے
تیرا جلوہ ہر طرف ہے، تو ہی تو بیگانہ ہے
آنکھ کو پردہ ملا ہے، دل مگر دیوانہ ہے
عشق تیرا آگ بھی ہے، عشق تیرا دانہ ہے
جو جلے وہ زندہ تر ہے، جو بچے ویرانہ ہے
تیری مرضی میں سکوں ہے، تیرا غم مستانہ ہے
جو عطا ہو تیری جانب سے وہی یارانہ ہے
ہم نے دیکھا ہر ستم میں لطف کا پیمانہ ہے
سبدرؔ اُس کی ہر ادا میں فیضِ بے پایانہ ہے
سبّدر شبیر
[email protected]
کیوں درد کو چُھپا کے بہاروں میں رکھتا ہے
یادوں کو ان حسین چناروں میں رکھتا ہے
اب تو کتابوں کی جگہ لی پی ڈی ایف نے
اب کون پھولوں کو یاں کتابوں میں رکھتا ہے !
ہر کام یوں تو ہوتے مکمل ہیں وقت پر
اک میں ہی ہوں جسے وہ قضاؤں میں رکھتا ہے!
تیری ہی دسترس میں ہے سب کچھ میرااگر
تو کیوں مُقدرات ستاروں میں رکھتا ہے!
کتنے ہی رند آ کے یہاں فیض پا گئے
وہ راز کیا ہے ؟ رب جو پہاڑوں میں رکھتا ہے!
اس کے ہی جلنے سے میرے گھر میں ہے روشنی
چھوٹے سے اک دیئے کو ہواؤں میں رکھتا ہے!
کب کا اُڑا لیا ہوتا اس تیز آندھی نے
کوئی تو ہے جو مجھ کو دعاؤں میں رکھتا ہے!
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر کشمیر
کبھی تھا گل و گلزار کا موسم
اب ہے فقط خار کا موسم
ہر دل تھا کبھی آشنا ہم سے
اب ہے فقط انتظار کا موسم
ویسا ہی رہا ہے دستور یہاں کا
بدلا ہے مگر پیار کا موسم
یہ اندر کا ہے دھواں دلوں سے اُٹھتا
جو باہر ہے غبار کا موسم
گرزر گیا بچپن اور جوانی
اب ہے دل فگار کا موسم
چھا سی گئی دلوں پر خاموشی
خواب ہے دیدِ یار کا موسم
رازِ دل آنکھوں میں تھا پوشیدہ
اب ہے وہ آشکار کا موسم
زخموں کو بھی ملتا ہے مرہم
جب آتا ہے اظہار کا موسم
کہاں گیا وہ انتظار کا لمحہ
کیوں آیا ہے قرار کا موسم
مڑ سا گیا دل کا رُخ اے صورتؔ
نہ اب ہے اختیار کا موسم
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549