فکر انگیز
سہیل احمد بٹ
دور جدید میں انسان زندگی کے ہر ایک شعبے میں ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے ۔ لیکن ترقی کی اس آڑ میں زندگی کے طور طریقے اور رہن سہن بھی تبدیل ہونے لگے ہیں۔ جدیدیت کی اس دوڑ میں کئی ایسے مسائل بھی ابھر کر سامنے آگئے ہیںجن پر اگر اس وقت قابو نہ پایا گیا تو آنے والی نسلوں کو ان کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ان مسائل میں ہر طرح کی آلودگی کا مسئلہ سرفہرست ہے ۔آلودگی نہ صرف انسان بلکہ پورے حیاتیاتی تنوع پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے ۔آلودگی کے اس دلدل کو ہمارے گھروں سے نکلنے والا کوڑا کرکٹ اور بھی سنگین بنا دیتا ہے ۔ہم میں سے بیشتر لوگ اس کو ڑا کرکٹ کو گلی چوراہوں ،کھلے میدانوں اور آبی ذخائر میں پھینک دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے تمام قدرتی وسائل تیزی سے آلودہ ہو رہے ہیں۔ نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ ہمیں نہ تو پینے کا صاف پانی مہیا ہو رہا ہے اور نہ اپنے کھیتوں کے لیے سینچائی کا پانی ۔کل تک جو ندی نالے ، جھر نے ،آبشار اور دریا صاف پانی سے جُھوما کرتے تھے، آج وہ بے بسی اور ہماری بے حسی کا نظارہ پیش کرتے ہوئے آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر اگر چہ اس کو ڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے کوششیں تو کی جا رہی ہیں لیکن وہ ساری کوششیں نا کافی ثابت ہو رہی ہیں۔ گھروں اور گلی کو چوںسے اس کوڑے کو نکال کر بڑے بڑے چوراہوں پر جمع کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے اٹھا کرDumping Sites تک پہنچایا جاتا ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں اس طرح کےDumping Sites قائم کیے گئے ہیں لیکن وہاں پر بھی کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی سائنسی اصولوںپر مبنی جدید نظام موجود نہیں ہے ۔نتیجے کے طور پر وہاں سے عفونت اوربدبو نکلتی ہے اور مضافاتی علاقوں میں پھیل جاتی ہے۔ اس بد بو کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں اور اس سے مختلف بیماریاں پھوٹ پڑنے کا بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔عوامی حلقے لگاتار اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سود مند اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے موجود غیر سائنسی نظام کی وجہ سے شہر سرینگر اور دیگر قصبہ جات میں آوارہ کتوں کی تعداد بھی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ یہ آوارہ کتے صبح اور شام پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں ،سکوٹر اوربائیک چلانے والوں پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ سرینگر میونسپل کارپوریشن ،مختلف اضلاع میں میونسپل کمیٹیاںاور دیگر بلدیاتی ادارے اختراعی اقدامات کرکے ،سماج کو کوڑا کر کٹ سے پاک کرانے میں اپنا کلیدی رول ادا کریں۔ عام لوگوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر صفائی اور پاکیزگی کے تئیںسوچ کو مثبت بنا کر ان اداروں کے ساتھ تعاون کر کے پورے ماحولیاتی نظام کو تقویت بخشنے میں ذمہ دارانہ رول نبھائیں۔سرکارکے ساتھ ساتھ بڑے بزرگ مثال قائم کرکے اگلی نوجوان نسلوں تک صفائی اور پاکیزگی کے حوالے سے بہترین اور عوام دوست پیغام پہنچائیں تاکہ پائیدار ماحولیاتی نظام کی داغ بیل ڈالنے میں خاصی مدد ملے سکے۔
[email protected]