ڈاکٹر شگفتہ خالدی
جموں و کشمیر میں مختلف عارضی اسکیموں کے تحت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ انہی میں ایک اہم اسکیم رہبرِ تعلیم کی تھی، جس کے تحت اساتذہ کو ابتدائی طور پر کم تنخواہ پر تعینات کیا گیا اور پانچ سال مکمل ہونے کے بعد انہیں مستقل کیا گیا۔ اسی طرز پر محکمۂ جنگلات میں بھی رہبرِ جنگلات اسکیم متعارف کرائی گئی، جس کا مقصد جنگلات کے تحفظ شجرکاری اور ماحولیاتی بہتری کے لیے مقامی نوجوانوں کو شامل کرنا تھا۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ رہبرِ جنگلات کے ملازمین آج بھی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔رہبرِ جنگلات کے ملازمین کو ابتدا میں تقریباً پانچ ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ پر رکھا گیا۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ پانچ سال کی سروس مکمل ہونے کے بعد انہیں مستقل کر دیا جائے گا اور باقاعدہ سرکاری ملازمین کے برابر مراعات دی جائیں گی۔ یہ وعدہ نوجوانوں کے لیے امید کی کرن تھا۔ انہوں نے کم تنخواہ کے باوجود محکمہ جنگلات میں انتھک محنت کی پہاڑی علاقوں میں گشت کیا، غیر قانونی کٹائی کو روکنے میں کردار ادا کیا اور شجرکاری مہمات کو کامیاب بنانے میں اہم حصہ لیا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ پانچ سال تو درکنار، آٹھ سال گزر جانے کے باوجود بھی کئی رہبرِ جنگلات ملازمین مستقل نہیں ہو سکے۔ وہ اب بھی عارضی حیثیت میں کام کر رہے ہیں اور قلیل مشاہرے پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی گھریلو اخراجات اور بچوں کی تعلیم جیسے مسائل نے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ پانچ ہزار روپے جیسی قلیل رقم میں ایک خاندان کا گزارا کرنا نہایت دشوار ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
رہبرِ تعلیم اسکیم کے تحت اساتذہ کو مقررہ مدت کے بعد مستقل کیا گیا ،جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے اور تعلیمی نظام کو بھی فائدہ پہنچا۔ اسی اصول کو رہبرِ جنگلات پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر ایک شعبے میں وعدہ پورا کیا جا سکتا ہے تو دوسرے شعبے میں کیوں نہیں؟ جنگلات کا تحفظ کسی بھی خطے کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ یہی قدرتی وسائل ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتے ہیں سیلاب اور زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں اور صاف ہوا فراہم کرتے ہیں۔ اس اہم ذمہ داری کو نبھانے والے ملازمین کو غیر یقینی صورتحال میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔رہبرِ جنگلات ملازمین نے کئی بار احتجاج، دھرنے اور یادداشتیں پیش کر کے حکومت کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔ ہر بار انہیں یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ جلد مسئلہ حل ہو جائے گا، مگر عملی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ حکومت کے وعدوں پر وعدے ان ملازمین کے لیے مایوسی کا باعث بن چکے ہیں۔ نوجوان جو ایک روشن مستقبل کی امید میں اس اسکیم سے وابستہ ہوئے تھے آج خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اس مسئلے کا جائزہ لے اور رہبرِ جنگلات ملازمین کو ان کا جائز حق فراہم کرے۔ پانچ سال کی مدت مکمل کرنے والوں کو فوری طور پر مستقل کیا جائے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور انہیں دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مراعات دی جائیں۔ اس سے نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ ان کے کام میں بھی مزید بہتری آئے گی۔ جب ملازم مطمئن ہوگا تو وہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ دیانتداری اور جذبے سے انجام دے گا۔مزید برآں ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کٹائی جیسے سنگین مسائل کے پیش نظر محکمہ جنگلات کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ ایسے میں محکمہ کے فرنٹ لائن ورکرز کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔ اگر حکومت واقعی ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے ان کارکنوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رہبرِ جنگلات ملازمین کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کیا جانا چاہیے۔ آٹھ سال کا طویل عرصہ کسی بھی عارضی ملازم کے لیے بے یقینی میں گزارنا آسان نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری اقدامات کرے، مستقل تقرری کا عمل مکمل کرے اور ان ملازمین کو ان کا حق دے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے اور یہی ایک مضبوط اور ذمہ دار انتظامیہ کی پہچان بھی۔
[email protected]