ظہور احمد،پونچھ
موجودہ دور میں ہندوستان میں مرکزی سطح پر ایس سیSc،ایس ٹیSt ،او بی سیObc،ای ڈبلیو ایسEwsکوٹہ میں لوگوں کو تقسیم کیا گیا ہے ۔دوسری جانب مختلف ریاستو ں اور یونین علاقے کی سطح میں سرکاری کوٹہ کے ساتھ ساتھ کچھ دوسری کیٹگری بھی دی گئی ہیں ۔جیسے جموں کشمیر میں مرکزی سطح کے علاوہ آر بی اےRba ،اوایس سیOsc،اے ایل سی Alc/Ib وغیرہ ہیں ۔ان کوٹہ کو یونین علاقے کے قاعدہ کے تحت بانٹا گیا ہے۔ جموں وکشمیر میں حال ہی میں کورٹ کے آرڈر کے تحت ریزرویشن کی شرح میں تبدیلی لائی گئی ہے ۔لیکن یہاں کی ایک کیٹگری جسے اے ایل سی Alc کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے ساتھ اب ایک اور نام جوڑ دیا ہے جسے آئی بیIB کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اے ایل سیAlc کیٹگری کسی خاص قوم ،فرقہ،مذہب یا ذات کو دی گئی ہے تو جواب نفی میں ہوگا۔کیوں کہ یہ کوٹہ ان لوگوںکو دیا گیاہے جو ملک کی سرحدوں میں اپنی مصیبت زدہ زندگی گزار رہے ہیں ۔تاریخ سے ہم سبھی واقف ہیں کہ جموںو کشمیر جو ایک پرنسلی ریاست ہوا کرتی تھی اور اس پر مختلف راجوں ،مہاراجوں جیسے مغلوں،پٹھانوں ،سکھوں اور ڈوگروں نے اپنی حکومت کی اور آخر کار ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ کے دور حکومت میں یہ سر زمین تین حصوں میں بٹ گئی ۔جس کا ایک حصہ چین ،دوسرا پاکستان اور تیسرا حصہ موجودہ جموں و کشمیر جو ہندوستان میں ہے ۔
یہ علاقہ تین حصوںمیں تقسیم ہونے کے سبب سے جنگ و جدل میں رہاہے لیکن ان میں سے سب سے زیادہ ان لوگوں نے مشکلات کا سامنا کیا جو سرحدی علاقوں میں اپنی زندگی گزار رہے تھے۔ جیسے جموں و کشمیر میں پاکستان اور لداخ میں چین کے ساتھ حدمتارکہ میںزندگی گزارنے والے لوگ۔ان علاقوں میں ہمیشہ لڑائی جیسے امکان امڈتے رہتے ہیں ۔اور اسی وجہ سے یہاں کے مقامی لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی سے ہمیشہ دو چار ہوتے ہیں ۔وہاں کے بچوں نے اپنا بچپن جہاں ملک کے دوسرے کونے کے بچے کھیل کود میں گزارتے ہیں اور انہوں نے پریشانی ،مصیبت ،جھگڑے اورڈرکے ماحول میں گزارا ہے۔وہاں کے اسکولوں میں کب چھٹی کا اعلان کر دیا جائے اس کا بھی کوئی پتہ نہیں ہوتا ۔کیونکہ ایسے علاقوں میں ہمیشہ ہی ڈر کا ماحول بنا رہتا ہے ۔دوسری پریشانی یہاں آمدورفت کی بھی ہے کیونکہ یہاسڑکیں ہمیشہ خالی ہی دکھائی دیتی ہیں۔کیونکہ ان علاقوں میں چلنے والی گاڑیوں کا مقرہ وقت ہوتا ہے۔اگر کسی عام انسا ن کو تحصیل کے کسی دفتر کے کام یا اسپتال میں دوائی وغیرہ لینا ہو تب صبح گھر سے نکلنا ہوتا ہے اور شام کے پانچ بجے سے پہلے ہی گھر پہنچنا ہوتا ہے اور اگر کسی وجہ سے تھوڑی دیر ہوگئی تو دس یا پندرہ کلو میٹر کے لئے اگر کوئی گاڑی مل بھی گئی تو پانچ سو سے کم کرایہ وصول نہیں کیا جاتا کیونکہ وہاں کا راستہ ہی ایسا ہے کہ ایک طرف سے جاکر واپسی کی سواریاں نہیں ملتی ہیں ۔آمدورفت کے ساتھ ساتھ مواصلاتی نظام بھی ناپید ہے۔کیونکہ ایسے علاقوں میں سیکورٹی کے وجہ سے مبائل ٹاور بھی نصب نہیں کئے جاتے ہیں ۔اس لئے وہاں انٹر نیٹ کی رفتار کم ہی رہتی ہے او رحتیٰ کی ہندوستان کی سرکاری کمپنی بی ایس این ایلBSNL بھی ایسے علاقوں میں کام نہیںکرتی ۔دوسری کمپنیاں جیسے جیو یا ائیرٹل وغیرہ بھی گھر سے باہر صحن میں ہی بیٹھنے کے بعد ہی فون پر بات یا انٹرنیٹ کی تیز رفتار سے مستفید ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے ۔ان سبھی پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکار نے پچھڑے ہوئے اور مصیبت زدہ لوگوں کو نوکری یا ایڈمیشن وغیرہ کے لئے اے ایل سی کوٹہALC میں رکھاہے ۔لیکن اس کوٹہ سے مستفید ہونے کے لئے کچھ قوائد رکھے گئے ہیں ۔ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ایل او سی صفر مقام سے لے کر ہوائی تین کلو میٹر کے دائرے میں رہ رہے لوگ اس کیٹگری کے قابل ہیں۔لیکن صفر مقام سے لے کر ایک کلو میٹر اور ایک کلو میٹر سے لے تین کلومیٹر تک رہنے والے لوگو ں کا رہن سہن ،آمدورفت ،مواصلاتی نظام اور اسکول کی تعلیم میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔کیونکہ ایک کلومیٹر کے بعد آنے والے لوگ یوٹی کے دوسرے علاقوں میںرہ رہے لوگوں کی طرح ہی اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔لیکن انہیں بھی ان پریشان زدہ لوگوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے جو آئے ان جے کے پی ایس سی اور جے کے ایس ایس بی کی لسٹ میں ان لوگوں کا حق اپنے نام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
۔ایک کلو میٹر کے دائرے کے اندر آنے والے لوگ آج بھی مختلف پریشانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں ۔وہاں کے لوگ آج بھی گھرسے سڑک تک کم سے کم آدھ گھنٹے پیدل راستہ طے کر کے پہنچتے ہیں ۔لیکن دوسری جانب ایک کلو میٹر سے دور رہنے والے طالب علم آدھے گھنٹے سے کم وقت میں اپنے اسکول یا کالج تک آسانی کے ساتھ پہنچ جاتے ہیں۔لیکن جب بھی سرکاری سطح پرنوکری کی درخواستیں طلب کی جاتی ہیں اور جب نتائج سامنے آتے ہیں تو اے ایل سی کوٹہ سے منسلک امیدواروں کا قطع شدہ نمبر دوسری کیٹگری کے نمبر سے بھی اوپر دکھائی دیتا ہے۔کیونکہ کسی بھی لسٹ میں اگر دیکھا جائے تو اس میں ایک کلومیٹر کے دائرہ میں آنے والے امیداوار نہ کے برابر یا بالکل بھی نہیں ہو ں گے ۔جو امیدوار مستحق ہیں ان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ۔اور جس مقصد کے لئے یہ کیٹگری سرکار کی طرف سے جن لوگوں کو دی گئی ہے وہ اس سے مستفید نہیں ہو رہے ہیں ۔کیونکہ ایسے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں اور ان کے بچوں نے جو مشکلات دیکھی ہیں اور ان کا ذہن جو پریشانیاں اور آر پار کی لڑائی میں مبتلا ہے وہ ان بچوں کے ساتھ جنہوں نے بچپن ہنستے کھیلتے ہوئے گزارا ہے ان کے ساتھ کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔
سرکار کو چائیے کہ اے ایل سی کوٹہ پر بھی غور ورخوض کرے اور اور اس کا حق صرف ا ن لوگوں تک پہنچایا جائے جو اصل میں اس کے حق دا ر ہیں۔اور جو سر حد کے ایک کلومیٹر سے کم اور جہاں مسلسل شیلنگ یا گولہ باری ہوتی رہی ہے ان تک یہ ہی محدودرکھیں۔تاکہ یہاں کے امیدوار بھی یوٹی کی مختلف یونیورسٹیوں یا کالجوں میں ایڈمیشن لے سکیں اور یہاں کی الگ الگ آسامیوں میں اپنی ملازمت کر سکیں ۔اور اس طرح سے وہ لوگ جن کے ساتھ آج تک ناانصافی ہوتی آئی ہے ا ن کے ساتھ بھی انصا ف اور برابری کا سلوک ہوسکے ۔آج کی تاریخ میں بھی اگر ان علاقہ جات کو غور سے دیکھیں گے تو وہاں کے زیادہ تعداد میں بچے آٹھویں دسویں یا بارہویں جماعت تک کی تعلیم ہی حاصل کر پاتے ہیں اور اس کے بعد پیسہ کمانے کی غرض سے بیرونی ممالک کا رخ کرتے ہیںجہاں محنت کرکے اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں ۔لیکن اگر انہی بچوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور جو بھی سہولیات سرکار کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیںوہ بروقت ملنا شروع ہوجائیں تو وہ دن دور نہیں ہو گا جب یہاں کے بچوں کا مسقبل بھی روشن ہو گا ۔
رابطہ۔7006738839 [email protected]