سید مصطفیٰ احمد
آج کے بیشتر طلباء اپنے الفاظ میں سوالات کے جوابات لکھنے سے مکمل قاصر ہیں۔ ان میں یہ صلاحیت سرے سے ہی موجود نہیں ہے کہ اپنے خیالات کا اظہار اپنے الفاظ کے ذریعے کریں۔ ہم بھی سیکنڈری اسکول کے بعد ہائر سیکنڈری اسکول میں اسی ناؤ میں سوار ہوچکے ہیں۔ جب ہم سیکنڈری اسکول میں زیر تعلیم تھے تو دوسرے طلباء کی طرح میں بھی سوالات کے علاوہ انگریزی اور اردو مضامین کو رَٹنے کے راستے پر چلتا تھا۔ ہم میں اتنی سوجھ بوجھ ہی نہیں تھی کہ خود کے الفاظ میں سوالات اور مضامین کا جواب معقول اور دلچسپ انداز میں لکھتے۔ اساتذہ بھی اس حالت میں نہ تھے کہ خود اپنے الفاظ میں لکھ سکتے۔ وہ استعمال شدہ گائیڈ کتابوں اور پرانے طلباء کی کاپیوں سے جوابات ہوبہو بورڈ پر لکھ کر ہم سے یہ اُمید رکھتے تھے کہ ہم بنا سوچے سمجھے سوالات کو رَٹ کر اگلی جماعت میں داخلہ لیں اور اس طرح سے اسکول کے منتظمین کی اچھی کتابوں میں رہیں۔اس طرح ہماری حقیقی نشوونما کے سارے دروازے بند ہوگئے اور نااہل اساتذہ نے آنے والے کل کو مختلف اندھیروں کے حوالے کردیا۔ یہ تباہی کی رسمیں تب سے جاری و ساری ہیں۔ہم سے پہلے ہمارے بڑے اس بربادی کا ایندھن بن گئے تھے۔ وہ بھی اس نظام کے چکی کے دو پاٹوں میں پس گئے جس نے بیشتر طلباء کو صرف رَٹنے تک محدود کردیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے کونسے وجوہات ہیں جن کی وجہ سے طلباء اپنے الفاظ میں سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ کچھ کا ذکر مندرجہ ذیل سطروں میں کیا جارہا ہے۔
پہلی وجہ ہے ناقص تعلیم نظام۔ہمارا سارا نظام تعلیم باتوں کو رٹنے پر کھڑا ہے۔ جو طالب علم جتنا رٹنے کی حالت میں ہوتا ہے اتنا ہی وہ اس نظام میں آگے بڑھتا ہے۔ کسی اور کے لکھے اور بنائے ہوئے جوابات کو رَٹ کر امتحانات میں چھاپنے کو یہاں علم کا نام دیا جاتا ہے۔ پچھلے سال کے دسویں جماعت کے انگریزی پرچے کو دیکھ کر دل خوش ہونے کے ساتھ ساتھ دُکھ سے بھی بھر گیا۔ Writing Skills کے سیکشن میں پچیس نمبرات پر مشتمل مختلف genres کے سوالات کو دیکھ کر دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ Speech Writing, Article Writing, Dialogue Writing، وغیرہ کو دیکھ کر اُمید کی کرن روشن ہوئی۔ اس کے برعکس تیس نمبرات پر مشتمل سوالات کے جوابات بچوں نے پہلے ہی رَٹ لیے تھے۔ دوسرے الفاظ میں طلباء نے ساری کتاب کو اس ڈھنگ سے ذہین نشین کیا تھا کہ جو بھی سوال نصابی کتب سے پوچھے گئے تھے وہ ان کو طوطی کی طرح یاد تھے۔ اس سے دل کو ٹھیس پہنچی کہ کیونکر Generative AI کے دور میں بھی پتھر کے زمانے کے جوابات زبردستی یاد کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری وجہ ہے تعلیم برائے پیسہ۔آج کی تعلیم برائے پیسہ تک محدود ہے۔ پیسوں کے محور کے اردگرد گھومنے والی تعلیم میں کچھ مختلف اور کارآمد چیزوں کا پانا لگ بھگ محال ہے۔ ہاں! دکھاوے کے لئے کچھ مصنوعی اشیاء کو لوگوں کے بیچ میں خوب پرچار کرکے دکھایا اور رچایا جاتا ہے، جس سے کچھ وقت کے لئے لوگ مدہوشی کے عالم میں چلے جاتے ہیں اور فکر انگیز چیزوں سے پرے عالمِ سراب میں خواب دیکھنے لگتے ہیں۔تیسری وجہ ہے اعلیٰ کتب،اعلیٰ رسائل اور جرائد کا فقدان۔ ہمارے یہاں اعلیٰ پایہ کتب کے علاوہ معیاری رسائل اور جرائد کا سرے سے کوئی نشان بھی نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو کچھ گِنے چُنے لوگوں تک محدود ہیں۔ اس کا نتیجہ اس شکل میں نکل کر آتا ہے کہ قوم کی نفسیات ہی خسارے کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس میں تخلیقی مادہ رچ بسنے کی بات تو دور، اس کا ہماری زندگیوں میں آنا ہی محال ہوجاتا ہے۔ اس طرح پھر اس قسم کی conditioning کا زور جڑ پکڑتی ہے جو آگے چل کر طلباء سے لے کر پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جس سے ترقی اور تخلیقات کے سارے زیورات زنگ آلود ہوجاتے ہیں۔ چوتھا ہے انٹرنیٹ اور اس سے وابستہ دھیان کو بھٹکانے والی مختلف ڈسٹریکشنز۔ عالمی سطح پر ہونے والے ریسرچ سے یہ بات واضح ہوئی ۓ ہے کہ انٹرنیٹ کے آنے کے بعد دھیان کے فقدان کے ساتھ ساتھ طلباء اور طالبات میں علمی ہنروں کے ہندسوں میں نمایاں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہیں۔دوسرے الفاظ میں ایک طرف سے زندگی کے بہت سارے شعبوں کے متعلق واقفیت میں اضافہ ہوا ہے، تو دوسری طرف طلباء میں تخلیقی صلاحیتوں،خاص کر اپنے الفاظ میں باتوں کو ایک مخصوص ڈھنگ سے لکھنے میں افسوسناک کمی واقع ہوئی ہے۔ انٹرنیٹ کی مرعوب کرنے والی چمک سے طلباء کی cognitive development کے علاوہ motor learning جیسی خامیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ اس سے طلباء میں ڈسٹریکٹ ہونے کے مواقع میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جو تباہی کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے۔ پانچواں اور آخری ہے ہماری لاپرواہی۔ ہم نے طلباء کی ذہن سازی کرنے کے بجائے اور اپنے من کی باتوں کو الفاظ کے روپ میں ڈھالنے کی کبھی بھی قابل قدر کوششیں نہیں کی، جس کی وجہ سے طلباء میں بنیادی سکلز کا فقدان کافی دور سے دکھائی دیتا ہے۔ کھانے کی فکر کے ساتھ ساتھ اگر ہم نے طلباء کو اپنے من کی باتوں کو اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوششیں کی ہوتیںتو آج ہمیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا، جب لگ بھگ بیشتر طلباء اپنے آپ کا پریچے بھی ٹھیک انداز سے نہیں لکھ پاتے ہیں۔ اس کوتاہی کے نتائج ہماری آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں۔ تخلیقی اذہان کی کمی کے علاوہ ہمارے یہاں معیاری ادب کی بھی قلت پائی جاتی ہے۔ بےڈھنگے پن کاموں کو انجام دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ مستقبل کا بھی کوئی روشن پہلو اس ضمن میں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ امتحانات اب ایک رسم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ کوئی بھی اس دریا میں کود کر مارکس کے برتن کو بھر کر دل کی تمنائیں پوری کرتاہے۔ ساری صورتحال کو دیکھ کر وقت کی اہم ضرورت ہے کہ طلباء میں اپنے الفاظ میں سوالات لکھنے کی عادت کو فروغ دیا جائے۔ معیاری کتابوں کا انتخاب کیا جائے۔ اعلیٰ پایہ کے جرائد کے ساتھ ساتھ معیاری رسالوں کو بھی گھروں کی زینت بنایا جائے۔طلباء کا ان اداروں میںداخل کیاجائےجہاںپرلکھائی پرزیادہ زوردیاجاتاہو۔ The Hindu in School,Tell Me Why,Knowledge Quest,Wisdom,Pratiyogita Darpan,Competition Success Review,Frontline, The Caravan,Urdu Duniya,Aajkal,Fiqr-O-Tahqeeq,Science Reporter,Down to Earth,Economic and Political Weekly,Science Refresher، وغیرہ جیسے جرائد اور رسالوں کا مطالعہ کرنا ناگزیر ہے۔ طلباء کو بڑے پیار سے اپنے الفاظ میں لکھنے کی طرف مائل کریں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر دستیاب Stephen King,Arvind Adiga,Arundhati Roy,Toni Morrison, Victor Hugo, George Bernard Shaw, Orhan Pamuk, Kazuo Ishiguro, Alice Munro, Hector Hugh Munro, وغیرہ کا وقت وقت پر مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اپنے علاقوں میں وقتاً فوقتاً ادبی محفلوں کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ ہم سب کے اندر تخلیقی اور بااثر ادب کا ذوق پروان چڑھے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کا بھرپور فائدہ اٹھا کر طلباء کی ذہن سازی موجودہ طرز پر کی جاسکتی ہے جس سے طلباء اپنے الفاظ میں لکھنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
[email protected]
�����������������