الحمداللہ ! ہمیں پھر ایک بار رمضان المبارک کے مقدس ایام ولمحات نصیب ہوئے ہیں،اگلے رمضان تک کون زندہ رہے اور کون موت کے آغوش میں چلا جائے ،کسی کو علم نہیں۔لہٰذا جو مبارک ساعات و لمحات ہمیں نصیب ہورہے ہیں ،اُنہیں غنیمت جانیں اور اِن سے بھرپور استفادہ کریں، کیونکہ تہذیب واخلاق، اصلاح ِ نفس اوردرسِ تربیت کے لئے اِن ایام ِ متبرکہ کے روحانی لمحات قدرتی نظام کے مطابق انتہائی بیش قیمتی ہوتے ہیں،لہٰذا ماہ ِرمضان خدائے تعالیٰ کی جانب سے ہمارے لئے وہ بہترین تحفہ ہے،جو اپنے اندر رحمت،مغفرت اور دوزخ سے نجات کی سوغات لے کر آتا ہے۔ یہ نزول ِ قرآن کا مہینہ ہےاور اس ماہِ مبارک کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس میں فرائض کا ثواب ستر درجے بڑھا دیا جاتا ہے اور نوافل کا ثواب فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ اِسی ماہ ِمبارک میں وہ عظیم رات بھیآتی ہے جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ یہ رات ایسی بابرکت ہے کہ قرآن مجید کی ایک مستقل سورت ’’سورۃ القدر‘‘ کی عظمت میں نازل ہوئی ،لہٰذاہمیں صحیح معنیٰ میں اُس رات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے،جس کے لئے ہمیں انفرادی، گھریلو اور معاشرتی اصلاح کا جامع پروگرام بنانا چاہئے۔ رمضان دراصل اُمّت کے لئے احتساب،رجوع الی اللہ،صبر واستقامت کی تربیت اور اصلاحِ نفس کا بہترین کورس اور مخلوق کو خالق سے جوڑنے کا سنہرا موقع ہے۔قرآنِ کریم نے روزوں کا مقصد’’تقویٰ‘‘ بیان فرمایا ہے، لہٰذا اِن رَواں دواںمقدس ایام میں ہمار ا اصل ہدف تقویٰ کا حصول ہونا چاہئے۔ تقویٰ صرف بھوک اور پیاس سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ نگاہ، زبان، دِل و اعمال کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ،خدا اوراُس کے رسولؐ کے احکام کی تعمیل اور تمام ناجائز امور سے اجتناب کے ذریعے حاصل ہوتا ہےاور اگرماہ ِرمضان ملنے کے باوجود ہمارے اخلاق و کردار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو پھر ہم نے رمضان سے کیا استفادہ کیا؟ رمضان المبارک میں دلوں کو کینہ، حسدوبغض سے پاک کرنا ناگزیر ہے اورجن سے قطع تعلق کئے ہوئے ہیں، اُن سے صلح صفائی کرلینی چاہئے،اِن مقدس ایام میں آپسی رنجشوں کو ختم کیاجانا چاہئے، ماتحتوں وخادموں کے لئے آسانایاں فراہم کی جائیں،رشتہ داروں سے تعلقات بحال کئے جائیں اور معافی و درگزر کو شعار بنایا جائے تاکہ ہمیںرمضان کی برکتیں حقیقی معنوں میں نصیب ہوجائیں۔اِن مقدس ایام سے بھرپور استفادہ کے لئے منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ مرد حضرات پنج وقتہ نمازیں باجماعت مساجدمیں اداکریں۔ تلاوتِ قرآن روزانہ کا معمول بنائیں،نمازِتراویح خضوع و خشوع کے ساتھ ادا کریں۔سنن اور نوافل کا اہتمام کریں،صدقہ و خیرات کے لئے رقم مختص کرلیں،لایعنی امور اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے پرہیز کریں۔گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کو اِن انسٹال کردیں،استغفار ،ذکرواذکار کثرت سے کرلیں،دعاؤں کا خاص اہتمام کریںاور یاد رکھیں کہ افطار اور تہجد کا وقت دعاء کی قبولیت کا ہوتاہے۔ رمضان المقدس کا پیغام صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرہ کی اصلاح سے متعلق ہے۔غریبوں،یتیموں،محتاجوں اور قرض داروں کی مددکرلینااور باہمی اتحاد و یکجہتی کے ساتھ مساجد کی رونق بڑھانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر کسی انسان سے یہ کہا جائے کہ وہ فرشتہ بن سکتا ہے تو وہ اس بات کو قبول نہیں کرے گا،کیونکہ انسان اور فرشتہ کی حقیقت و ماہیت جداگانہ ہے۔ تاہم رمضان المقدس کے ان مبارک ایام میں وہ کرامات ہیں جن سے انسان کے اندر فرشتوں جیسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔فرشتوں کے نمایاںاوصاف یہ ہیں کہ اُنہیں کھانے پینے کی حاجت نہیں ہوتی،اُن کے کوئی ازدواجی تعلقات بھی نہیں،وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور ہر وقت اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں۔ اِسی طرح روزہ دار بھی دن کے اوقات میں کھانے پینے اور دیگر خواہشات اور ازدواجی تعلقات سے خود کو روکے رکھتا ہے اور محض رضائے الٰہی کی خاطر اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پاتا ہے۔ روزے کی مشقت کے باعث نفس کمزور ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان گناہوں سے دور اور نیکیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہےاور یہی کیفیت دراصل انسان کے اندر ملکوتی اوصاف پیدا کرتی ہے،جس کے باوصف وہ ناجائز امور اور رذیلہ اوصاف سے صاف و پاک ہوجاتا ہے۔