فکرو فہم
معراج وانی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ناکامی اکثر ایک خاموش رات کی طرح آتی ہے، نہ دروازہ کھٹکھٹاتی ہے نہ اپنے قدموں کی آواز سناتی ہے، بس دل کے اندر اُتر جاتی ہے اور ہر چراغ بجھا دیتی ہے۔ انسان صبح کو وہی ہوتا ہے، مگر اندر کچھ ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ خواب اپنی جگہ پر ہوتے ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں چمک نہیں رہتی۔ امید سانس تو لیتی ہے، مگر کمزور نبض کے ساتھ۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ اصل جنگ دنیا سے نہیں، اپنے آپ سے ہے۔ہم ناکامی کو یوں دیکھتے ہیں جیسے یہ کسی فیصلے کی مہر ہو، جیسے کسی عدالت نے ہماری قسمت پر’’ناکام‘‘ لکھ دیا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ناکامی تو وہ وقفہ ہے جو زندگی ہمیں دیتی ہے تاکہ ہم خود کو دوبارہ پڑھ سکیں۔ یہ وہ سطر ہے جو ربِّ کائنات ہماری کہانی میں اس لیے شامل کرتا ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ آگے کا باب پہلے سے کہیں زیادہ معنی خیز ہونے والا ہے۔
مایوسی دراصل امید کی تھکن ہے۔ جب ایک ہی دروازے پر بار بار دستک دے کر ہاتھ زخمی ہو جائیں اور دروازہ نہ کھلے تو دل کہنے لگتا ہے کہ شاید کوئی سن ہی نہیں رہا۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آسمان کے دروازے تالوں سے نہیں کھلتے، وہ یقین سے کھلتے ہیں۔ اللہ کبھی انکار نہیں کرتا، وہ صرف بہتر وقت کا انتخاب کرتا ہے۔انسان جب گرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا غرور ٹوٹتا ہے، پھر اس کی اَنا، پھر اس کے بنائے ہوئے تصورات۔ یہی ٹوٹنا اصل شفا ہے۔ کیونکہ جب تک انسان اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتا رہتا ہے، وہ کچھ بھی بننے کے قابل نہیں ہوتا۔ ناکامی ہمیں خالی کرتی ہے تاکہ اللہ ہمیں اپنے نور سے بھر سکے۔ہم جن لوگوں کو کامیاب کہتے ہیں، وہ دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے اندر دفن شدہ مایوسیوں کی قبروں پر ہمت کے پھول اگائے ہوتے ہیں۔ ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے شکستوں کی لمبی راتیں ہوتی ہیں، اور ان کی آنکھوں کی چمک کے پیچھے بے شمار آنسو۔ مگر انہوں نے ہار ماننے کے بجائے، خود کو نئے سرے سے لکھا۔مایوسی ہمیں کہتی ہے: ’’بس اب کافی ہے۔‘‘ایمان ہمیں جواب دیتا ہے: ’’ابھی تو اللہ نے کام شروع کیا ہے۔‘‘جب انسان اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھ لیتا ہے، تو ناکامی اس کے لیے زہر نہیں رہتی، دوا بن جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر تاخیر کے پیچھے کوئی حفاظت چھپی ہوتی ہے، اور ہر ٹھہراؤ کے پیچھے کوئی نئی سمت۔اگر آج تمہیں لگتا ہے کہ تم پیچھے رہ گئے ہو، تو شاید اللہ تمہیں کسی بڑے موڑ سے بچا رہا ہے۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم ٹوٹ گئے ہو، تو شاید تمہیں کسی نئے سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے۔ اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے، تو یاد رکھو — اللہ کبھی اختتام پر نہیں لکھتا، وہ ہمیشہ’’ابھی جاری ہے‘‘ لکھتا ہے۔ناکامی دراصل اللہ کی طرف سے ایک خاموش دعوت ہوتی ہے:’’میرے قریب آ جاؤ، یہاں سے تمہاری کہانی بدلے گی۔‘‘اور جو اس دعوت کو قبول کر لیتا ہے،اس کی زندگی کا ہر اندھیراکسی نہ کسی دن روشنی میں بدل جاتا ہے۔