عظمیٰ ویب ڈیسک
میرٹھ/اتر پردیش میں میرٹھ کے لیساڑی گیٹ تھانہ علاقے کے تحت قدوائی نگر اسلام آباد پیر کی رات ایک تین منزلہ مکان میں خوفناک آتشزدگی سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کی موت ہو گئی۔ مرنے والوں میں پانچ بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے۔پولیس کے مطابق کپڑے کے تاجراقبال احمد کے گھر میں ایک چنگاری نے پورے خاندان کا چراغ بجھا دیا اور قدوائی نگر کی وہ رات ہمیشہ کے لیے خاموشی میں تبدیل ہوگئی۔ حادثے کے وقت اقبال اور ان کے دونوں بیٹے عاصم اور فاروق نماز تراویح کے لیے مسجد گئے ہوئے تھے۔ گھر کے اندر موجود خواتین اور بچے اچانک آگ کے شعلوں اور گہرے دھویں کی لپیٹ میں آگئے۔
دیکھتے ہی دیکھتے آگ شدت اختیار کرگئی۔ گلی نمبر 3 کا تنگ محلہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔ پڑوسی دوڑے، پولیس اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی، لیکن تنگ گلیوں نے فائر انجنوں کی رفتار کو روک دیا۔ ایسے میں مقامی لوگ چھت کے راستے گھر میں داخل ہوئے اور امدادی کام شروع کیا اور اپنے وسائل سے آگ بجھانے کی کوشش کی۔پولیس کے مطابق مرنے والوں میں عاصم کی بیوی رخسار (30)، ان کا تین سالہ بیٹا اقدس، چھ ماہ کی جڑواں بیٹیاں نبیہ اور عنایت اور فاروق کے بچے مہوش (12) اور حماد (4) شامل ہیں۔ تمام کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ موت کی وجہ جلنا اور دم گھٹنا بتایا گیا ہے۔
حادثے میں اقبال کی اہلیہ امیر بانو اور ایک نوجوان شہزاد شدید جھلس گئے۔ دونوں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گھر کی پہلی منزل پر ’’آئی سنز ایمبرائیڈری‘‘ کا کارخانہ چلتا تھا، جب کہ خاندان بالائی منزل پر رہتا تھا۔ رات 10 بجے کے قریب آگ اچانک بھڑک اٹھی اور چند ہی منٹوں میں پوری عمارت دھویں سے بھر گئی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی میرٹھ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر وی کے سنگھ، پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ اویناش پانڈے، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کالاندھی نیتھانی اورسپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سٹی آیوش وکرم سنگھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے۔ تفصیلی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
میرٹھ میں خوفناک آتشزدگی، ایک ہی خاندان کے پانچ بچوں سمیت 6 افراد ہلاک