فہم و فراست
ڈاکٹر فلک فیروز
کس طرح جمع کیجیے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے پرانی کتاب کے (عادل منصوری)
میں ایک کتاب جس نے اَزل سے انسان کو سکھایا کہ انسان کس کو کہتے ہیں؟ انسانیت کیا ہے؟ پیار کے دو بول بولنے کی خاطر مجھ جیسی ہزار کتابیں لکھی گئیں ہیں، ہدایت آسمانی کی ترسیل کا ذریعہ بھی میں ہی بدنصیب کتاب ٹھہری، جس میں حکم سے، پیار سے،نصیحت سے، تلقین سے،مثالوں سے، واقعات سے ،حادثات سے ،تجربوں سے ،تاریخی حوالوں سے، زمینوں کی متعدد مثالوں سے ،چاند تاروں سے ،شمس و قمر سے ، دریاوں، سمندروں ،بہاروں، فضاوں ، آبشاروں پھلوں پھولوں سے، آسمانی و ارضی ضیافتوں سے، مثالیں دے دے کر انسانوں کی ہدایت مطلوب تھی۔ میں وہ کتاب جس نے آدم کو سائنسی تجربوں ،اصولوں ، عمرانیاتی مشاہدات ،کےآینے میں اس کو اس کے وجود سے متعارف کرایا، میں وہ کتاب جس نے انسان کو سماجی زندگی کا ہنر سکھایا کہ سماج کیسے ترتیب ،تشکیل اور تعمیر کیا جاتا ہے، اس میں سماجی اصول، ضوابط روابط کیسے قائم کئےجاتے ہیں۔
میں کتاب ہوں وہ، جس نے انسان کی تاریخ محفوظ کر کے رکھی ہے جس نے انسان کو اس کا پس منظر ،اس کے اسلاف اس کی تاریخ سے متعارف کرایا ہے ۔انسانی تہذیب کو یہ
سکھایا کہ ماضی میں ہوئی غلطیوں سے کیا حال اور مستقبل کے لئے بطور سبق حاصل کیا جاسکتاہے۔
ہاں میں کتاب ہوں وہی جس نے انسان کو زمین، ماحول ، سمندروں، در پاؤں، جنگلوں، آبشاروں ،کھیت کھلیانوں کے متعلق جانکاری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال کا صیح طریقہ بتایا ،ان کی سپرو تفریح کے بارے میں انفارمیشن دی ،ان کے قدیم و جدید استحالات فوائد، کے حوالے سے سائنسی و تکنیکی لوازمات کے آینے میں تحقیقی تجرباتی علوم عطا کیے۔ میں ہوں وہی آواز جس نے سوتوں کو جگایا، جس نے دنیا میں انقلاب کا نعرہ لگایا ،جس نے انسان کو اس کی نفسیات سے آشنا کر دیا ،وہی کتاب ہوں میں جس نے انسان کو زندگی گزارنے کا فن اور ہنر بخشا ۔ ادبی دنیا کی مختلف زبانوں کے شعر و ادب میں ادبی شاہکار کے عنوان سے کردار بھی میرے ہی وجود سےمشہور ہوئے ہیں۔
ہاں ہاں میں کتاب ہوں، وہی کتاب جس کی ذات لفظوں کے ہجوم سے، جملوں کے انتخاب سے ،خیالات کے انبار سے ،سیاہی میں ڈوبی نوک قلم سے ،سفید کاغذکے کورے بدن پر، ورق ورق کے اجتماع سے، اوز پرنٹنگ پرس کے دہان سے نکل اشاعت کے مرحلے کے بعد جنم لیتی ہے ۔ گویا میرا جنم مختلف مراحل سے گزر کر اشاعت کی صورت میں مکمل ہو جاتا ہے ۔ میں کتاب پریس سے نکل خریدوفروخت کے لیے بازار کی زینت بن گئی، کسی کے خوب گاہ میں پیار سے اس کے ہاتھوں میں نرم و نازک رخسار کا تکیہ بھی بن گئی کسی کے آنکھوں کا نور بن گئی، کسی نے گہری نیند میں جانے کے لیے میری ورق گردانی شروع کی اور میں نے ساتھی بن کر اس سے نیند کی آغوش میں کھ چپکے سے ڈالا بقول شاعر:
کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں
کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں (محمد علوی)
ہاں میں کتاب ہوں وہی جو کسی کی تنہائی کا خوبصورت دوست بن گئی مجھ کو کسی نے دوستوں میں بطور تحفہ بھی پیش کیا، کسی نے دوستوں میں اپنا برم رکھنے کے لئے بھی مجھے اپنے ہاتھوں میں نمائش کی باپت رکھا ہے، کسی نے اپنی علم کی پیاس بھی مجھ سے ہی بجھائی ہے کسی نے گھر کی خوبصورت الماری لابی میں رکھ کر زیب و زینت بخشی، کسی نے ہنر و کمال حاصل کرنے کے لیے میرا مطالعہ کیا کسی نے روحانی فیض پانے کی خاطر مجھ سے آشنائی کی ۔ کسی مال و دولت کا سبق پانے کی خاطر میرا مطالعہ کیا کسی نے ارض و سما کے حقائق معلوم کرنے کے لیے میرے بطن سے اسباق حاصل کر کے چاند ستاروں پر اپنی کمندیں پھیلائی۔
میں کتاب وفا کا نام ہوں جس نے بھی مجھ سے وفا کی، محبت کی پیار دیا میں نے بھی بدلے میں وفاداری نبھائی، اس سے علم کے نور سے منور کر دیا ظلمت سے روشنی کی طرف لایا، عقل، فکر، فہم ادراک بخشا جھنوں نے مجھے اپنا دوست سمجھا میں نے بھی سماج میں ان کی قدر و محترلت بڑھاری میری ہی بدولت ان کو روزی روٹی میسر ہوئی میرے ہی مطالعے سے لوگوں کی تربیت ہو جاتی ہے بیماروں کو دوائی ملی تو اس عمل میں بھی میں نے اپنا کردار ادا کیا میں کتاب بچوں کا من ہلانے کی خاطر کہانی کے طور پر کام آئی ، بڑوں بزرگوں، خواتین و حضرات لڑکوں لڑکیوں کے جتنے بھی مسائل معاملات ہوتے ہیں ان کا حل بھی میرے پاس ہی ہوتا ہے۔ انسانی تہذیب و تمدن میں کون سا شعبہ ایسا ہے جس میں میری شمولیت ممکن نہیں، محبت کے میدان میں پہلی مجنون، شیر بن فرحت، سائنس کی دنیا میں البرٹ انسٹائن، اسحاق نیوٹن، ڈارون فلسفہ کے دنیا کی مشہور ہستیاں سقراط، افلاطون، ارسطو ،کیکر گارڈ، جان پال سارترے شوپن ہار، نطثفے علم سماجیات، علم اقتصادیات علم تواریخ، علم ادبیات کی وہ وہ کون سی شخصیت فکر زاویہ نظر ایسا ہی جس کو میں نے محفوظ کر کے امانت کے طور نسلوں تک نہیں پہنچایا ہو۔ مگر افسوس اس امانت داری کی اب بڑے پیمانے پر خیانت بھی کھلے عام جاری ہے۔ ہاں ہاں ۔ جی ہاں آپ نے خوب سنا آپ میری خیانت کے ذمہ دار ہیں میں چیخ چیخ کے پکار پکار یہ بانگ دہل یہ اعلان کرتی ہوں کہ آپ امانت دار تھے لیکن آپ خائن بن گئے ۔
کتاب کھول کے دیکھوں تو آنکھ روتی ہے
ورق ورق تیرا چہرا دکھائی دیتا ہے (احمد عقیل)
میں کتاب اب کہ ہر گھر کی لابی میں الماری میں کالج کی خوبصورت، وسعی ، اعلیٰ لائبرری ہالوں میں دانش گاہ اعلیٰ کی مرکزی لائبردیوں میں، حوالہ جاتی سیکشنوں میں یہاں تک کہ دکانداروں کی قید میں اور سڑک پر لگی چار پائی پر کہ ہر شخص جو یہاں سے گزرتا ہے میری جانب بے اعتنائی سے ہے پروائی سے دیکھتا ہوا مسکرا کر چلا جاتا ہے۔
میں کتاب ہر روز اپنی تنہائی سے باتیں کرتی ہوں کہ کوئی آئے مجھے اپنے ہاتھوں سے چھولے مجھ پر پڑی گرد و غبار کی جمی ہوئی تہہ جھاڑ لے مجھ سے محبت کرکے ، مجھ سے مشورہ مانگے ، مجھ سے باتیں کرئےمجھے اپنے ساتھ اپنے بستے میں رکھے ۔ مجھے بھی اپنے ساتھ اپنے گھر لے جائے اور چائے کافی کا ایک پیالہ ہاتھ میں لے کر مجھے اپنی سنائے اور میں اپنی سناؤ اور وہی پرانے طرز کی محفل سجے جس کے بارے میں ۔شاعر نے کہا تھا ؎
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو (میاں داد خان سیاح)
مگر ہائے میری قسمت اب کہ ایسا نہیں ہوتا ہے نہ کوئی میرا مطالعہ کرتا ہے نہ کوئی مجھ سے مشورہ طلب کرتا ہے نہ کوئی مجھ سے کسی مسلے پر رائے مانگتا ہے ، نہ کوئی کچھ نیا سیکھنا چاہتا ہے۔ نہ کوئی نئی فکر فہم ادراک و علم سے واسطہ رکھتا ہے نہ کسی کو مجھ سے سکون ملتا ہے نہ کسی کومیری ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کیونکر ہو بھی طالب علم میرے مطالعے کے بغیر بھی امتحانات امتیازی پوزیشنوں کے ساتھ کامیاب ہو جاتے ہیں، ہر کسی کا اپنا کام میرے بغیر جو نکلتا ہے کیوں کر کوئی مجھ سے واسطہ رکھتے ہاں مگر ایک شکایت ضرور ہے اور وہ ہیں قوم کے اساتذہ اور طلبہ سے جن کی زندگی مجھ سے چڑی ہے جن کی کامیابی مجھ میں پہنا ہیں ، جن کی روزی روٹی، عزت و آبرو میرے وجود سے ہیں میں اگر فنا ہو گئی تو ضرور اللہ سے پوچھو گی ، پوچھو گیی امتیازی پوزیشنوں کے ساتھک شکایت ضرور ہے اور وہ ہیں قوم کے کے اساسے چڑی ہے جن کی کام ر ا س
شکایت ہے مجھے یارب ! خداوندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا (اقبال)
میں کتاب ! پکار پکار کے رب کی پناہ چاہتی ہوں اور اس بے دردی و عذاب کے عالم سے خلاسی چاہتی ہوں میں اب مرنا چاہتی ہوں مجھے اب فوت ہی چاہئے کیونکہ اس بے اعتنائی، لاپروائی سے ہزار درجہ بہتر موت ہیں، میں اس دنیا میں رہنا پسند نہیں کروں گی جہاں لاکھوں روپیے صرف کر کے میرے نام پر محض لائبریروں کے لاکر کتابیں خرید کر بند کر دی جائیں اس قید اور زندان سے بہتر مجھے موت ہی پسند ہے جس میں کم سے کم مجھے بند الماریوں سے آزادی مل جائے گی مجھے نمائش کا کوئی شوق نہیں میرے خدا میرے بطن سے اب لفظوں کے اس انبار کو غائب کردے اور میرے بطن خالی کورے کاغز کا بے قیمتی لباس بطور کفن عطا دے اور مجھ کو آسمانوں میں دفن کر دے کیوں کہ زمین والے اب بے حسی کے عالم میں نہ جانے کہاں کھو گئے مجھ کو بس اب موت چاہئے موت چاہئے موت چاہئے ۔
کہانی ختم ہوئِی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے (رحمان فارس)
[email protected]
�������������������