سِسٹم کو دائمی وراثت بنائے رکھنا معاشرے کے لئے سم ِ قاتل!
فہم و فراست
شفیع نقیب
جموں و کشمیر کی وادیوں میں اس وقت صرف موسم کی سردی نہیں، مواقع کی فضا بھی سرد مہری کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ مسابقاتی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والا نوجوان جب فہرستِ تقرری میں خود کو پیچھے پاتا ہے تو اس کے دل میں ایک سوال چنگاری بن کر بھڑکتا ہے۔کیا میری خطا صرف یہ ہے کہ میں کسی مخصوص زمرے میں درج نہیں؟ کیا محنت، ذہانت اور مسلسل جدوجہد بھی کسی کوٹے کے سامنے بے وزن ہو سکتی ہے؟کیا میرا قصوریہ ہے کہ میں کسی پہاڑی یا پسماندہ علاقہ میں پیدا نہیں ہوا ؟
ریزرویشن کی پالیسی کا بنیادی مقصد سماجی اور تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ تھا۔ یہ ایک اخلاقی اور آئینی عہد تھا کہ جو طبقات صدیوں کی محرومی کا شکار رہے، انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت ملک کی پارلیمان نے آئینی دفعات کے ذریعے ریزرویشن کا نظام تشکیل دیا اور مختلف عدالتی فیصلوں میںسپریم کورٹ نے اس کی حدود و قیود متعین کیں۔ عدالت نے’’کریم لیئر‘‘ کا تصور پیش کر کے یہ واضح کیا کہ مراعات کا فائدہ مسلسل انہی خوشحال خاندانوں تک محدود نہیں رہنا چاہئے جو اب عملی طور پر پسماندگی کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے۔مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یونین ٹریٹری جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران ریزرویشن کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کے بعد میرٹ اور کوٹے کی بحث ایک عوامی مسئلہ بن چکی ہے اور اسمبلی میں بھی اس حوالے سے کافی گرماگرمی رہی۔ نوجوانوں کے احتجاج، سوشل میڈیا پر بحث و مباحثہ اور تعلیمی حلقوں میں تشویش اس بات کا اظہار ہے کہ مسئلہ صرف پالیسی نہیں بلکہ اس کے اطلاق کا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ پسماندہ طبقات کو سہارا کیوں دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہارا وقتی ہونا چاہئے یا دائمی؟ کیا ایک خاندان جو ایک نسل میں مراعات لے کر معاشی اور تعلیمی طور پر مستحکم ہو چکا ہے، وہ اگلی نسل میں بھی اسی بنیاد پر خصوصی رعایت کا مستحق رہے؟ کیا یہ انصاف کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے کہ مواقع کی دوڑ سب کے لئے یکساں ہو؟جموں و کشمیر کے شہری علاقوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مراعات یافتہ خاندان معاشی طور پر خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم، جدید رہائش، کاروباری استحکام،سب کچھ موجود ہے۔ مگر دیہی شناخت،گائوں دیہات میں استحقاق کے حصول کے لئے چند مرلہ زمین یا ٹوٹا پھوٹا گائو خانہ موجود رکھ کر یا مخصوص زمرے کی بنیاد پر مراعات کا سلسلہ جاری ہے۔ یوں ایک وقتی سہارا رفتہ رفتہ ایک وراثتی استحقاق میں بدلتا جا رہا ہے۔ باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا اور میرٹ پر پورا اُترنے والا نوجوان دروازے پر دستک دیتا رہ جاتا ہے اور آہیں بھرتا رہتا ہے۔
یہاں ایک اور نہایت حساس پہلو بھی زیر بحث آتا ہے، خصوصاً طب، انجینئرنگ اور انتظامی خدمات جیسے شعبوں میںاگر کوئی طالب علم رعایت لے کر ڈاکٹر بنتا ہے تو وہ لازماً امتحانات پاس کر کے ہی اس مقام تک پہنچتا ہے۔ مگر سوال معیار کے یکساں ہونے کا ہے۔ کیا ہم اس امر پر مطمئن ہیں کہ داخلے اور تقرری کے پیمانے ہر سطح پر یکساں سختی سے لاگو ہوتے ہیں؟ طب کے شعبے میں معمولی سی لغزش بھی ایک انسانی جان پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اگر ایک اعلیٰ کارکردگی دکھانے والا اُمیدوار صرف اس بنیاد پر پیچھے رہ جائے کہ وہ ’’فارورڈ کلاس‘‘ سے تعلق رکھتا ہے، تو کیا یہ ایک اخلاقی سوال نہیں بن جاتا؟
یہ بحث محض جذباتی نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل سے جڑی ہے۔ اگر قابلیت بار بار نظر انداز ہوتی رہے تو معاشرے میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ ذہین دماغ یا تو نقل مکانی کرتے ہیں یا اندرونی بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً اداروں کا معیار متاثر ہوتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کمزور پڑتی ہے۔یہ بھی اہم ہے کہ ہم عالمی تناظر کو دیکھیں۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں سماجی فلاحی نظام ضرور موجود ہے، مگر وہاں ریزرویشن عموماً نسلی یا خاندانی بنیاد پر نسل در نسل جاری نہیں رہتا۔ وہاں معاشی کمزوری یا سماجی رکاوٹ کو وقتی بنیاد پر دور کیا جاتا ہے اور مسابقتی شعبوں میں معیار کو مرکزی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ مواقع کی برابری فراہم کی جاتی ہے، مگر نتیجے کی برابری مسلط نہیں کی جاتی۔یونین ٹریٹری جموں و کشمیر میں اگر ریزرویشن کو ایک مستقل سیاسی اور سماجی حقیقت بنائے رکھا گیا تو خدشہ ہے کہ ایک خاص طبقہ مسلسل فائدہ اُٹھاتا رہے گا جبکہ اکثریت احساسِ محرومی میں مبتلا ہوگی۔ یہ احساس کسی بھی معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ ناانصافی کا تاثر خواہ حقیقی ہو یا مفروضی، دونوں صورتوں میں اس کے اثرات سماج کے لئےبُرے ہوتے ہیں۔
اصلاح کی سمت کیا ہو سکتی ہے؟ سب سے پہلے ایک غیر جانبدارانہ اور ڈیٹا پر مبنی جائزہ ناگزیر ہے۔ کیا موجودہ زمرے واقعی اسی شدت کی پسماندگی کا شکار ہیں جس کی بنیاد پر پالیسی بنائی گئی تھی؟ کیا معاشی طور پر مستحکم خاندانوں کو مستقل رعایت ملتی رہنی چاہئے؟ کیا ایک مقررہ مدت کے بعد مراعات کا ازسرنو جائزہ نہیں ہونا چاہئے ؟مراعات کو اگر وقتی اور ہدفی بنایا جائے،مثلاً تعلیمی وظائف، بنیادی تعلیم میں اضافی سہولتیںیا ابتدائی مراحل میں کوچنگ کی فراہمی تو ممکن ہے کہ اصل مقصد بھی حاصل ہو اور میرٹ کا چراغ بھی روشن رہے۔ اصل مسئلہ اعلیٰ تعلیم یا کلیدی عہدوں پر آخری مرحلے میں کوٹے کی شرح کا ہے، جہاں براہ راست مقابلہ ہوتا ہے اور معمولی فرق بھی نمایاں اثر ڈالتا ہے۔
جموں و کشمیر میں، جہاں بے روزگاری پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے، میرٹ اور ریزرویشن کے درمیان توازن نہایت ضروری ہے۔ اگر قابلیت کا دروازہ بند ہوا تو ذہنی ہجرت بڑھے گی اور اگر تاریخی محرومیوں کو نظر انداز کیا گیا تو سماجی تقسیم گہری ہوگی۔ دونوں انتہائیں نقصان دہ ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے پر جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ مکالمہ ہو۔ نہ کسی طبقے کی تضحیک کی جائے اور نہ کسی کی جائز شکایت کو رد کیا جائے۔ مگر یہ طے ہونا چاہئے کہ ریزرویشن کوئی دائمی وراثت نہیں بلکہ ایک وقتی تدبیر ہے۔ جب مقصد حاصل ہو جائے تو اس پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ سہارا مستقل بیساکھی میں تبدیل نہ ہو۔اگر قابلیت مر گئی تو ادارے کمزور ہوں گے، معیشت سُست پڑے گی اور قابل اور ذہین نوجوانوں میں بے چینی بڑھے گی۔ مگر اگر انصاف اور میرٹ کے درمیان ایک معتدل توازن قائم ہو گیا تو یہی خطہ فکری اور عملی ترقی کی نئی مثال بن سکتا ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ ہم پالیسی کو مقدس سمجھ کر اس پر سوال اُٹھانے سے گریز کریں گے یا اسے زندہ حقیقت سمجھ کر وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ہمت کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی معاشرے آگے بڑھتے ہیں جو اصلاح سے نہیں ڈرتے۔یوٹی جموں و کشمیر کے نوجوان آج اسی اصلاح کے منتظر ہیں۔ایسی اصلاح جو نہ کسی کو محروم کرے، نہ کسی کو بلا جواز برتر بنائے، بلکہ سب کو ایک ہی میدان میں کھڑا کر دے جہاں کامیابی کا پیمانہ صرف محنت، دیانت اور قابلیت ہو۔
رابطہ:9622555263
[email protected]