فہم و فراست
جے کیو کامران
کشمیر کی زرعی معیشت اور سیب کے باغات کو ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے مرکزی حکومت نے کشمیر میں تین مجوزہ ریلوے منصوبوں کو روکنے کا ایک بڑا اور دوررس فیصلہ سنا کر ان ہزاروں باغ مالکان اور زمینداروں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر پھر سے رونق لوٹا دی ہے جن کی آبائی زمینیں اور آمدنی کا اہم ذریعہ سیب کے باغات بری طرح متاثر ہو رہے تھے۔ مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حکومت اور ارکانِ پارلیمنٹ کا مطالبہ تھا کہ باغبانوں اور کسانوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان منصوبوں کو روک دیا جائے، اس لیے حکومت نے ان منصوبوں کو فلوقت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعد میں ریلوے وزیر نے رکن راجیہ سبھا غلام علی کھٹانہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایوان بالا(راجیہ سبھا) کو آگاہ کہ موجودہ سرینگر۔بارہ مولہ ریلوے لائن کے علاوہ کشمیر میں تین مزید ریلوے لائنوں کی توسیع کی تجویز موصول ہوئی تھی جسے منظور کر کے سروے کا کام شروع ہوا تھا۔ تاہم، ان منصوبوں کے اعلان کے ساتھ ہی مقامی باغ مالکان اور کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ ریلوے منصوبوں سے ان کے باغات اور زرعی اراضی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے غلام علی کھٹانہ کا خصوصی طور شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس اہم مسلے کو ان کے ساتھ اٹھایا جس کے بعد کسانوں اور ان کے نمائیندوں کی بات سنی گئ اور ریلوے منصوبوں پر فلوقت روک لگا کر کسانوں کو راحت دی گئی۔
کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے سیب کے باغات سے کشمیر کے لاکھوں کسانوں کی امیدیں وابستہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب دسمبر 2023 میں لوک سبھا کے اندر وزارت ریلوے کی طرف سے تین نئے ریلوے منصوبوں سوپور تا کپوارہ (33.7 کلو میٹر) اونتی پورہ تا شوپیاں (27.6 کلو میٹر) اور انت ناگ تا پہلگام (77.5 کلو میٹر) کی سروے کی منظوری کا اعلان کیا گیا۔تو خوشی کے بجائے وادی کے بڑے زراعی مراکز میں تشویش کی لہر دوڈ گئ۔مقامی کسانوں کے تخمینے کے مطابق ان ریلوے منصوبوں کے زد میں صرف شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں 7 لاکھ سیب کے درخت آنے کا خطرہ تھا۔ایک ایسے وقت میں جب وادی پہلے ہی عدم استحکام اور بے روزگاری سے جوجھ رہی ہے آمدنی کے ان اہم ذرائع (زرعی اراضی اور سیب کے باغات) پر کلہاڑی چلانا کسانوں کی معیشت پر شب خون مارنے کے مترادف سمجھا گیا۔ان ترقیاتی منصوبوں کے پیچھے انسانی المیے دل دہلانے والے ہیں۔ضلع شوپیاں کے گاؤں، کنسو ،کے ایک مفلوک الحال کسان نزیر احمد ڈار کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو اس درد کی عکاسی کرتے ہیں۔نذیر احمد کے بقول،’’ میرے پاس کل کائنات صرف دو کنال اراضی پر مشتمل سیب کا باغ ہے۔جس پر میری پانچ بیٹیوں کا مستقبل اور پورے گھر کا چولہا منحصر ہے۔اور اگر یہ باغ ریلوے کے نذر ہو گیا تو میرا سہارا ہی ختم ہو جائے گا۔‘‘ضلع انت ناگ کے درہامہ گاؤں میں بزرگ،خواتین اور جوان اپنے سیبوں کے درختوں کے ساتھ چپک کر احتجاج کر رہے تھے۔ان کا یہ جذباتی احتجاج کسی ترقی کے خلاف نہیں بلکہ اپنی روزی روٹی کے تحفظ کے لیے تھا۔احتجاج کرنے والے ان کسانوں کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا،’’ہماری گردنوں پر کلہاڑی چلا دو، مگر ان درختوں کو مت کاٹو جو ہماری زندگی کی سانسیں ہیں۔‘‘
اس عوامی مہم میں سماجی و ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر راجہ مظفر بٹ کی آواز انتہائی موثر ثابت ہوئی۔ انہوں نے محض جذبات ہی نہیں بلکہ ٹھوس قانونی شواہد اور اعداد و شمار کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ یہ ریلوے منصوبے ترقی سے زیادہ ماحولیاتی تباہی اور زرعی معیشت کے سکڑاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ڈاکٹر راجہ مظفر نے ‘جموں و کشمیر پریزرویشن آف سپیسی فائڈ ٹریز ایکٹ 1969 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا اپنا قانون مخصوص اور قیمتی درختوں کی کٹائی کی ممانعت کرتا ہے، تو پھر کس بنیاد پر مخصوص درختوں جن میں اخروٹ اور شہتوت کے درخت شامل ہیں کا قتلِ عام جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ مزید برآں، انہوں نے ‘لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 2013’ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب جموں و کشمیر میں بھی یہ قانون نافذالعمل ہے، جو دیہی زمینوں کے لیے مارکیٹ ریٹ سے چار گنا اور شہری علاقوں میں دو گنا معاوضے کے ساتھ ساتھ متاثرین کی بحالی اور 70سے 80فیصد عوامی رضامندی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ڈاکٹر راجہ مظفر نے ایک چونکا دینے والے موازنے کے ذریعے خطرناک صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں فی کنبہ اوسط اراضی (Land Holding) محض 0.25 ہیکٹر (5 کنال) ہے، جو قومی اوسط 1.08 ہیکٹر (21 کنال) کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔‘‘ایسے میں جہاں پہلے ہی زمین کی قلت ہے، ریلوے جیسے بڑے منصوبوں کے لیے زرعی اراضی کا حصول نہ صرف ماحول بلکہ وادی کے غذائی تحفظ (Food Security) اور معاشی استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن کر ابھر سکتا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ریلوے ٹریکس کی تعمیر سے ہونے والے فائدے کے مقابلے میں زراعت اور ماحولیات کا نقصان کہیں زیادہ بھاری پڑ سکتا ہے۔
کشمیر میں مجوزہ ریلوے منصوبوں پر حالیہ روک وادی کی سیاسی تاریخ کا وہ اہم اور منفرد باب ہے جہاں حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف نے عوامی مفاد کی خاطر ایک ہی زبان میں آواز بلند کی۔ 3 فروری 2026 کو مرکزی وزیرِ ریلوے اشونی ویشنو کا یہ فیصلہ کشمیر کے ان باغ مالکان اور کسانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرا، جن کے باغات اور زرعی اراضی ان منصوبوں کے زد میں آتے تھے۔نظریاتی اختلافات کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں کسانوں کے تحفظ کے لیے یکجا نظر آئیں۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور رکنِ اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے شروع ہی سے ان منصوبوں کی بھرپور مخالفت کی اور انہیں باغات کی تباہی اور کسانوں کے حقوق کی پائمالی قرار دیا ۔نیشنل کانفرنس کے اراکینِ اسمبلی، بشمول بشیر احمد ویری (رکن اسمبلی حلقہ بجبہاڑہ)، الطاف احمد وانی ( رکن اسمبلی حلقہ پہلگام) اور شبیر احمد کلے( رکن اسمبلی حلقہ شوپیاں) نے عوامی جذبات کی موثر ترجمانی کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ کسانوں کے حقوق اور زرعی معشیت کا تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ان منصوبوں کو منسوخ کیا جائے ۔لوک سبھا میں نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے 2024میں ہی ان منصوبوں کے ‘امپیکٹ اسیسمنٹ (Impact Assessment) کا مطالبہ کیا تھا، جو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آخر کار بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ غلام علی کھٹانہ کی براہِ راست مداخلت اور وزیرِ ریلوے کے ساتھ اس مسلے کو اٹھانے کے نتیجے میں اس اہم فیصلے کی راہ ہموار ہوئی۔اس فیصلے پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے لوگ نئی ریلوے لائنوں کے حق میں نہیں تھے کیونکہ وہاں سڑکوں کا نیٹ ورک پہلے ہی موجود ہے اور ریلوے لائنوں سے قیمتی باغات کا نقصان ہو رہا تھا۔ میں نے عوامی جذبات کی قدر کرتے ہوئے درخواست کی تھی ،جسے منظور کر لیا گیا۔دوسری جانب پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے فیصلے کا خیرمقدم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک تعمیری تجویز پیش کی کہ ’’زرخیز زمینوں کے بجائے بنجر علاقوں سے ایک ‘فروٹ کاریڈور بنایا جائے تاکہ شاہراہوں کی بندش کے دوران میوہ جات کی نقل و حمل میں آسانی ہو۔انہوں نے چناب اور پیر پنچال کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔‘‘اگرچہ مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو کے اس اہم فیصلے سے کسانوں اور عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم باغ مالکان کا مطالبہ ہے کہ ان منصوبوں کو فی الوقت روکنے کے بجائے مستقل طور پر منسوخ کیا جائےاور مستقبل میں ایسے کسی بھی منصوبے کی عمل آوری سے قبل انہیں اعتماد میں لیا جائےتاکہ ترقی کے نام پر ان کی معیشت کا اہم ستون ان کی زرعی اراضی زوال پذیر نہ ہو۔