ہارون ابن رشید
رمضان مسلمانوں کے لئے ایک روحانی وقت اور نظم و ضبط کی علامت ہے۔ رمضان ہمیں روزے کے ذریعے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کا راستہ دکھاتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’روزہ ڈھال ہے۔‘‘ لہٰذا روزہ دار کو چاہیے کہ وہ فحش کلامی سے پرہیز کرے اور لغو اور جاہلانہ رویہ اختیار نہ کرے اور اگر کوئی اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اسے دو بار کہے کہ میں روزے سے ہوں۔ماہِ رمضان تزکیہ نفس ، خود احتسابی اور غمگساری کا مہینہ ہے ، نیکیوں کا یہ موسم بہار ہمیں اس لئے ملا کہ ہم اپنے ربّ کریم کو راضی کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں ۔ یہ ماہِ مبارک، جس میں ہم اپنے اخلاق و کردار کو سنوار سکتے ہیں اور اپنے مستحق اور نادار بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کرکے ربّ رحمٰن کی رضا و خوشنودی کو پا سکتے ہیں ۔بے شک رمضان اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا مقدس مہینہ ہے ۔ موجودہ دور میں جہاں قوموں کے درمیان کئی مسائل ہیں، جن میں عدم انصاف ، مختلف انسانوں کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارنے سے پرہیز کرنے کے علاوہ اور بھی بہت سارے مسائل ہیں۔ یہ مقدس مہینہ ان تمام خامیوں کو بیک وقت دور کئے جا سکنے کا موقع فراہم کرنے کا سنہری موقع ہے ۔یہ رمضان کا ہی مہینہ تھا جس میں تمام انسانوں کی ہدایت کے لئےقرآن نازل ہوا، اس میں ہدایتِ الٰہی کے واضح دلائل اور حق و باطل کا معیار موجود ہے۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کی گواہی دے تو وہ اس کے روزے رکھے۔ (سورۃ البقرہ، 2:185)اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک جیسے سعید لمحات و اوقات عباد ت میں گزارنے اوراس کے تمام انعامات ، برکات اور فضائل حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
اختتامی دعا:اے اللہ! ہمیں ماہِ رمضان کی حقیقی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما۔اے ربِّ کریم! ہمارے روزوں، نمازوں اور تمام عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ہمیں تقویٰ، صبر اور اخلاص نصیب فرما، اور ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے۔یا اللہ! ہمارے دلوں کو پاکیزہ بنا، ہمیں دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنا اور ہماری دنیا و آخرت سنوار دے۔
[email protected]
�������������������