آصف حسین کشمیری
انسانی معاشرہ جن اقدار پر قائم ہے، ان میں سب سے مضبوط اور بنیادی قدر والدین کا احترام ہے۔ ماں باپ وہ ہستیاں ہیں جن کی قربانیوں کے بغیر انسان کی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ وہ اپنی خواہشات، اپنی جوانی اور اپنی راحت اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا رشتہ والدین کا رشتہ بنتا جا رہا ہے۔ والدین کی نافرمانی محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک ایسا مہلک مرض ہے جو فرد، خاندان اور پورے معاشرے کو خاموشی سے تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
اسلام نے والدین کو غیر معمولی مقام عطا کیا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت اور اطاعت کوئی معمولی سماجی عمل نہیں بلکہ دین کا بنیادی تقاضا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے اور والدین کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی ہے۔ یہ فرمان اس حقیقت کو کھول کر بیان کرتا ہے کہ والدین کو دکھ دینا دراصل ربِ کائنات کو ناراض کرنا ہے اور والدین کو خوش رکھنا جنت کے راستے کو آسان بنانا ہے۔
بدقسمتی سے آج کی نئی نسل آزادی کے نام پر حدود سے تجاوز کرتی جا رہی ہے۔ نوجوان خود کو جدید اور روشن خیال سمجھتا ہے اور والدین کی نصیحت کو قدامت پرستی کا نام دیتا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور مصنوعی دنیا نے گھریلو رشتوں کی گرمجوشی کو سرد کر دیا ہے۔ گھر میں ماں باپ موجود ہوتے ہیں مگر اولاد کی نظریں اسکرینوں میں قید رہتی ہیں۔ بات چیت کم اور بے اعتنائی زیادہ ہو چکی ہے۔ یہی بے اعتنائی آگے چل کر نافرمانی، بدتمیزی اور دل آزاری میں بدل جاتی ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کے لیے راتوں کو جاگتی ہے اور اپنی نیند قربان کرتی ہے۔ باپ وہ شخصیت ہے جو دھوپ، سردی اور تھکن کی پروا کیے بغیر اولاد کے لیے روزی کماتا ہے۔ مگر جب یہی اولاد جوان ہو کر ان کے سامنے زبان درازی کرے، ان کی بات کو نظر انداز کرے اور ان کے جذبات کی قدر نہ کرے تو یہ رویہ صرف ایک فرد کی بدتمیزی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔
مجھے چند سال پہلے کا ایک واقعہ آج بھی یاد ہے جو دل پر گہرا نقش چھوڑ گیا۔ ایک شخص نے اپنی زندگی کی جمع پونجی، خون پسینہ اور برسوں کی محنت لگا کر ایک شاندار مکان تعمیر کیا تھا۔ مکان کو بڑی محبت سے سجایا سنوارا گیا اور اس میں داخل ہونے کی خوشی میں ایک بہترین دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ گھر والے خوش تھے، رشتہ دار جمع تھے اور ہر طرف مسرت کا ماحول تھا، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی رات اس مکان کے مالک کا انتقال ہو گیا۔ جس گھر میں چراغاں ہونا تھا وہاں اچانک خاموشی چھا گئی، خوشی غم میں بدل گئی اور دعوت کا شور ماتم میں تبدیل ہو گیا۔اس رات موسم بھی جیسے اس غم میں شریک تھا۔ آسمان پر گھنے بادل تھے اور موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ میں نے یہ سوچ کر کہا کہ باہر بارش میں غسل دینے کے بجائے بہتر ہے کہ نئے مکان کے کسی صاف ستھرے غسل خانے میں میت کو غسل دے دیا جائے تاکہ آسانی بھی ہو اور احترام کے ساتھ یہ فریضہ ادا ہو سکے۔ میری بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ مرحوم کی بیوی اور اولاد آگے بڑھی اور سخت لہجے میں بولی ،’’ہرگز نہیں! اس نئے مکان میں میت داخل نہیں ہو سکتی، یہ ہمارے لئے نیک شگون نہیں، ہم اس گھر میں لاش نہیں لا سکتے۔‘‘یہ سن کر دل لرز گیا۔ جس مکان کو اس شخص نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھا تھا، جس پر اس نے اپنی صحت اور جوانی قربان کی تھی، اُسی مکان میں اس کا آخری غسل تک نصیب نہ ہو سکا۔ لاکھوں روپے لگا کر بنایا گیا گھر اس کے لیے زندگی کی راحت تو نہ بن سکا، مگر موت کے وقت اُسے اپنے دروازے تک قبول نہ کر سکا۔ وہ مکان جس میں خوشیوں کے خواب بسائے گئے تھے، اپنے ہی مالک کے لیے اجنبی بنا دیا گیا۔
اس منظر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہم نے چیزوں کو انسانوں سے زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ دیواریں دلوں سے زیادہ عزیز ہو گئی ہیں اور اینٹیں رشتوں پر غالب آ گئی ہیں۔ ہم مکان کو نیک شگون سمجھتے ہیں مگر انسان کی حرمت کو بھول جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک گھر کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کی ایک زندہ تصویر تھی۔
افسوس کہ یہی حال آج ہمارے معمر والدین کے ساتھ ہو چکا ہے۔ جنہوں نے ہمیں زندگی دی، ہمیں پال پوس کر بڑا کیا، اپنی راحتیں قربان کیں، آج وہی والدین ہمارے گھروں میں بوجھ سمجھے جانے لگے ہیں۔ جس طرح اس شخص کو اپنے ہی نئے مکان میں جگہ نہ مل سکی، اسی طرح ہمارے بہت سے بوڑھے ماں باپ کو اپنی اولاد کے دلوں میں جگہ نہیں ملتی۔ ہم نے گھروں کو تو نیا بنا لیا، مگر دل ویران کر لیے۔ ہم نے کمروں کو تو سجا لیا، مگر رشتوں کو توڑ دیا۔نافرمانی صرف اونچی آواز میں بات کرنے کا نام نہیں۔ والدین کی بات نہ ماننا، ان کی ضروریات سے غفلت برتنا، ان کی بیماری اور بڑھاپے کو بوجھ سمجھنا اور ان کے مشوروں کو حقیر جاننا بھی نافرمانی ہی ہے۔ آج کتنے ہی ایسے گھر ہیں جہاں والدین زندہ ہوتے ہوئے بھی تنہائی کا شکار ہیں۔ ان کے آنسو دیکھنے والا کوئی نہیں اور ان کی خاموشی سننے والا کوئی نہیں۔
والدین کی نافرمانی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔ جب بچپن میں بچوں کو احترام، ادب اور شکرگزاری کا درس نہیں دیا جاتا تو جوانی میں وہ خود غرض اور نافرمان بن جاتے ہیں۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے بھی اس مسئلے کو بڑھا دیا ہے، جہاں آزادی کو بے لگام خود سری کا نام دے دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو والدین سے زیادہ اجنبی لوگوں کا محتاج بنا دیا ہے اور مادہ پرستی نے رشتوں کی اہمیت کو کمزور کر دیا ہے۔
والدین کی نافرمانی کا انجام دنیا میں بھی نہایت تلخ ہوتا ہے۔ ایسے گھروں میں سکون ختم ہو جاتا ہے اور محبت کی جگہ نفرت جنم لیتی ہے۔ رشتوں میں اعتماد باقی نہیں رہتا اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جو اولاد اپنے والدین کی عزت نہیں کرتی وہ کسی اور رشتے کی بھی قدر نہیں کر سکتی، اسی لئےایسے افراد کی ازدواجی زندگی اکثر ناکامی کا شکار ہو جاتی ہے اور وہ معاشرے میں بے چین اور مضطرب رہتے ہیں۔
والدین کی بددعا الفاظ میں نہیں بلکہ آنسوؤں میں چھپی ہوتی ہے۔ یہ آنسو خاموش ہوتے ہیں مگر ان کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے لوگ دولت، شہرت اور اقتدار کے باوجود خوشی اور سکون سے محروم رہے کیونکہ ان کے والدین ان سے ناراض تھے۔ یہ ناراضی زندگی سے برکت چھین لیتی ہے اور انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔آخرت میں والدین کی نافرمانی کا انجام اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ والدین کا نافرمان اللہ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔ یہ سب سے بڑا خسارہ ہے کہ انسان اپنی ضد اور غرور کی وجہ سے ہمیشہ کی کامیابی سے محروم ہو جائے۔ جنت کا راستہ والدین کی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے اور جہنم کا راستہ والدین کی نافرمانی سے کھلتا ہے۔
ہم والدین کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ قبرستان ہمیں روز یہ سبق دیتا ہے کہ نعمت چھن جائے تو اس کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ کتنے ہی لوگ افسوس سے کہتے ہیں کہ کاش میں نے ماں کی بات مان لی ہوتی، کاش میں نے باپ کی نصیحت کو نظر انداز نہ کیا ہوتا، مگر اب صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے اور وقت واپس نہیں آتا۔اصل عقل مندی یہ ہے کہ والدین کی زندگی ہی میں ان کی قدر کی جائے۔ ان کے ساتھ نرمی سے بات کی جائے، ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے، ان کے ہاتھ چومے جائیں اور ان کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنایا جائے۔ یہی اصل ترقی ہے اور یہی اصل تہذیب ہے۔ معاشرے کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہم والدین کے احترام کو دوبارہ زندہ کریں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں والدین کے حقوق کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، میڈیا کو چاہیے کہ والدین کے احترام پر مبنی پروگرام نشر کرے اور علماء و اساتذہ کو اس موضوع پر مسلسل رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر ہر فرد کو خود سے آغاز کرنا ہوگا اور اپنے رویے کو بدلنا ہوگا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں محفوظ رہیں تو ہمیں والدین کی عزت کو معاشرتی قدر بنانا ہوگا۔ یہی دین کا تقاضا ہے، یہی تہذیب کی پہچان ہے اور یہی انسانیت کی بنیاد ہے۔
والدین کی نافرمانی ہلاکت کا راستہ اور نجات سے دوری ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو خاموشی سے انسان کی روح کو مار دیتا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے والدین کو وقت دیں گے، ان کی خدمت کریں گے اور ان کی دعاؤں کو اپنی زندگی کی طاقت بنائیں گے، کیونکہ جس کے ساتھ والدین کی دعا ہو ،اُس کے لیے دنیا بھی آسان ہو جاتی ہے اور آخرت بھی روشن ہو جاتی ہے۔
رابطہ ۔ 9797888975