عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/راجستھان کی ایک نجی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم جموں و کشمیر کے 30سے زائد طلبہ کو نرسنگ کورس کے لیے لازمی منظوری حاصل نہ ہونے کے خلاف احتجاج کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔ جموں کشمیر طلبہ تنظیم نے جمعرات کو اس معاملے میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق چتور گڑھ کی میواڑ یونیورسٹی کے 33 طلبہ کو بی ایس سی نرسنگ پروگرام کے لیے راجستھان نرسنگ کونسل اور انڈین نرسنگ کونسل سے منظوری نہ ہونے کے خلاف پُرامن مظاہرہ کرنے پر معطل کیا گیا۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس کورس میں 50 سے زائد کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، تاہم متعلقہ قانونی اداروں سے منظوری نہ ہونے کے باعث ان کی ڈگری، رجسٹریشن اور مستقبل کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کہوہامی نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ بارہا طلبہ کو یقین دہانی کراتی رہی کہ منظوری حاصل کر لی جائے گی۔ گزشتہ سال رجسٹرار نے تحریری یقین دہانی بھی کرائی تھی، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کے تحفظات دور کرنے کے بجائے انتظامیہ نے تادیبی کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔ پُرامن احتجاج پر طلبہ کو معطل کرنا اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش ہے۔ قانونی منظوری کے بغیر پیشہ ورانہ کورس چلانا ایک سنگین ضابطہ جاتی ناکامی ہے۔ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو راجستھان حکومت کے ساتھ اٹھائیں۔ ساتھ ہی راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے یا تو فوری طور پر منظوری یقینی بنائیں یا طلبہ کو بغیر کسی تعلیمی نقصان کے کسی تسلیم شدہ ادارے میں منتقل کیا جائے۔
راجستھان میں احتجاج پر 33کشمیری طلبہ معطل؛ جمو ں کشمیر طلبہ تنظیم کی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مداخلت کی اپیل