صائمہ مقبول ،لولاب
تقدیر بنانے والے تو نے کمی نہ کی
کس کو کیا ملا مقدّر کی بات ہے
یہ شعر پڑھتے ہی انسان کے دل میں ایک عجیب سی خاموشی اُترتی ہے، ایک ایسی خاموشی جو تھکن کے بعد آنے والی گہری سوچ سے جنم لیتی ہے۔ زندگی جتنی سادہ دکھائی دیتی ہےحقیقت میں اتنی ہی پیچیدہ مسافتوں کا مجموعہ ہے۔ انسان چلتا ہے دوڑتا ہے محنت کرتا ہے دعائیں مانگتا ہے اور پھر ایک دن آ کر یہی لمحہ اسے احساس دلاتا ہے کہ بہت سی چیزیں ہاتھ میں نہ ہونا ناکامی نہیں، نصیب کے فیصلوں کی حکمت ہے۔ دکھ تب ہوتا ہے جب انسان اپنی لگن پر شک کرنے لگتا ہے لیکن سکون تب آتا ہے جب دل اس حقیقت کو مان لیتا ہے کہ کوئی کمی کوشش میں نہیں تھی تقسیم کا فیصلہ کہیں اور سے ہوتا ہے۔
انسان کے دل میں جو خواہش جنم لیتی ہے ،وہی اس کے قدموں کی سمت طے کرتی ہے۔ہم اکثر وہی راستہ چنتے ہیں جو ہمارے دل کو بھاتا ہے، چاہے انجام کا پتہ نہ ہو۔ ہر انسان کے پاس اپنے خوابوں کی ایک خاموش فہرست ہوتی ہے جنہیں وہ کسی کو بتاتا نہیں مگر پورا کرنے کی لگن اس کے اندر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ مگر سب خواہشیںپوری نہیں ہوتیں، سب راستے منزل تک نہیں جاتے، سب کوششیں نتیجے تک نہیں پہنچتیں۔ اس لمحے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے۔۔ آخر کیوں؟اور جواب سادہ سا ہے،ہر خواب انسان کا اپنا ہوتا ہے لیکن ہر مقدر انسان کا اپنا نہیں ہوتا۔ جو چیز انسان کو بہت پسند ہوتی ہے وہ کبھی کبھی اسی کے لیے نقصان بھی بن سکتی ہے اور جس چیز سے انسان بھاگتا ہے، کبھی وہی اس کی راحت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی تقدیر کی حکمت ہے۔
تقدیر کو سمجھنے کے لیے دو طریقے ہیں صبر اور شکر جن پر انسان کی روحانی طاقت کھڑی رہتی ہے۔ ڈاکٹر اسرار صاحب کا یہ جملہ ’’راضی برضا‘‘ رب یہ حرف آرزو کیسا خدا خالق خدا مالک اے انسان تو کیسا ‘‘۔یہ جملہ کتنا سکون دیتا ہے ۔ خوشی میں شکر ادا کرنا آسان ہے لیکن محرومی میں صبر کرنا اصل امتحان ہے۔ ا للہ تعالیٰ کچھ ہم سے چھین کر ہمارا امتحان لے رہا ہوتا ہے ۔محرومی ہی وہ وقت ہے جہاں اللہ رب العزت ہمارے ایمان کو آزما رہا ہوتا ہے۔
زندگی میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو ہم چاہ کر بھی خود نہیں کر پاتے۔رزق، رشتے اور کامیابی ۔یہ وہ موڑ ہیں جہاں انسان کی محنت ختم ہوتی ہے اور رب کی مرضی شروع ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کے پاس دولت بہت ہوتی ہے مگر سکون نہیں، کچھ کے پاس علم ہوتا ہے مگر تقدیر انہیں موقع نہیں دیتی کچھ کے پاس محبت ہوتی ہے مگر ساتھ نہیں ملتا اور کچھ لوگوں کے پاس سب کچھ نہیں ہوتا ،پھر بھی اُن کے دل کے اندر ایک غیر معمولی اطمینان ہوتا ہے۔ یہ فرق کسی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تقسیم کی حکمت کی وجہ سے ہے۔ بعض چیزیں انسان کو وقت سے پہلے مل جائیں تو تباہ کر دیتی ہیں اور کچھ دیر سے ملیں تو بہترین بنا دیتی ہیں۔ خدا کبھی نعمت سے نہیں آزماتا، وہ اس سے آزماتا ہے جسے انسان نعمت سمجھتا ہے۔
انسان کا سب سے بڑا سفر حالات سے نہیں خود سے ہوتا ہے۔ انسان تقدیر پر شکوہ کرتے کرتے ایک دن اس مقام پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ تکلیف نے اسے توڑا نہیں، بلکہ تراشا ہے۔جدوجہد نے اسے تھکایا نہیں بلکہ بنادیا ہے۔ محرومی نے اسے خالی نہیں کیا بلکہ مضبوط کیا ہے اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب انسان شکوے سے آگے بڑھ کر رضا کے مقام تک پہنچتا ہے۔ وہاں پہنچ کر انسان یہ نہیں سوچتا کہ اسے کیا نہیں ملا، بلکہ یہ دیکھنا شروع کرتا ہے کہ اسے کیا ملا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب دل مطمئن ہوتا ہے اور یہی سکون تقدیر کا اصل تحفہ ہے۔
آخر میں حقیقت اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے بے انتہا محبت ہوتی ہے اور وہ اپنے بندوں کے حق میں جو بھی فیصلہ کرتا ہے، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہوتی ہیں ۔ انسان کبھی کبھی زیادہ چاہ لیتا ہے اور کبھی جلدی چاہ لیتا ہے۔ جو وقت سے پہلے مل جائے وہ زحمت بن جاتا ہے اور جو وقت پر ملے وہ رحمت بن جاتا ہے۔ خواب انسان کے ہوتے ہیں مگر فیصلے ربّ کے ہوتے ہیں اور یہ رب وہ ہے جو کبھی بہتر سے کم نہیں دیتا اور جب دیتا ہے تو بندہ حیران رہ جاتا ہے کیونکہ ہر تاخیر میں اللہ تعالیٰ کی بہترین حکمت چھپی ہوتی ہے۔یہ وہ راز ہے جو سمجھ آجائے تو دل شکایتوں سے پاک ہوجاتا ہے۔پھر انسان مایوس نہیں ہوتا کیونکہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ ربّ کی تقسیم میں غلطی ممکن ہی نہیں۔
[email protected]
����������������