طارق علی میر
آج واٹس ایپ کے ایک گروپ میں موصول ہونے والی دو تصاویر نے محض دو اطلاعات فراہم نہیں کیں، بلکہ اردو زبان و صحافت کے موجودہ حالات پر سنجیدہ غور و فکر کی ایک کھڑکی کھول دی۔ بظاہر یہ دونوں خبریں الگ الگ نوعیت کی تھیں، مگر معنوی سطح پر ایک دوسرے سے گہرا ربط رکھتی محسوس ہوئیں۔
پہلی تصویر معروف صحافی ماجد جہانگیر کی تھی، جس میں یہ افسوس ناک اطلاع درج تھی کہ ہندوستان کا سب سے بڑا اردو اخبار ’’راشٹر یہ سہارا‘‘ اپنے تمام ایڈیشن مکمل طور پر بند کر چکا ہے۔ یہ خبر کسی ایک ادارے کے بند ہونے کی معمولی سی اطلاع نہیں، بلکہ اردو صحافت کی تاریخ میں ایک بڑے خلا کا اعلان ہے۔ راشٹریہ سہارا برسوں تک نہ صرف خبروں کی ترسیل کا ذریعہ رہا بلکہ سماجی، سیاسی اور تہذیبی شعور کی آبیاری کا ایک مضبوط وسیلہ بھی تھا۔ اس کے صفحات پر صرف خبریں نہیں چھپتی تھیں، بلکہ فکر، تجزیہ اور رائے کی ایک زندہ روایت سانس لیتی تھی۔
ایسے ادارے کا بند ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ اردو صحافت معاشی دباؤ، قارئین کی کم ہوتی تعداد، ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے اثر اور ہماری اجتماعی بے توجہی کے باعث شدید بحران سے دوچار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے واقعی اپنی زبان کے ذرائع ابلاغ کو بچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی؟ یا ہم محض نوحہ خوانی تک محدود ہیں؟
دوسری جانب صحافت کے استاد پروفیسر پرویز مجید کی جانب سے موصول ہونے والی تصویر میں ۸ فروری کو منعقد ہونے والی عالمی اردو کانفرنس میں مشاعرے کے اہتمام کی اطلاع تھی۔ یہ خبر یقیناً خوش کن ہے کہ اردو کے نام پر ادبی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں، شعرا جمع ہو رہے ہیں اور مشاعروں کی روایت زندہ ہے۔ لیکن یہاں ایک فکری تضاد جنم لیتا ہے۔ جب اخبارات بند ہو رہے ہوں، رسائل دم توڑ رہے ہوں اور صحافت جیسے عملی میدان سکڑ رہے ہوں، تو کیا صرف مشاعرے اور کانفرنسیں اردو کے وجود کو سہارا دے سکتی ہیں؟
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ زبان صرف شاعری یا تقریبات سے زندہ نہیں رہتی؛ اسے روزمرہ زندگی، صحافت، تعلیم، تحقیق اور عملی استعمال میں جگہ ملنی چاہیے۔ اگر زبان کے ادارے کمزور ہوں اور اس کا ابلاغی ڈھانچہ ٹوٹ جائے تو محض رسمی محفلیں وقتی تسکین تو دے سکتی ہیں، مستقل حل نہیں۔
یوں لگتا ہے کہ ہم ایک عجیب دو راہے پر کھڑے ہیں:ایک طرف زوال کی خاموش خبریں ہیں اور دوسری طرف تقاریب کی چمک دمک۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ منصوبہ بندی کی جائے، اخبارات اور رسائل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، نئی نسل کو صحافت اور تحریر کی طرف راغب کیا جائے، ورنہ یہ خوف رہے گا کہ کل کو مشاعرے تو ہوں گے، مگر انہیں پڑھنے اور سمجھنے والے قاری نہیں ہوں گے۔
یہ لمحہ محض افسوس کا نہیں، خود احتسابی کا بھی ہے !۔
[email protected]>