عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر میں اسپیشل اسسٹنس اسکیم فار کیپیٹل انویسٹمنٹ (SASCI) کے نفاذ کو لے کر پیر کے روز قانون ساز اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے الزام عائد کیا کہ یہ اسکیم یونین ٹیریٹری کے لیے ’’موت کا جال‘‘ ہے۔بجٹ مباحثے میں حصہ لیتے ہوئےپی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے دعویٰ کیا کہ ایس اے ایس سی آئی جموں و کشمیر کے لیے ایک خطرناک منصوبہ ہے۔
پرہ نے کہا، ’’ایس اے ایس سی آئی سب سے خطرناک کام ہے جو آپ جموں و کشمیر کے ساتھ کر رہے ہیں۔ آپ جموں و کشمیر گروی رکھ رہے ہیں ۔ یہ نہ تو نبارڈ ہے اور نہ ہی کوئی اور ایسی اسکیم۔‘‘ انہوں نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ہاؤس کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔پرہ کے ان ریمارکس پر نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی نے سخت اعتراض کیا اور ان کے خلاف آواز بلند کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔اسی دوران نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے پیرا پر الزام عائد کیا کہ وہ مائیکروفون اپنی جیب میں رکھے ہوئے ہیں۔ایوان میں نظم و ضبط بحال نہ ہونے پر اسپیکر نے کارروائی دوپہر 1:14 بجے ملتوی کرتے ہوئے اسے 2:30 بجے تک کے لیے مؤخر کر دیا۔
اسمبلی میں ایس اے ایس سی آئی کے نفاذ پر ہنگامہ آرائی،وحید پرہ نے اسکیم کو ’’موت کا جال‘‘ قرار دیا