عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ پبلک سروس کمیشن اور سروسز سلیکشن بورڈ نے گزشتہ دو مالی برسوں2023-24 اور 2024-25 کے دوران درخواست فیس کی مد میں تقریباً 48.88 کروڑ روپے وصول کیے۔جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران حکومت نے مختلف بھرتی ایجنسیوں کی جانب سے حاصل کی گئی آمدنی اور بھرتی کے عمل کی تازہ ترین صورتحال کو تفصیل سے ایوان کے سامنے رکھا۔پی ڈی پی لیڈر وحید الرحمان پرہ کے تحریری سوال پر ردعمل دیتے ہوئے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ پی ایس سی اور ایس ایس بی نے مجموعی طور پر 48.88 کروڑ روپے درخواست فیس کی صورت میں حاصل کیے ہیں، جن میں پی ایس سی کی جانب سے 17.90 کروڑ جبکہ ایس ایس بی کی جانب سے 30.98 کروڑ روپے شامل ہیں۔
جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ جے کے ایس ایس بی نے نئی ریزرویشن پالیسی (مارچ 2024) کے بعد متعدد بھرتی نوٹیفکیشن تو جاری کیے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی اسامی پر حتمی سلیکشن نہیں کی گئی۔ تمام اشتہارات امتحانی مرحلے، دستاویزات کی جانچ یا سلیکشن کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ دوسری جانب پی ایس سی نے یو ٹی کیڈر کی گزیٹیڈ اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری رکھا، جن کی تفصیلی فہرست ’انوکسیچرA‘ کے طور پر پیش کی گئی۔
حکومت نے مزید واضح کیا کہ چونکہ ایس ایس بی کی نئی ریزرویشن پالیسی کے تحت جاری اسامیوں پر سلیکشن ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، اس لیے ڈویژن اور ضلع وار ریزروڈ کیٹیگری سلیکشن ڈیٹا فی الحال دستیاب نہیں۔جواب کے آخر میں، ایڈیشنل سیکریٹری نے اس بات کی تصدیق کی کہ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد ایس ایس بی کی پہلی سلیکشن لسٹ تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی، جس پر اپوزیشن نے شدید اعتراضات اٹھائے تھے اور جواب طلبی کی۔
پی ایس سی اور ایس ایس بی نے دو برس میں 48.88 کروڑ روپے بطور درخواست فیس وصول کیے: حکومت