ڈاکٹرزبیر سلیم
کینسر ایک ایسا لفظ ہے جو خوف، الجھن اور خاموشی پیدا کرتا ہے، خاص طور پر بزرگ شہریوں میں۔ بہت سے معمر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ کینسر یا تو عمر کے ساتھ لازمی ہے یا پھر اگر ہو جائے تو اس کا علاج فائدہ مند نہیں۔ یہ دونوں تصورات غلط ہیں۔ کینسر کو سادہ الفاظ میں سمجھنا خوف کم کرنے اور بہتر نتائج کی طرف پہلا قدم ہے۔
کینسر ایک بیماری ہے جس میں جسم کے غیر معمولی خلیے بے قابو ہو کر بڑھتے ہیں اور جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل سکتے ہیں۔ عام طور پر جسم کے خلیے ایک منظم طریقے سے بڑھتے، تقسیم ہوتے اور ختم ہو جاتے ہیں، لیکن کینسر میں یہ نظام بگڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں رسولی (ٹیومر) بن سکتی ہے یا بیماری جسم کے مختلف اعضا جیسے پھیپھڑوں، چھاتی، پروسٹیٹ، آنتوں، خون یا بیضہ دانی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ عمر کے ساتھ کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے، لیکن کینسر خود بڑھاپے کا قدرتی حصہ نہیں ہے۔
کینسر کے خطرے کے عوامل
کینسر کے خطرے کے عوامل کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اول ناقابلِ تبدیلی عوامل اوردوم قابلِ تبدیلی عوامل۔
ناقابلِ تبدیلی عوامل
یہ وہ ہیں جنہیں ہم بدل نہیں سکتے۔ ان میں بڑھتی عمر، خاندانی تاریخ، جینیاتی رجحان اور بعض موروثی بیماریاں شامل ہیں۔ جتنا انسان زیادہ عمر پاتا ہے، اتنا ہی خلیوں میں وقت کے ساتھ نقصان جمع ہونے کا امکان بڑھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کینسر ناگزیر ہے، بلکہ یہ وضاحت کرتا ہے کہ بزرگ افراد میں کینسر زیادہ کیوں پایا جاتا ہے۔
قابلِ تبدیلی عوامل
یہ وہ ہیں جو ہمارے اختیار میں ہوتے ہیں، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں بچاؤ سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ تقریباً 40سے 50فیصد کینسر قابلِ روک تھام ہیں۔ تمباکو کا استعمال کسی بھی شکل میں،سگریٹ، حقہ، گٹکھا یا دوسروں کے دھوئیں سے متاثر ہوناکینسر کی سب سے بڑی قابلِ روک تھام وجہ ہے۔ شراب نوشی جگر، منہ، گلے اور چھاتی کے کینسر کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ غیر صحت مند غذا، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، اور اندرونی یا بیرونی آلودگی کی طویل نمائش بھی کینسر کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ بعض انفیکشنز، جیسے HPV اور ہیلیکوبیکٹر پائلوری، کینسر سے جڑے ہوئے ہیں اور ان سے بچاؤ یا علاج ممکن ہے۔
تمباکو سے پرہیز، پھلوں اور سبزیوں سے بھرپور متوازن غذا، مناسب وزن برقرار رکھنا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، اور ذیابیطس و ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں پر قابو پانا بڑھاپے میں بھی کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
غذا اور کینسر سے بچاؤ
ہمارا باورچی خانہ بھی کینسر سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بزرگ افراد کو نمک، چینی، تیل، دھوئیں میں سکی یا خشک اور زیادہ نمکین غذاؤں کا استعمال محدود کرنا چاہئے۔ پراسیسڈ سنیکس، جنک فوڈ، فاسٹ فوڈ اور بار بار گرم کی گئی غذا سے پرہیز کرنا چاہیے۔ سرخ گوشت اعتدال میں استعمال کیا جائے۔
ترجیح تازہ پکی ہوئی گھریلو غذا کو دی جائے، جیسے ہاکھ، ندرُو اور دیگر سبز سبزیاں، موسمی پھل، دالیں، ثابت اناج، دہی یا دودھ، انڈے یا مچھلی، اور تھوڑی مقدار میں خشک میوہ جات اور بیج۔ مناسب پانی پینا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور وزن پر قابو رکھنے کے ساتھ، یہ سادہ عادات بڑھاپے میں بھی کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔
سکریننگ کی اہمیت
سکریننگ کینسر پر قابو پانے کا ایک بنیادی ستون ہے، لیکن بزرگ افراد میں اسے اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ سکریننگ کا مطلب ہے علامات ظاہر ہونے سے پہلے کینسر کی تلاش، جب علاج آسان، محفوظ اور زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ صرف عمر کی بنیاد پر سکریننگ کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے،مجموعی صحت، جسمانی فعالیت اور متوقع عمر زیادہ اہم ہیں۔
خواتین کو چھاتی کا خود معائنہ، ڈاکٹر کے ذریعے باقاعدہ معائنہ، اور میموگرافی ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق جاری رکھنی چاہئے۔ اگر پہلے مناسب سکریننگ نہ ہوئی ہو تو ماہواری بندہونے کے بعد بھی سروائیکل کینسر کی جانچ (Pap smear یا HPV ٹیسٹ) ضروری ہے۔
منہ کے کینسر کی جانچ ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے جس نے سگریٹ، حقہ، گٹکھا یا کسی بھی قسم کا تمباکو استعمال کیا ہو، اور یہ عام طبی معائنے کے دوران کی جا سکتی ہے۔
مردوں کو 50 سال کی عمر کے بعد، یا اگر خاندانی تاریخ ہو تو اس سے پہلے، پروسٹیٹ کینسر کی سکریننگ پر اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔ اس میں عام طور پر PSA خون کا ٹیسٹ شامل ہوتا ہے، اور مزید جانچ صرف ضرورت پڑنے پر کی جاتی ہے۔
بڑی آنت (قولون) کے کینسر کی سکریننگ، جیسے پاخانے میں خفیہ خون کا ٹیسٹ، کولونوسکوپی یا دیگر تجویز کردہ طریقے، 45سے50سال کے بعد نہ صرف ابتدائی کینسر کو پکڑ سکتے ہیں بلکہ کینسر بننے سے پہلے کے ابھار نکال کر بیماری سے بچاؤ بھی کر سکتے ہیں۔
بعض صورتوں میں اضافی ٹیسٹ جیسے نامعلوم خون کی کمی کےلئے خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ، ایکسرے یا سی ٹی سکین علامات اور خطرے کے مطابق تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ خوف پھیلانے کےلئے نہیں بلکہ بیماری کو بروقت مسترد یا جلد تشخیص کرنے کےلئے ہوتے ہیں۔ سکریننگ جان بچاتی ہے،بشرطیکہ یہ وقت پر اور ڈاکٹر کے مشورے سے کی جائے۔
وہ علامات جنہیں کبھی نظرانداز نہ کریں
عمر چاہے کوئی بھی ہو، درج ذیل علامات کی طبی جانچ ضروری ہے:
* بغیر وجہ وزن میں کمی
* بھوک میں کمی
* طویل عرصے کی تھکن
* نئی گلٹیاں یا سوجن
* غیر معمولی خون بہنا
* مسلسل کھانسی یا آواز میں بھاری پن
* آنتوں یا پیشاب کی عادات میں تبدیلی
* نہ بھرنے والے زخم
* نگلنے میں دشواری
* بغیر وجہ یا مسلسل درد
بزرگ افراد اکثر ان علامات کو’’بڑھاپے کی علامت‘‘ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں یا خاموشی سے برداشت کرتے ہیں۔ اس تاخیر کے نتیجے میں تشخیص دیر سے ہوتی ہے، جس سے علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ جلدی جانچ کا مطلب یہ نہیں کہ لازماً کینسر ہوگا،لیکن اگر ہو، تو بروقت اقدام نتائج کو یکسر بدل دیتا ہے۔
بزرگ افراد میں کینسر کا علاج
حالیہ برسوں میں کینسر کے علاج میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ آج کینسر کا علاج ایک ہی طریقہ سب کے لئےنہیں ہوتا۔ سرجری زیادہ محفوظ ہو چکی ہے، ریڈیوتھراپی زیادہ درست ہے، اور کیموتھراپی کی دوائیں بہتر طور پر برداشت کی جاتی ہیں۔ ٹارگٹڈ تھراپی اور امیونو تھراپی نے کئی کینسروں میں نتائج کو بدل دیا ہے، کیونکہ یہ خاص طور پر کینسر کے خلیوں کو نشانہ بناتی ہیں اور صحت مند خلیوں کو کم نقصان پہنچاتی ہیں۔
علاج کے منصوبے بزرگ فرد کی جسمانی طاقت، دوسری بیماریوں اور ذاتی ترجیحات کے مطابق بنائے جا سکتے ہیں۔ مقصد ہمیشہ جارحانہ علاج نہیں ہوتا، اکثر بیماری پر قابو اور زندگی کے معیار کے درمیان توازن زیادہ اہم ہوتا ہے۔
پلیٹو کیئر کا کردار
پلیٹو کیئر کا مقصد علامات میں کمی، آرام، جذباتی سہارا اور وقار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس کا مطلب علاج چھوڑ دینا نہیں ہے۔ یہ کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ، خاص طور پر بزرگ افراد میں، ابتدائی مرحلے سے ہی شروع کی جا سکتی ہے۔ جب درد، سانس کی تکلیف، بے چینی اور تھکن کو اچھی طرح کنٹرول کیا جائے تو زندگی کا معیار اور بقا دونوں بہتر ہوتے ہیں۔
آخری پیغام
بزرگ شہریوں کےلئے کینسر سے آگاہی کو خوف اور مایوسی سے آگے بڑھنا چاہئے۔ کینسر نہ سزا ہے اور نہ ہی خودکار انجام۔ بہت سے کینسر قابلِ روک تھام ہیں، بہت سے قابلِ علاج ہیں، اور تقریباً سبھی کو ہمدردی اور وقار کے ساتھ سنبھالاجا سکتا ہے۔ عمر کبھی بھی علامات کو نظرانداز کرنے، سکریننگ سے انکار کرنے یا علاج روکنے کی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔
اختتامیہ
خاموش نہ رہیں۔ سوال پوچھیں۔ بروقت جانچ کروائیں۔ حفاظتی عادات جاری رکھیں۔ ضرورت پڑنے پر مدد قبول کریں۔ آج کینسر کی دیکھ بھال کا مقصد صرف زیادہ جینا نہیں بلکہ بہتر جینا ہےاور بزرگ افراد اس کے پورے حق دار ہیں۔
بغلی سرخی
تقریباً نصف کینسر صحت مند طرزِ زندگی، مناسب سکریننگ اور خطرناک علامات کو نظرانداز نہ کرنے سے کسی بھی عمر میںروکے جا سکتے ہیں۔
�������������������