عشرت حسین بٹ
پونچھ /فوجی سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتے کے روز پونچھ کے اگلے سرحدی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے وہاں تعینات جوانوں کی آپریشنل تیاریوں اور سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ جنرل دویدی نے مختلف مقامات پر اہلکاروں سے براہِ راست بات چیت کی اور مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود ان کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور ہمہ وقت چوکس رہنے کے عزم کی ستائش کی۔اپنے دورے کے دوران فوجی سربراہ کامسر گاؤں بھی پہنچے جہاں انہوں نے 18 جموں و کشمیر رائفلز کے سابق صوبیدار (اعزازی کیپٹن) پرویز احمد سے ملاقات کی۔ دونوں افسران کئی مواقع پر ایک ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں وہ دور بھی شامل ہے جب جنرل دویدی 2002 سے 2005 تک اسی بٹالین کی کمانڈ کر رہے تھے۔
سوبیدار پرویز احمد نے مارچ 1991 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور 28 برس کی طویل اور نمایاں سروس کے بعد 2019 میں ریٹائر ہوئے۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے متعدد آپریشنل، تربیتی اور خصوصی کورسز میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ مقامی آبادی کے ساتھ فعال تعلق رکھتے ہوئے علاقائی معاونت کے کاموں میں پیش پیش رہے۔آپریشن سندور کے دوران پرویز احمد نے تعینات فوجی دستوں کی لاجسٹک معاونت، زمینی رہنمائی اور مقامی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ سنگین حالات میں ان کی یہ کوششیں اور خطرات کے باوجود مسلسل تعاون فوج کی جانب سے نہایت قابلِ قدر سمجھا گیا۔
انہی خدمات کے اعتراف میں فوجی سربراہ نے انہیں ’ویٹرن اچیور ایوارڈ‘ سے نوازا۔ اس موقع پر اہلِ خانہ، سابق فوجی اہلکار اور مقامی شہری بھی موجود تھے۔فوج کے سربراہ نے اپنے دورے کے دوران متعدد دوسرے سابق فوجیوں، خواتین، بچوں اور علاقائی نمائندوں سے بھی غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں فوج، سابق فوجیوں اور مقامی آبادی کے درمیان گہرا رشتہ ملک کے دفاع اور امن کا مضبوط ستون ہے۔
فوجی سربراہ کا پونچھ دورہ، اگلی چوکیوں پر آپریشنل تیاریوں کا لیا جائزہ