عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموںو کشمیر حکومت نے ہفتہ کے روز کہا کہ مالی سال2026-27 کے دوران یونین ٹیریٹری میں نئی وائن شاپس کھولنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔اسمبلی میں ایم ایل اے ارجن سنگھ راجو کے ایک سوال کے تحریری جواب میں محکمہ خزانہ نےایوان کو مطلع کیا کہ آئندہ مالی سال کے لیے کوئی نیا JKEL-2 شراب لائسنس جاری کرنے کا منصوبہ نہیں ہے۔حکومت نے گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران موجودہ وائن شاپس سے حاصل ہونے والی ضلع وار آمدنی کی تفصیلات بھی پیش کیں، جن کے مطابق آمدنی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع جموں نے 2024-25میں 48,350.15 لاکھ روپے جبکہ2024-25میں 50,913.93 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کی۔ اُدھم پور میں یہ آمدنی بالترتیب 11,322 لاکھ اور 12,061.50 لاکھ روپے رہی، جبکہ ریاسی میں 3,371 لاکھ اور 3,450.50 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔
کٹھوعہ میں 2023-24کے دوران 10,653 لاکھ اور 2024-25میں 11,272 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی، جبکہ سانبہ نے 9,138.06 لاکھ اور 9,740.15 لاکھ روپے حاصل کیے۔ ڈوڈہ میں یہ آمدنی 2,353.61 لاکھ اور 2,448.17 لاکھ روپے رہی، جبکہ کشتواڑ سے 1,681.90 لاکھ اور 1,887.59 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔رام بن میں2023-24 کے دوران 2,299.95 لاکھ اور 2024-25 میں 2,476.70 لاکھ روپے، راجوری میں 4,806.19 لاکھ اور 5,336.96 لاکھ روپے، جبکہ پونچھ میں 1,497.78 لاکھ اور 1,768.92 لاکھ روپے کی آمدنی درج کی گئی۔کشمیر ڈویژن میں ضلع سری نگر نے2023-24 میں 5,489.67 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کی جو2024-25 میں بڑھ کر 6,557.66 لاکھ روپے ہو گئی۔
گاندربل میں یہ آمدنی 223.45 لاکھ سے بڑھ کر 319.69 لاکھ روپے، بارہمولہ میں 872.23 لاکھ سے 1,139.84 لاکھ روپے، کپواڑہ میں 415.66 لاکھ سے 442.96 لاکھ روپے، جبکہ اننت ناگ میں 1,403.50 لاکھ سے بڑھ کر 1,999.50 لاکھ روپے ہو گئی۔
بنامی شراب لائسنسوں سے متعلق خدشات پر حکومت نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ تمام لائسنس جموں و کشمیر ایکسائز ایکٹ 1958 اور وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ایکسائز پالیسیوں کے تحت صرف جموں و کشمیر کے ڈومیسائل باشندوں کو ہی جاری کیے جاتے ہیں۔
سال 2026-27میں جموں و کشمیر میں نئی وائن شاپس کھولنے کی کوئی تجویز نہیں: حکومت