عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/اقتصادی سروے رپورٹ 2025-26کے مطابق 13.15 کلو میٹر طویل زوجیلا ٹنل میں اب تک تقریباً 59 فیصد جسمانی پیش رفت ہو چکی ہے اور اس کی تکمیل 2027-28تک متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں تمام موسمی سڑک رابطہ بہتر بنانے کے لیے بڑے ٹنل منصوبے مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔یہ ٹنل منصوبے وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج (PMDP) اور قومی شاہراہوں کی اسکیموں کے تحت عمل میں لائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد پہاڑی علاقوں میں آمد و رفت کو آسان بنانا اور سفر کے وقت میں کمی لانا ہے۔اقتصادی سروے کے مطابق، گاندربل ضلع کے گگن گیر کے قریب واقع 6.5 کلو میٹر طویل سونمرگ (زی مورہ) ٹنل جولائی 2024 میں 2,379 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹنل قومی شاہراہ NH-01 پر سری نگرسونمرگ حصے کو جوڑتی ہے اور سری نگر سے لیہہ تک سال بھر رابطہ یقینی بناتی ہے۔
سروے کے مطابق سونمرگ ٹنل کو اسٹریٹجک اہمیت بھی حاصل ہے کیونکہ یہ سرحدی علاقوں کی جانب شہریوں اور سیکورٹی فورسز کی قابلِ اعتماد نقل و حرکت کو ممکن بناتی ہے۔ اس کے علاوہ، بھاری برف باری اور برفانی تودوں کے خطرات میں کمی لا کر سری نگرلیہہ شاہراہ کی موسمی بندش کا خاتمہ کرتی ہے، جو پہلے تقریباً سات ماہ تک بند رہتی تھی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پنتھا ل ،مگرکوٹ ٹنل، ڈگڈول کھونی نالہ ٹنل، جموں رنگ روڈ ٹنل، بمبر گلی ٹنل اور سنگل ٹنل سمیت دیگر اہم منصوبے تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں۔اقتصادی سروے کے مطابق کنڈی ٹنل اور نوشہرہ ٹنل پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ ان ٹنل منصوبوں کی تکمیل سے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوطی ملے گی، ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، دور دراز علاقوں تک رسائی آسان ہوگی اور جموں و کشمیر کی طویل مدتی معاشی اور اسٹریٹجک ترقی کو تقویت حاصل ہوگی۔
زوجیلا ٹنل میں 59 فیصد پیش رفت، تکمیل2027-28 تک متوقع: اقتصادی سروے