جی کیو کامران
کشمیر کا برف سے محض جمالیاتی ہی نہیں بلکہ بقا کا رشتہ بھی ہے۔ یہاں برف کبھی زندگی کی علامت بن کر برستی ہے تو کبھی قہر بن کر نازل ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برف باری کا سفر اتار چڑھاؤ سے بھرا پڑا ہے، جس نے کبھی انسانی بستیوں کو اجاڑا تو کبھی جنگلی حیات کا نام و نشان مٹا دیا۔آج سے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل، معروف انگریز ماہر ارضیات ریچرڈ لیڈیکر جنہیں 1874 میں کشمیر اور لداخ کے ارضیاتی سروے (Geological Survey) پر مامور کیا گیا تھا نے اپنی دستاویزات میں 1877اور 1878کی اس ہولناک برف باری کا ریکارڈ محفوظ کیا ہے جس نے وادی میں تباہی کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ لیڈیکر کے مطابق، اس ہولناک برف باری کے نتیجے میں آنے والی قحط سالی نے زندگی کے آثار مٹا دیے۔ ہمالیہ کے دامن میں بسنے والوں کے لیے وہ سردی ایک ایسے عذاب کی مانند تھی جس کی مثال اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتی۔اکتوبر 1877 سے مئی 1878 تک، کشمیر کی وادیاں اور کوہسار برف کی گرفت میں رہے۔ مقامی روایات بتاتی ہیں کہ کئی علاقوں میں مسلسل دس روز تک برف بلا تعطل گرتی رہی۔ سطح سمندر سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دراس میں برف کی تہہ 30 سے 40 فٹ تک جا پہنچی۔ اس کے وزن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دراس میں مسافروں کے لیے تعمیر کردہ 30 سالہ قدیم بنگلہ اور گلمرگ و سونہ مرگ میں موجود یورپی سیاحوں کی ہٹ (Huts) زمین بوس ہوگئیں۔11,800 فٹ بلند زوجیلا پاس کی صورتحال تو اور بھی حیرت انگیز تھی۔ اگست کے آغاز میں جب لیڈیکر وہاں سے گزرے تو پوری گھاٹی 150 فٹ برف کی تہہ تلے دبی ہوئی تھی۔ وہ راستہ جو عام طور پر جون میں کھل جاتا تھا، اس سال ستمبر کے آخر تک بھی بمشکل ہی صاف ہوسکا۔ دراس سے کشن گنگا تک کی وادیاں اگست کے وسط تک 200 فٹ برف تلے دفن تھیں، جبکہ 13 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع راستے گرمیوں میں بھی مسدود رہے۔
اس تباہی کا سب سے المناک پہلو جنگلی جانوروں کا انجام تھا۔ کشتواڑ کے وڑون (Warwan) اور گریز کے تولیل (Tulail) علاقوں میں ‘آئی بیکس (Ibex) کے پورے کے پورے ریوڑ برف میں دب کر ہلاک ہوگئے۔ بھورے ریچھ اپنے غاروں کے دھانے بند ہونے کے سبب بھوک سے مر گئے۔ لیڈیکر لکھتے ہیں کہ ’’جو نقصان یورپی شکاری پانچ چھ سالوں میں نہیں پہنچا سکتے تھے، اس سے کہیں زیادہ تباہی صرف ایک سال کی اس ہولناک برف باری نے مچا دی۔‘‘
کشمیر میں شدید برف باری کے تاریخی واقعات میں فروری 1967 کا موسمِ سرما ایک ہولناک یاد بن کر نقش ہے۔ یہ وہ دور تھا جب قدرت نے وادی کو اپنے سفید حصار میں کچھ یوں جکڑا کہ عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام گلمرگ میں 8.4 میٹر (تقریباً 28 فٹ) برف ریکارڈ کی گئی، جبکہ کئی بالائی مقامات پر برف کی تہہ 40 فٹ کی ناقابلِ یقین اونچائی کو چھو رہی تھی۔ برف باری کا یہ شدید سلسلہ جو 1968 تک محیط رہا، دراصل ایک وسیع تر اور تباہ کن موسمیاتی بحران کا حصہ تھا۔ اس دوران وادیِ کشمیر کا زمینی رابطہ ملک کے باقی حصوں سے ایک طویل مدت کے لیے منقطع ہو کر رہ گیا۔ اور عام لوگ ناقابلِ بیان مصائب اور شدید ترین مشکلات سے دوچار ہو گئے۔
کشمیر میں شدید برف باری کا ایک اور ہولناک باب فروری 1996 میں رقم ہوا،اس دوران بانہال میں ریکارڈ 15 فٹ (4.5 میٹر) برف باری درج کی گئی، جو گزشتہ تین دہائیوں میں ہونے والا سب سے بڑی برف باری تھی ۔ برف کے بھاری بوجھ اور گرنے والے برفانی تودوں (Avalanches) نے پورے خطے میں جان و مال کو شدید نقصان پہنچایا۔موسم کا یہ قہر صرف سردیوں کے موسم تک محدود نہ رہا، بلکہ اسی سال اگست میں سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران قدرت کا ایک اور لرزہ خیز روپ سامنے آیا۔ یاترا کے راستے پر ہونے والی غیر متوقع برف باری اور شدید برفانی طوفانوں نے ایک انسانی المیے کو جنم دیا، ٹھٹھرتی سردی اور برفانی طوفانوں کے نتیجے میں 240 سے 260 کے قریب یاتری جاں بحق ہو گئے۔
کشمیر میں برف باری کی تاریخ کا ایک خونچکاں باب فروری 2005 میں رقم ہوا، جب ضلع کلگام کی دور افتادہ گجر بستیوں والٹینگو ناڈ، پچھ گام اور نگین پورہ پر قدرت کا قہر ٹوٹ پڑا۔ مسلسل پانچ دنوں تک ہونے والی برف باری نے یہاں 10 فٹ سے زائد اونچی برف کی دیواریں کھڑی کر دی تھیں۔ 19 فروری کی وہ رات ایک بھیانک خواب ثابت ہوئی جب ایک ہولناک برفانی طوفان نے ان بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس قیامت خیز واقعے میں 175 سے زائد افراد گھروں میں ہی زندہ دفن ہو گئے، اور کئی صورتوں میں تو پورے کے پورے خاندان ہی صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر مکانات، مال مویشی اور غریب بستیوں کا رہا سہا اثاثہ بھی برف کے اس سیلاب میں تباہ و برباد ہو گیا۔
برف باری کا یہ ہولناک سلسلہ 2013 میں بھی جاری رہا، جب قدرت کے قہر نے ایک بار پھر انسانی جانوں کا خراج مانگا۔ وادیِ گریز میں گرنے والے ایک برفانی تودے نے دو کم سن بچیوں کو ابدی نیند سلا دیا، جبکہ کپوارہ کے نوگام سیکٹر میں دو اور دنیا کے بلند ترین محاذ ‘سیاچن گلیشیرمیں برفانی تودوں کی زد میں آکر دس فوجی جوان لقمہ اجل بن گئے۔
تاہم، حالیہ برسوں میں کشمیر کے موسم نے ایک نیا اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا۔ جہاں ماضی میں برف کی کثرت سے جانی و مالی نقصان ہوتا تھا، وہیں اب برف اور بارش کی شدید قلت ایک نیا خطرہ بن کر ابھری ۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں برف و باراں میں 80 فیصد کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی، جبکہ 2024 میں یہ بحران مزید سنگین ہو گیا۔ اس سے قبل 2015، 2018 اور 2022 کے برس بھی ‘خشک سرما کی نذر ہو گئے، جس نے وادی کے آبی ذخائر اور زراعت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے۔
رواں سال(2026) کے 23 جنوری سے 27 جنوری کے درمیان ہونے والی حالیہ برف باری نے جہاں طویل خشک سالی کا جمود توڑ کر وادی میں لوگوں کے چہروں پر خوشی اور اُمید کی لہر دوڑا دی ہے، وہیں نظامِ زندگی کے لیے نئے چیلنجز بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ بڈگام، کپوارہ، بارہ مولہ، شوپیان، پلوامہ اور بانڈی پورہ جیسے اضلاع کے کئی علاقوں میں 4 سے 5 فٹ تک برف ریکارڈ ہونے سے وہاں کئی دنوں تک زمینی رابطہ منقطع ہونے کے علاوہ بجلی اور پانی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔جنوبی کشمیر کے اضلاع پلوامہ،شوپیاں اور کلگام میں سیب کے کئی باغات بالخصوص جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہائی ڈینسٹی باغات کو شدید نقصان پہنچا۔ سونہ مرگ میں برفانی تودے (Avalanche) کی زد میں آ کر متعدد ہوٹلوں کو نقصان پہنچا، جہاں مقیم سیاح اور مقامی باشندے معجزاتی طور پر بچ گئے۔ادھر کشتواڑ کے علاقے وڑون میں برفانی تودے نے مال مویشیوں پر قہر ڈھایا، جس کے نتیجے میں درجنوں بھیڑ بکریاں دب کر ہلاک ہو گئیں۔
ان تمام تر مشکلات کے باوجود بھی، یہ برف باری کشمیر کے لیے کسی ‘رحمت سے کم نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف وادی کی رونقیں بحال ہوئی ہیں بلکہ سیاحت کی صنعت میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ گلمرگ، سونہ مرگ اور پہلگام کے برف پوش نظارے دیکھنے کے لیے ملک و بیرون ملک سے سیاحوں کا تانتا بندھ گیا۔ کسانوں اور باغبانوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ لوٹ آئی ہے کیونکہ خشک ندی نالوں میں دوبارہ روانی اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری سے زراعت اور بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے، جس سے زندگی کا پہیہ پھر سے متحرک ہو جائے گا۔ دوسری طرف موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم بطور ذمہ دار شہری انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہونا اور برفانی تودوں کے خطرے والے علاقوں میں جانے سے گریز کرنا ہماری اپنی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ وہیں حکومت اور انتظامیہ کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ برف باری سے ہونے والے نقصانات کا فوری اور شفاف جائزہ لے کر متاثرین کو معقول معاوضہ فراہم کرے، تاکہ ان کھٹن ایام میں مصیبت زدہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہو سکے اور انہیں راحت کی سانس نصیب ہو۔
(مدرس گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول زوہامہ چاڈورہ )