عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے منگل کو ایوان میں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر بحث کے دوران جموں و کشمیر اسمبلی کی بڑھتی ہوئی بے اختیاری پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے باوجود منتخب نمائندوں کو اختیارات کے استعمال میں دشواریوں کا سامنا ہے۔تاریگامی نے کہا کہ اگرچہ ایل جی کے خطاب میں سات سال بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات اور عوامی مینڈیٹ کا اعتراف موجود تھا، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایوان خود کو اختیارات سے محروم محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ وزراء کی طرح اس پورے ایوان کو بھی بے اختیار ہونے ک
ا احساس ہے جبکہ مختلف پارٹیوں کے ممبران نجی طور پر اعتراف کرتے ہیں کہ افسران عوامی نمائندوں کی بات تک سننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف منسٹر ایک آل پارٹی میٹنگ بلائیں تاکہ اس بات پر غور ہو سکے کہ تاریخی مینڈیٹ کے باوجود اسمبلی کیوں کمزور ہو رہی ہے اور خطے کو بااختیار بنانے کے عمل میں تاخیر کیوں ہے۔ تاریگامی نے جموں و کشمیر کے نازک ماحولیاتی توازن، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور نوجوانوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بے روزگاری کی شرح ملک کی نسبت بہت زیادہ ہے، اور حکومت کو روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ ریزرویشن کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ محروم طبقات کا حق ہے، مگر اس عمل میں میرٹ کو نظر انداز نہ کیا جائے، ورنہ صورتحال بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریزرویشن کی ازسرنو تنظیم پر ایوان میں مفصل بحث ہو اور حکومت واضح کرے کہ تشکیل شدہ کمیٹی کی رپورٹ کب نافذ ہوگی۔ تاریگامی نے حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارروائیاں ناکافی ہیں اور متاثرہ کسانوں اور خاندانوں کو فوری مدد فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معمولی یا غیر مصدقہ الزامات پر لوگوں کی گرفتاریوں اور ہراسانی سے سیکورٹی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
پی ایس اے کے تحت افراد کی گرفتاری اور ایک رکن اسمبلی کی حراست پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر ضروری نظربندیاں طویل نہیں ہونی چاہئیں اور بیرونِ جموں و کشمیر رکھے گئے افراد کو واپس لایا جائے۔ تاریگامی نے غیر قانونی تعمیرات کے نام پر ہونے والی توڑ پھوڑ پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ ہر کارروائی قانون کے مطابق، نوٹس اور مؤقف سننے کے بعد ہونی چاہیے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ہندوستانی جمہوریت کا امتحان سمجھ کر چلنا چاہیے، احسان نہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عوامی نمائندوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے، اور سرکاری خطابات میں کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
تاریگامی نے آل پارٹی میٹنگ اور ریزرویشن پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا