عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی (NLU) کے قیام کا مطالبہ منگل کو جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں گونج اٹھا، جہاں بی جے پی اراکین اسمبلی نے اس معاملے پر احتجاج کیا۔
سوالیہ گھنٹہ شروع ہوتے ہی بی جے پی اراکین اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور جموں کے لیے لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔
بی جے پی رکن اسمبلی سلاتھیا نے کہاجموں میں طلبہ سڑکوں پر ہیں اور نیشنل لا یونیورسٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لوگوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ہم لا یونیورسٹی کے قیام کے خلاف نہیں ہیں، لیکن آپ کو جموں میں بھی ایک یونیورسٹی قائم کرنی چاہیے۔
دیگر بی جے پی اراکین اسمبلی نے بھی سلاتھیا کی حمایت کرتے ہوئے مطالبے کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
اس دوران کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بٹ نے ایوان میں پلے کارڈز لانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی کے وقار اور ضابطے کے خلاف ہے۔
پیپلز کانفرنس کے رکن اسمبلی سجاد لون نے بی جے پی اراکین پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل لا یونیورسٹی کوئی مرکزی نہیں بلکہ ایک ریاستی یونیورسٹی ہے۔
انہوں نے کہا اس کا بجٹ محض 50 کروڑ روپے ہے۔
علاوہ ازیں، ایوان میں کشمیریوں کو ہراسانی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جسے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی مبارک گل اور پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے اٹھایا ـ
جموں کے لیے نیشنل لا یونیورسٹی کا مطالبہ، کشمیریوں کو ہراسانی کا معاملہ اسمبلی میں گونجا، سجاد لون کا بھاجپا اراکین پر طنز